شہ سرخیاں
Home / پاکستان / ہمیں پیار ہے پاکستان سے

ہمیں پیار ہے پاکستان سے

 ۔جب ایک انسان کے بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور باب سے کام نہیں کرواتے اور صرف اہم معاملات میں باب سے  مشورہ لیا جاتاہے اور باب کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں اور باب بھی کبھی بچہ تھا اس نے بھی اپنے والد کا اسطرح اخترام کیا ھوگا اور یہ قانون فطرت ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک اس طرح جاری رہے گا ایک فوج کا سپاھی اور ایک سکینڈ لفٹنٹ کی زندگی اس طرح شروع ہوتی ہے اور ایک فوجی کی زندگی عزت کرنے سے شروع ہو کر عزت کمانے میں ختم ھو جاتی ہے ۔فوجی کی زندگی میں عزت مرتے دم تک ہوتا ہے اگر اپنے اپ کو فوجی سمجھے چند دن قبل میں نے اپنے بچوں کو چھٹاں گزرنے کے لیے ننہال بھیجا اور میں اکیلا گھر میں رہا جب دفتر سے چھٹی کرکے اپنے گیٹ میں گاڑی کی ہارن بجادی تو نہ بچوں کوپاپا اور نہ چکلیٹ مانگنے کی اواز آٸی نہ کسی نے گیٹ کھولا جب میں گاڑی سے اتر کر بیڈ روم کے اندر داخل ہوا تو جذباتی ہوکر رو پڑا کیونکہ بچوں کی غیر موجود گی میں ایک دن مجھ سے برداشت نہ ھوسکا، کہنے کو تو انسان کا زبان اۤزاد ہے اگر عام انسان یہ کہدیں کہ میں تمام انسانوں سے طاقتور ہوں تو اس کا زبان منہ کے اندر ہے کوٸی ان کا زبان کو بند نہیں کرسکتا ۔اب اۤتے ہیں حقیقت کی طرف میں کیا کہنا چاہتاہوں میں بحثیت وکیل روزانہ اپنے مرضی سے اٹھ کر دفتر چلا جاتا ہوں اور اپنے مرضی سے واپس گھراۤتا ہوں ماہانہ اپنے حثیت سے زیادہ کماتا ہوں اپنے مرضی سے بچوں کو لیکر پھرتا ہوں ماں باب کے بعد بچے دنیا میں سب سے پیارا رشتہ ہوتا ھے تب تک جب وہ چھوٹے ہوں لیکن ہم نے کھبی سوچھا ہے کہ ایک انسان اپنے ماں باب اوربچوں کو چھوڑ کر پہاڑوں گلشیرز اور بیابانوں میں ہمارے لیے 25 کلو سامان اور ساتھ ہھتیار سے لیس ہوکر چوکس ہے نہ سردی نہ گرمی کا پروا ۔جب جنگی محاذ میں ہوتا ہے اس کو یقین ہوتا ہے کہ موت کے ساتھ مقابلہ ہے نہ بچے کا غم نہ بیوی کی بیوہ ہونے کا فکر تمام دنیا مافیہ  سے بے خبر صرف ایک دوست جو جی تھری راٸفل ہوتا ہے سامنے ایک مقصد موت یا ارض پاک کی حفاظت یہ میرے جیسے بزدل انسان کے بس کی بات نہیں جو ایک دن بچوں سے دور نہیں رہ سکتا۔ سلام ہیں ان ماوں کو جنہوں نے ایسے بچوں کو جنم دیے ہیں ۔ جو ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کرتے ہیں ان کے دل میں پہلے اللہ جزبہ پیدا کرتا ہے پھر ان کے بڑوں نے اپنے تربیت کو ان تک منتقل کرکے اۤٸے ہیں ۔۔کہنے کو تو سرکاری ملازم سپاہی کا تنخواہ 20000 ہزار ایک سول کلاس فور کا 50000 ہے وہ اپنے گھر میں سپاہی اگ کے اندر اس کے باوجود وہ اپنے بچوں کو یتیم ۔ بیویوں کو بیوہ اور والدین کو لاولد ۔بناکر ارض پاک کی حفاظت کرتے ہیں ۔جنگ اور دھشت گردوں کے لیے سینہ محتص، زلزلہ سلاب اور قدرتی افات میں ھاتھ پاوں قربان ،سب سے پہلے مدد کے لیے قربانی ان کو ہم کیا دیتے ہیں اپ فوج کو صرف دعاوں کے علاوہ۔ ایک دفعہ میرے سامنے ایک فوجی گاڑی کا ایکسڈنٹ ہوا فوجی جوانان سڑک پر گرتے ہوے کافی دور تک گاڑی ان کو گھسیٹتا رہا اور سارے خون میں لت پت تھے لیکن راٸفل ان کے ھاتھوں سےنہیں نکل سکا جب میں ایک زخمی خون میں لت پت جوان کے پاس پہنچا تو جب ان سے حالت پوچھا تو اس نے بتایا کہ راٸفل کا جارجر نکل گیا ہے پہلے اس کو لے اۤو میں نے نیچے جاکر ایک کھاٸی سے جارجر اٹھایا اور اُپر چھڑکر دیکھا کہ جوان رینگتے ہوئے جارجر کے پیچھے اۤرہا ہے جب جارجر ان کو دیکھایا تو مسکر اتے ہوئے وہ خوش ہوگیا اور ان کو ہسپتال کی طرف لے گیے لیکن بد قسمتی سے فوجی ریٹاٸرڈ ہونے کے بعد ھم پیچھے باتیں کرنا شروع کر دیتے ھیں ریٹارٸر ہونے سےپہلے یا پاور میں موجود جنرل کو ہم فرشتہ صفت کہتے ھیں جب ریٹاٸر ہوتے ہیں تو جسٹس اور جنرل کے خلاف باتیں شروع ہوتی ہے بد قسمتی سے۔۔۔۔۔ ۔پرویز الہیٰ، دنیال عزیز ،فواد چوھدری ،برسٹر سیف ذاھد حامد، ماروی میمن وغیرہ کٸی بار مشرف صاحب کو زندگی بھر باوردی صدر ہونے کا مشورہ دیتے رہے ہیں، مینار پاکستان، مزار قاٸد، ریڈ زون میں جلسہ کرنے اور داتا دربار میں حاظری اور چمن میں پھلوں کے اپر چلنے سے جنرل نہیں بنایا جاتا اس کے لیے گلیشر اور پہاڑوں پر چھ چھ مہنے تک ھاتھ دھوئے بغیر برف کے اندر رہنا پڑتا ھے اور دشمن کے سامنے سینہ تاننے بچوں کی شیرینی بیوی کی جوانی ماں باب کا محبت قربان کرنا پڑتاھے ہم اپنے حاظر سروس اور ریٹاٸرڈ غازیوں پر کسی قسم کے انچ اۤنے نہیں دٸنگے ۔۔۔ ہمیں اپنے پاک فوج کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا ہے ان کی قربانیوں کی وجہ سے اۤج ہم ایک عظیم قوم ہے اور عہد کریں ہم پاک فوج کو دونوں ھاتھوں سے سلام پیش کرٸنگے اور 6 ستمبر کو اپنے پاک فوج کے قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوے پاکستان زنده باد پاک فوج پاٸندہ باد کا نعرہ لگاٸنگے ۔۔۔۔۔۔
Facebook Comments