شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جشن شندور، بیٹھنے کی سہولت کی فقدانیت اور کراچی کے مہمانوں کی شکایت

جشن شندور، بیٹھنے کی سہولت کی فقدانیت اور کراچی کے مہمانوں کی شکایت

ہر سال کی طرح یہ امسال بھی جشن ِشندور حسب روایت انتہائی جوش و خروش اور شور شرابے کے ساتھ منایا گیا. جشن میں مختلف قسم کی رنگ برنگ تقریبات کا انعقاد ہوا. پاک فوج کے پیراگلائڈرز نے نہایت ہی مہارت و بہادری سے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے شائقین کو بیحد محظوظ کیا. جشن کا اختتام گلگت اور چترال کی پولو ٹیموں کے درمیان پولو مقابلے کی صورت میں ہوا. جس میں چترال نے گلگت کو بڑی آسانی سے پانچ گولوں کی برتری سے شکست دے کر جیت کا سہرا اپنے سر باندھنے کے کئی سالہ تسلسل کو برقرار رکھا فلک شگاف پہاڑوں میں گھرے ہوئے، سطح سمندر سے بارہ ہزار فٹ بلند دنیا کے اس بلند ترین جُنالی( پولو گراؤنڈ) میں کھیلے جانے والے دلچسپ پولو میچ سے لطف اندوز ہونے کے لئے شائقینِ پولو پاکستان بھر سے بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں. ان میں جوان, بوڑھے, پنجابی، پختون اور مہاجر سبھی قسم کے مختلف نسل و رنگ کے افراد ہوتے ہیں. پیسے جوڑ جوڑ کر سیاحت کے یہ شوقین جہاں ایک طرف اپنے شوقِ سیاحت کو تسکین بخشتے ہیں وہاں دوسری طرف کچھ دنوں کے لیے ٹھنڈے علاقوں کا رُخ کرکے گرمی سے بھی نجات حاصل کرتے ہیں. یہ نو جولائی کی ایک خوشگوار، مگر قدرے خنکی آلود صبح تھی. فاینل میچ دیکھنے کے لئے جاتے ہوئے راستے میں بروک ( لاسپور) کے مقام پر ایک ہوٹل نما شئی میں ہم ناشتے کے لئے رُک گئے. قریب دیکھا تو چند مختلف العمر افراد پر مشتمل شہرِ قائد کے باسیوں کا ایک ٹولہ شندور سے واپسی کے سفر میں ناشتہ لینے اور کچھ دیر سستانے کی غرض سے اِس ہوٹل نما شئی کی چٹائیوں پہ بیٹھ کر گپیں ہانک رہا ہے.. علیگ سلیگ ہوتے ہی میں نے گلگت چترال کا فائنل مقابلہ دیکھے بغیر واپسی کی وجہ دریافت کی .. نہایت ہی شستہ اور نفیس اردو میں اُن میں سے ایک پینتالیس چھیالیس سالہ شخص نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے جواب دیا کہ "ارے بھائی جب وہاں صحیح طریقے سے میچ دیکھ ہی نہیں سکتے تو وہاں رُک کر خواہ مخواہ کی خواری کا کیا فائدہ؟ اب ہر بندہ بے ہنگم ہجوم کے بیچ میں گھس گھس کر پاؤں کی انگلیوں پہ کھڑے سر اُٹھا اُٹھا کر میچ دیکھنے کی صبر آزما مشق تو نہیں کر سکتا..وہاں میچ دیکھنے کے لئے بیٹھنے کی جگہ کافی ہے اور نہ ہی بندہ کھڑا ہو کر سکون سے میچ دیکھ سکتا ہے”.. مزید کُریدنے پر دوسری جانب تشریف فرما بابا جی تقریباً پھٹ پڑا.. ” چترال سے اٹھارہ ہزار میں گاڑی اسپیشل کراکر شندور پہنچنے کا رتی برابر مزہ نہیں آیا . شندور پہنچ کر بھی پولو مقابلہ براہ راست دیکھنے کی آس ہی دل میں لیے واپس آ رہے ہیں.. حالانکہ وہاں شندور میں پولو