شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال سے ایم ایم اے کی کامیابی اور چند معروضات.

چترال سے ایم ایم اے کی کامیابی اور چند معروضات.

ملک بھر کی طرح چترال میں بھی پچیس جولائی کے بطن سے برآمد شدہ انتخابی ہنگامہ تقریباً اختتام پذیر ہو چکا ہے. انتخابی معرکہ کامیابی سے سَر کرنے والے متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبد الاکبر چترالی، مولانا ہدایت الرحمن اور مخصوص سیٹ پہ منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے وزیر زادہ لوگوں سے اپنے اپنے گھروں میں مبارکبادیں وصولنے کے بعد ووٹرز کا شکریہ ادا کرنے قریہ قریہ، گاؤں گاؤں گھوم رہے ہیں. انتخابات جیتنے کے بعد تازہ بہ تازہ ووٹرز کا شکریہ ادا کرنے کی روایت اگرچہ کافی پرانی ہے لیکن اِن انتخابات کے بعد اس "رسمِ شکریہ” کی بجا آوری اس وجہ سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہو چکی ہے کہ شاید چترال کی تاریخ میں پہلی دفعہ کامیاب ممبران اتنی بڑی تعداد میں ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں . جیتنے کے بعد اپنے تمام ووٹرز کی توقعات پر پورا اترنا کسی بھی ممبر کے لیے تقریباً ناممکن ہوتا ہے. کم از کم جیتنے کے بعد سب سے پہلا کام ہی یہ ہونا چاہیے کہ تمام یوسیز میں جا کر اپنے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا جائے. کیونکہ جیتنے کے بعد ووٹرز کے پاس اظہارِ احسان مندی کے لیے نہ جانا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ ووٹر کی عزت و اہمیت بس ووٹ پول کرنے کے وقت تک ہوتی ہے. عام سیاسی پارٹیوں کے ممبران کے برعکس مذہبی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے ممبران ووٹ لینے کے بعد لوگوں کے پاس جاکر شکر گذاری کی زحمت اُٹھانے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے. شاید یہ اِس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ حلقے کے لوگ "استحقاق” کی بنیاد پر اِنہیں اپنے ووٹوں سے نوازتے ہیں. حالانکہ ایسا نہیں ہے. اب لوگ ووٹ دینے کے بعد پانچ سال تک اپنے منتخب نمائندے کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے ہیں. سیاست کے میدان میں رہنا، اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتے رہنا ہے تو پھر عوام کالانعام کہہ کر آنکھیں بند کرکے آگے بڑھنے کے بجائے میدان ِ سیاست کے بنیادی اور لازمی تقاضوں کو پورا کرنا ہو گا. مجھے یاد ہے کہ دو ہزار دو میں مذہبی جماعتوں کی کامیابی کے بعد یونین کونسل ایون میں شکریہ ادا کرنے کے لیے جو جلسہ منعقد ہوا تھا اُس میں مولانا عبد الرحمن تشریف نہیں لائے تھے. اِس بار بھی مولانا عبد الاکبر چترالی ایّون کے بازار میں تشریف لاکر اہلیان ایون کا دل سے شکریہ ادا کرتے نظر آئے تاہم اِن کے ہی جتنے ووٹ لینے والے مولانا ہدایت الرحمن ایّون کے اوپر سے پرواز کر کے پشاور تو پہنچ گئے لیکن ایون آ کر لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھا. انتخابات میں جیتنے والے کے مینڈیٹ کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ایک بہترین اخلاقی قدر بھی ہے اور اچھی روایت کی پاسداری و آبیاری بھی. مہذب معاشروں میں اکثریت کی رائے کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا اور برتا جاتا ہے. لیکن حالیہ انتخابات کا ایک افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ مذہبی جماعتوں کی کامیابی کا