شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / عبدالولی ایڈوکیٹ اور چترال کے مسائل

عبدالولی ایڈوکیٹ اور چترال کے مسائل

عبدالولی ایڈوکیٹ اور چترال کے مسائل

تحریر: محمد کوثر ایڈوکیٹ
ھمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ وفاق سمیت صوبےمیں مسلم لیگ ن جیت رہا ہے ایسے صورت حال میں یہ چترال کی بدقسمتی ہوگی کہ ہم صوبےمیں اپوزیشن کا نمایندہ بھیج دیں۔
ھمیں یہ بات ذھن نشین کرلینا چاہیے کہ مسلم لیگ ن کی چترال میں کوئی منتخب نمایندہ نہ ہونے کے باوجود 139 ارب روپے کے میگاپراجیکٹ لانچ کیے۔آج ہم بجلی سے مستفید ہورہے ہیں اور بلاروک ٹوک لواری ٹنل سے سفر کررہے ہیں۔اگر خدانخواستہ ہم کسی بھی غلط پروپیگنڈے میں آکے نوازشریف کے ان دونوں امیدواروں کو کامیاب نہ کراسکے تو شاید ان امیدواروں کی صحت پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے چترال کے وفاشعار عوام کے بارے ملکی سطح پر منفی تاثر پیدا ہوسکتا ہے اور یوں آنے والی حکومتیں ہماری طرف دلچسپی سے توجہ نہ دے پائیں۔
ھمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے تعلیمی مسائل سمیت صحت ،جنگلات و دیگر محکموں اور انفراسٹرکچر پر خصوصی طور پر کام کرنا ہے اور 18 ویں ترمیم کے تحت یہ تمام شعبہ جات صوبے کے ماتحت ہیں۔امیرمقام صاحب کا وزیراعلی بننے کی صورت میں عبدالولی ایڈوکیٹ چترال کے لیے بہتریں انتخاب ہے۔
ھمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاھئے کہ 2015 کے سیلاب اور زلزلے میں میاں صاحب 19 ہزار چیک ایک ایک لاکھ دو دو لاکھ کی صورت میں امداد نہ فرماتے تو ہم کتنے مشکلات میں گھرے رہتے۔ممکن تھا کہ قرضے بھی معاف ہوتے مگر اس وقت کی صوبائی حکومت چترال کے ان مسایل کا ادراک نہیں کیا اور آفت زدہ قرار نہ دینے کی وجہ سے غریب عوام کے قرضے قانونی پیچیدگی کی وجہ سے معاف نہ ہوسکے اگر خدانخواستہ 2015 کے آفات سماوی کی طرح واقعات رونما ہویے اور ہم صوبے میں حزب اختلاف کا نمایندہ بھیجنے کی وجہ سے مزید مشکلات میں گھر سکتے ہیں۔
اپر چترال کے عوام سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔حاجی غلام محمد صاحب ،مولانا ہدایت الرحمن صاحب ودیگر امیدوراں ہمارے لیے قابل صد احترام ہیں اس کے علاوہ تمام قومیتیں مثلاً زوندرے قبیلہ،سادات خانداں یا کسی بھی مسلک سے متعلقیں ہمارے لیے تاج کا درجہ رکھتے ہیں مگر اس وقت چترال اپر جن مسایل سے دوچار ہے اس صورت حال میں مذھبی یا نسلی تعصبات سے بالاتر ہووکے کسی بھی بھی ناخشگوار صورتحال کی وجہ سے انفرادی بائی پاس روڈ اپنی مدد آپ کے تحت بنانے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔اپر چترال کے دیہات کے ناگفتہ بہ روڈز پل لوکل ہسپتال/BHU’s وغیرہ بروقت بننے کے لیے اپر چترال کے عوام کو حکمت و دانش سے کام۔لینا ہوگا۔
لوئر چترال خصوصاً ٹاون مسایل کا آماجگاہ بن چکا ہے ۔ ٹاوں چترال کا دل ہے تمام ضلع روزانہ چترال آتے جاتے رہتےہیں۔یہاں پینے کے لیے پانی خصوصی طور و ہسپتال کی صورت حال کے علاوہ دیگر ایشوز پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیے بغیر مسایل حل نہیں ہوسکتے۔اگر عبدالولی ایڈوکیٹ حکمران جماعت کا نمایندہ صوبائی اسمبلی میں موجود ہوا تو یقینا چترال کیبھرپور نمایندگی کرینگے۔
ھمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے اورغوچ سے لیکر سیں لشٹ تک اور چمرکن سے لیکر کجو تک کے عوام کا کوئی بھی دیرینہ مسلہ حل نہیں ہوا ہے ایسے صورتحال میں عبدالولی ایڈوکیٹ ایک طاقتور آواز ہیں جو پینے کے پانی سے لیکر لنک روڈز وغیرہ حل کرنے میں مددگار ثابت ہونگے۔
تحصیل گرم چشمہ کے عوام کو معلوم ہے کہ دو سال پہلے کے تودہ گرنے پر امیرمقام صاحب پھر ماروی میمن خصوصی طور پر تشریف لایے تھے اس کے علاوہ گرم چشمہ کے روڈ کا افتتاح وفاقی حکومت کی جانب سے شہزادہ افتخارالدیں نے کیا ہے اسی طرح سیلاب کی وجہ سے گرم چشمہ سب سے زیادہ متاثر ہوچکا تھا ایسے کسی بھی مشکل میں حکمران جماعت کے طور پر بھی عبدالولی ایڈوکیٹ موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یقیناً سلیم خاں صاحب ہمارے لیے انتہائی محترم ہیں مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس بار بھی صوبے میں پی۔پی۔پی کی حکومت بنتے دیکھائی نہیں دے رہی۔اس کے علاوہ چترال کے عوام ماضی میں سلیم خان صاحب کے ساتھ دیتے آیے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ اب کی بار گرم چشمہ کے عوام چترال ٹاوں اور کوہ کے ساتھ کھڑے ہوکر بھائی چارے کا ثبوت دینگے۔
تحصیل دروش خصوصاً اورسون میں سیلاب کی وجہ سے جو تباھی ہوئی امیر مقام صاحب پہلے شخص تھے جو وہاں پہنچے اور متاثریں میں چیک تقسیم کیے۔ایسے کسی بھی مسلے کی صورت میں صوبے میں عبدالولی ایڈوکیٹ سے بہتر شخصیت کم ازکم مجھے نظر نہیں آرہے ہیں۔
لہذا وادی کے عوام سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ ووٹ صرف اپنے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے دیں اور "شیر” کی نشان پر مہر لگائیں۔۔۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔
Facebook Comments