شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ایوانِ اقتدار سے اڈیالہ تک

ایوانِ اقتدار سے اڈیالہ تک

مسلم لیگ ن کے تا حیات قائد میاں نواز شریف صاحب اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ از خود گرفتاری دینے کے لیے کل پاکستان پہنچ گئے اور رات گیے اُنہیں بیٹی کے ہمراہ اڈیالہ جیل بھی منتقل کیا گیا. اگر چاہتے تو میاں صاحب بھی "کمر درد” کا بہانہ نہ سہی، شاہراہ حیات پر پچاس سال سے شریکِ سفر رہنے والی موت و حیات کے کشمکش میں مبتلا اپنی وفادار بیوی کلثوم نواز کی انتہائی خراب صحت کو بنیاد بنا کر ملک سے باہر سکون کے ساتھ بیٹھ کر اچھے حالات کا انتظار کر سکتے تھے. لیکن ایسا نہیں کیا. یقیناً ان کے اس اقدام سے جہاں ملک میں جمہوری قوتوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے وہاں خود میاں صاحب کے سیاسی قد کاٹھ میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے. یقیناً میاں صاحب کا یہ کردار اِن کے ماضی کے گناہوں کا مکمل نہ سہی ، کسی حد تک کفارہ ضرور ہو گا. منطقی موشگافیوں ، عقلی دلائل، دستاویزی شواہد اور واقعاتی حقائق کو ملا کر بھلے کچھ بھی نتیجہ اخذ کیا جائے مگر اس حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہے کہ میاں صاحب نے اپنے اِس آخری دورِ حکومت میں میں پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی مقدور بھر سعی کی ہے..یہ کہنا اگرچہ کافی مشکل ہے کہ میاں صاحب کا دامن مالی کرپشن سے پاک و صاف ہے لیکن یہ دعویٰ چنداں مشکل نہیں کہ میاں صاحب نے اپنے اِس آخری دورِ حکومت میں رُو بہ انحطاط ملکی معیشت کو سہارا دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا .. بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ اور کراچی کی خراب صورتحال ایسے بڑے مسائل تھے جنکے اثرات کسی نہ کسی طرح ہر پاکستانی کو بُری طرح متاثر کر رہے تھے. میاں صاحب اور کچھ نہ بھی کرتے،صرف اِن مسائل کا حل بھی میاں صاحب کے کردار کو بتانے اور سراہنے کے لیے کافی ہوتا.. ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ میاں صاحب کو اپنی پالیسیوں کی تنفیذ اور اپنے منشور پر عملدرآمد کے لیے موقع دیا جاتا مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میاں صاحب کو چین و سکون سے حکومت نہیں کرنے دیا گیا ابھی حکومت دو سالہ بھی نہیں ہوئی تھی کہ اِس دودھ پیتی حکومت کے خلاف "سازشیں” شروع ہوئیں. پھر میاں صاحب کی حکومت کو گرانے کے لیے کوششوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چلا، چلتا رہا آخرکار یہ سلسلہ میاں صاحب کو اڈیالہ پہنچانے کی صورت منتج ہوا. دو ہزار ایک سے میری شعوری زندگی کا آغاز ہوا ہے تب سے لے کر آج تک جتنے بھی حکومتی ادوار گزرے ہیں اُن میں میاں صاحب کا حالیہ ساڑھے چار سالہ دور قدرے بہتر رہا ہے . ملک کی معاشی ترقی، سول بالادستی اور گڈ گورننس کے لیے میاں صاحب نے تسلسل کے ساتھ جو کوششیں کی ہیں اُنہیں نہ سراہنا یقیناً زیادتی ہے. آج اگر میاں صاحب پھسے بھی ہیں تو اپنی حماقت در حماقت کی وجہ سے ہی پھسے ہوئے ہیں. اِس میں جہاں غیروں کی تہہ در تہہ چالوں کا کمال ہے وہاں خود میاں صاحب کی فاش غلطیوں کو نظر انداز بھی کرنا مشکل ہے. امید ہے کہ میاں صاحب آئندہ کے لیے اپنی اِن غلطیوں سے سبق حاصل کریں گے. ایک بات ضرور ہے کہ میاں صاحب کے جیل جانے کے بعد میری طرح بہت سارے نیوٹرل لوگوں کی بے غرض ہمدردیاں اب میاں صاحب کے ساتھ ہیں. امید ہے جس طرح آج میاں صاحب نے واپسی کا انتہائی درست اور بروقت فیصلہ کر کے اپنے مخالفین کو حواس باختہ کرکے رکھ دیا ہے اسی طرح اپنے حالیہ اسٹانس پہ بھی قائم و دائم رہ کر سابقہ غلطیوں کا کفارہ بھی ادا کریں گے اور آئندہ کے لیے بہترین لیڈر بننے کے ثبوت بھی فراہم کریں گے..

Facebook Comments