شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / "عورت کا گھر کون سا”

"عورت کا گھر کون سا”

بچی کی پیدائش جب ہوتی ہے اس وقت سے ہی اسے دوسرے گھر کی امانت سمجھا جاتا ہے۔ سب کے دل میں یہی بات ہوتی ہیں کہ ایک دن یہ اپنے گھر چلی جائے گی ۔اور بچپن ہی سے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ جس گھر میں اس کی پیدائش ہوتی ہے جہاں وہ کھیل کود کے بڑی ہو جاتی ہیں وہ گھر اس کا نہیں ہے ۔ عورت کی زندگی باپ کے گھر سے شروع ہوتی ہے اور شوہر کے پر ختم ہوتی ہیں ۔لیکن پھر بھی اس کا کوئی گھر نہیں ہوتا ۔ایک لڑکی جب اپنے ماں باپ کے گھر میں ہوتی ہے تو وہ ان کی خواہش سے اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہے ان کی عزت کا خیال رکھتی ہے اور بھائیوں سے خود سے بھی زیادہ محبت کرتی ہے ان کی ہر چھوٹی بڑی بات کا خیال رکھتی ہے ان کا کام اپنا کام ‏ سمجھ کے کرتی ہے۔ اپنا من مار کر اپنے باپ کامن رکھتی ہے۔ اپنے دل میں کھیلتے محبت کے پھول کو اپنے ہاتھون سے باپ کی عزت کی خاطر ختم کر دیتی ہے، پر پھر بھی اس گھر کے لوگوں سے لے کر دیواروں تک اس لڑکی کو انجام قرار دیتی ہیں اور وہ خود کو اجنبی محسوس کرتی ہے۔ اور پھر اسی طرح جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو اس سے کسی غیر مرد کے ساتھ اس کے گھر رخصت کی جاتی ہے۔ اس وقت اس لڑکی کے دل میں بے شمار ارمان ہوتے ہیں اور وہ یہ سوچتی ہے کہ شاید اس کے یہ ارمان اس کے اس گھر میں جس کے بارے میں بچپن سے وہ سنتی آرہی ہے پورے ہونگے اور وہ ان ہیں ارمانوں کو لے کر ایک غیر بندے کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ نئے ماحول میں چلی جاتی ہے، اور پھر کچھ مرد پہلی ہی رات لڑکی پر یہ واضح کرتے ہیں کہ جس گھر میں وہ بہت سے ارمان لے کر آئی ہے وہ اس کا ہے ہی نہیں اور کچھ لڑکیوں کو بعد میں یہ احساس ہوتا ہے کہ جس گھر کو وہ اپنا گھر سمجھ کر رہتی ہیں وہ ان کا ہے ہی نہیں ۔ ایک عورت مرد کے لئے بے شمار دکھ سہتی ہے اسے صاحب اولاد بناتی ہے لیکن پھر بھی شروغ سے لے کر آخر تک اس کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ جس گھر میں وہ پیدا ہوتی ہے وہاں اسے پرایہ سمجھتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ ان کا خون ہے ان سے پیدا ہوئی ہے ان کے ساتھ راہ کرچلنا بولنا سیکھا ہے جبکہ وہ گھر کبھی اسکا نہیں ہوا تو سسرال اسکی کیسے ہو سکتی ہے ۔شروع میں تو سسرال شوہر کا گھر ہوتا ہے اور سسرال والوں کی ہوتی ہے جہاں اسے صرف اپنے خدمت کے لیے لایا جاتا ہے اسے دن رات کام کرنا پڑتا ہے پھر بھی کوئی اس سے خوش نہیں ہوتا اور اسے دوسرے گھر کی بیٹی سمجھی جاتی ہے۔ پھر اتنے دکھ سہنے کے بعد جب اس کے بچے بڑے ہوتے ہیں جن کو وہ بڑے ناز نخروں سے پالتی ہے ان کے ہر چھوٹے بڑے خارش کا خیال رکھتی ہیں ان کے نخرے اٹھاتی ہے وہی اس بوڑھی زندگی کی دکھون سے تھکی کٹپتلی کا بوجھ اٹھانے سے انکار کرتے ہیں بیویوں کے پیار میں اندھی ہو کر ماں کو گھر سے نکالنے کے لیے تیار ہوتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ان کے بچے ان کو گھر سے نکال دیں گے، اس کے اپنے ہی جگر کے ٹکڑے اسے اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ اس کا کوئی گھر نہیں ۔سنا ہے زندگی بہت مختصر ہوتی ہے پھر درد بے حساب کیوں ؟یہ ظلم عورت کے ساتھ ہی کیوں ؟عورت ایک سمندر ہے جو اپنے اندر بہت سے غم چھپا کے رکھتی ہیں اور عورت کی زندگی ایک بہار ہے جو زندگی میں بے شمار قسم کے رنگ کے لاتی ہے جس سے جس سے پیار کرتی ہے اس بے جان وار دیتی ہیں حالات جیسے بھی ہوں ہمت حوصلے سے کام لیتی ہے ہر پریشانی کا مقابلہ کرتی ہے مرد کا ہر حال میں ساتھ دیتی ہے ماں باپ کی عزت کا خیال رکھتی ہے اور اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرتی ہے لیکن پھر بھی لڑکی کا کوئی اپنا نہیں ہوتا۔جو اپنے ماں باپ کی عزت کی خاطر اپنا من مارتی ہے اور شوہر کی عزت کا پاس رکھتی ہے اسے آج بھی غیرت کے نام پر قتل کر دیا جارہا ہے۔ حوا کی بیٹیاں آج بھی محفوظ نہیں ہیں ۔آج بھی زمانہ اس کے خلاف ہے۔ آج بھی مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں ۔اس کی صبر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور آج بھی اسے یہ احساس دلاتے ہیں "عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا” زندگی تجھ پہ بہت غور کیا تو رنگین خیالوں کے سوا کچھ بھی نہیں…..

Facebook Comments