سنتے ہی ہمارے بعض دوست عجیب و غریب، بلکہ قبیح اور بیہودہ قسم کے طرزِ عمل کا اظہار سرِفیسبک کرتے رہے. ایک صاحب نے لکھا کہ "لوئر چترال کے لوگوں کو شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے مولویوں کو ووٹ دیا” ایک اور صاحب کا کہنا تھا کہ "مدرسے کے طالب علم چترال کو پانچ سال کے لئے تاریکی میں دھکیل کر چلے گئے” مشتے از خروارے کے طور پر انہی دو مثالوں کے یہاں ذکر پر اکتفاء کیا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اِن دوستوں نے فیس بک میں بڑھ چڑھ کر اس سے بھی زیادہ واہیات قسم کی گفتگو میں حصہ لیا. قبل ازیں بلدیاتی انتخابات کے بعد بھی مخصوص تاریک قسم کی زہنیت کے حامل ان دوستوں نے بڑی بےچینی و اضطراب کا مظاہرہ کیا تھا. حالانکہ الیکشن لڑنے والی کسی بھی پارٹی کا مطمح ِ نظر جیت ہی ہوتا ہے. اس کے لیے ہر پارٹی زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کرتی ہے. متحدہ مجلس عمل نے بھی ایسا ہی کیا. اسی طرح ایک ووٹر کی بھی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس پارٹی اور نمائندے کو نمائندگی کے لئے مناسب اور بہتر سمجھے اُسے اپنا ووٹ دے . اب یہ کیا بات ہوئی کہ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کو تو محترم ٹھہرایا، اور باور کرایا جائے اور ایم ایم اے کو ووٹ دینے والوں کو بیوقوف اور جاہل… نظریے اور مقصد کی بنیاد پہ ووٹ دینے والا ہر شخص محترم ہوتا ہے. کسی بھی ایک شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے جیسے دوسرے ووٹروں کا مذاق اُڑایے.اسی طرح ہمارے بعض دوستوں کی ناراضگی اور پریشانی اس بات پر رہی کہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت بن رہی ہے اور ہم نے نمائندے ایم ایم اے کے بھیجے. اس پر بھی اہلیان چترال کو مطعون کرنا اس لیے غلط ہو گا کہ متحدہ مجلس عمل کے احیاء کے بعد صوبے میں ایسی لہر اُٹھتی ہوئی محسوس ہوئی تھی کہ صوبے میں حکومت متحدہ مجلس عمل کی بنے گی. اس لحاظ سے یہاں کے ووٹرز کا فیصلہ بالکل دانشمندی پر مبنی تھا. یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آیی کی منہ زور سونامی کے آگے بند باندھنے میں مجلس عمل بالکل ناکام رہی. ان انتخابات کا ایک مثبت اور روشن پہلو یہ رہا کہ پیسے اور برادری کے زور پر ووٹ لینے والے "حضرات ” اس بار جیت کی راہ ہی تَکتے رہے. اہلیانِ چترال کا ایسے لوگوں کو شکست سے دوچار کرنا ایسا قابلِ تعریف کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے.

کیوں کہ جہاں ایک طرف ووٹ خریدنا جمہوریت کے روح کے منافی ہے وہاں دوسری طرف ووٹ خرید کر اسمبلی پہنچنے والے کسی ممبر سے حلقے کی خدمت کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی. اپنا خسارہ پورا کرتے کرتے مذکورہ ممبر کے پانچ سال گذر جائیں گے. ان انتخابات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ تحریک انصاف مستقبل میں چترال کی ایک بڑی پارٹی بننے جا رہی ہے. تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبد الطیف کا اڑتیس ہزار ووٹ لینا اس بات کا غماز ہے کہ تحریک انصاف نوجوانوں کی انتہائی مقبول و محبوب جماعت بن چکی ہے. اسی طرح اپنے پہلے الیکشن میں ہی چالیس ہزار ووٹ لینا جہاں نوجوان لیڈر اسرار الدین صبور کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے وہاں اسرار صبور کے سیاسی مستقبل کا رُخ بھی متعین کرتا ہے.

Facebook Comments