میدان کے چاروں طرف جگہ بہت ہے اگر انتظامات کئے جائیں تو آئے ہوئے سارے لوگ بآسانی میچ دیکھ سکتے ہیں ” اللہ اللہ کرکے ہم میچ شروع ہونے سے ٹھیک دو گھنٹہ قبل شندور پولو گراؤنڈ پہنچ گئے جہاں ایک طرف کچی سڑکوں میں پُرمشقت سفر جھیل کر یہاں پہنچنے والے تماشائیوں کی بڑی تعداد جمع تھی وہاں دوسری طرف اِنہیں بیٹھنے بٹھانے کا انتظام تقریباً ناگفتہ بہ تھا. حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو سہولت دینے کی غرض سے منظم منصوبہ بندی کے تحت تھوڑی سی بھی توجہ و محنت ہو جائے تو تمام لوگوں کو بیٹھ کر اور کھڑے ہو کر میچ انجوائے کرنے کا موقع بسہولت میسر آ سکتا ہے. ظاہر ہے کہ "انتظامات” میں صرف وی آیی پیز کی راحت و سہولت کو مدنظر رکھا جائے گا تو پھر ایسا ہی ہو گا جیسے شندور میں کئی سالوں سے جشن شندور کو کامیاب بنانے والے عام شائقین کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے.. یوں وہاں پہنچتے ہی ہم نے قدرے بہتر جگے کی تلاش میں گراؤنڈ کا طواف شروع کیا. ہمارا مطمح نظر یہی خیال تھا کہ کوئی ایسی پوزیشن نصیب ہو جہاں سے کھڑے ہو کر ہمیں کم از کم پورے نہ سہی، آدھا گراؤنڈ ہی نظر آئے. اچھی خاصی خاک چھاننے کے بعد نسبتاً ایک بہتر جگہ نظر آئی جہاں سے کھڑے ہو کر کسی حد تک پولو مقابلہ دیکھا جا سکتا تھا.لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جب ہمارے سامنے والے تماشائی جوش میں کھڑے ہوتے تو پیچھے سے ہمیں سامنے والوں کے صرف سر اور ٹوپی کا پچھلا حصہ نظر آتا بس. آخر ضرورت ایجاد کی ماں کیا، میرے خیال میں باپ بھی ہے اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں نے پانچ چھ پتھر ایک دوسرے کے اوپر رکھ اُن کے اوپر کھڑے ہو کر میچ دیکھنا شروع کیا..اب کبھی پتھر گرتے تو کبھی میں.. یوں ” انہدام و تعمیر” کے اس کشمکش میں ہم نے میچ دیکھنے کی اذیت مکمل کی… ادھر میچ کے دوران جب شندور کے تعارف میں اسٹیج سے بار بار بتایا جا رہا تھا کہ اس پولو گراونڈ میں کھیلے جانے والے پولو مقابلوں کی تاریخ دو سو سالہ پُرانی ہے اور جنرل ضیاء کے دور سے یہ مقابلے سرکاری سرپرستی میں جاری ہیں.. تو میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی گراؤنڈ کے چارے طرف شائقین کے بیٹھنے اور میچ دیکھنے کے لیے کافی جگہ نہ بنایا جانا سوالیہ نشان ہے..عارضی سہی، لیکن کوئی مناسب انتظام تو ہو.. اِس کی کل ملا کر دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں یا تو شندور گراؤنڈ کے لیے فنڈ ریلیز نہیں ہوتا یا پھر ریلیز شُدہ فنڈ شندور پہ لگتا نہیں. بقول کسی منطقی دونوں ہی صورتیں غلط اور قابل اصلاح ہیں… بہرحال کراچی کے مہمانوں کی شکایت بجا ہے..اُن کی شکایت کا ازالہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگلے فیسٹیول میں کراچی کے مہمان میچ دیکھے بغیر نہ جاییں

Facebook Comments