شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / انصاف کی فراہمی اور نظام کی پیچدگیاں

انصاف کی فراہمی اور نظام کی پیچدگیاں

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر وقاص احمد  ایڈوکیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انصاف کی فراہمی میں پولیس اور عدالت کا اہم کردار ہیں ایک فوجداری  مقدمہ ابتداٸی طور پر ملزم کے خلاف تھانے میں رجسٹرڈ کیا جاتاہے اور Fir درج ھونے کے بعد ملزم اور مدعی دونوں کے حقوق ھیں کسی کے خلاف ایف آئی آر ہونے کے بعد تفتیش اسی تفتیشی عملے کو حوالہ کیا جاتا ہے ہر شخص جس کے خلاف آیف ائی آر ہوتا ہے مجرم نہیں ہوتا اور یہ تفتیشی افسر کی زمداری ہوتی ہے کہ وہ مقدمہ میں غیر جانبداری سے تفتش کریں اگر دوران تفتش کسی ملزم کی بے گناہی ثابت ہو جاے تو تفتیشی افسر کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس بے گناہ ملزم کو چھوڑ سکتا ہے ۔ایک زیر تفتیش مقدمہ میں مجسٹریٹ اور تفتیشی پولیس کی اہم زمداری ہوتی ہے لیکن ہمارے نظام میں پیچیدگیوں کی وجہ سے کبھی ناقص تفتیش کی وجہ سے ملزم چھوٹ جاتا اور بے گناہ کو سزا ہوتی ہے ستم ظرفی یہ بھی ہے کہ جو قانون پارلیمنٹ میں بنایا جاتا ہے وہ سارے انگریزی میں ہوتاہے اور اس قانون میں اسان الفاظ استعمال کرنے کے بجائے لاطینی الفاظ استعمال کیا جاتا ہے بعض ایسے مساٸل بھی ہوتے ھہں جن کے لیے اعلے عدالتوں کے فیصلہ جات یعنی نظیر سے مدد لینا پڑتا ہے لیکن اعلے عدالتوں کے فیصلہ جات میں لاطنی الفاظ اور maxims استعمال کیاجاتا ھے ان فیصلہ جات کو وکلا کے علاوہ اعلے تعلیم یافتہ شحص بھی نہیں سمجھتے ہیں جب فوجداری مقدمہ کو کامیاب کرنے کی تمام زمداری تفتشی افسر پر منخصر ہوتا ہے لیکن تفتیشی افسران کو ہنگو یا سہالہ میں پولیس رول ضابط فوجداری تعیزات پاکستان قانون شہادت اردو میں پڑھایا جا تا ہے اور تفتیشی افسر کی زیادہ تعداد میٹرک پاس ہوتاہھے مزکورہ کتابیں تفتیش کے مکمل مراحل کو پورا نہیں کرتے اور بنیادی قانون انگریزی میں لکھی جاتی ہے اس وجہ سے پولیس افسران کو ان انگریزی کتابوں کو سمجنے میں بہت مشکلات پیش اتی ھے اس طرح ماتحت عدالتوں کا فیصلہ بھی انگریزی میں لکھا جاتا ھے یہاں تک ایس ایچ او کے نام حکم انگریزی میں تحریر کیا جاتا ہے ان فیصلہ جات کو بعض وقت پولیس کے سامنے بھی پیش کرنا پڑتا ہے ا ایک میڑک پاس شخص کو انگریزی سمجھنے میں دقت پیدا ہوتی ہے بعض معاملات میں مظلوم کو بھی انصاف نہیں ملتی اس کے علاوہ اگر ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو جیل بہجھنے یا پولیس ریمانڈ اڈر انگریزی میں تحریر کرتا ہے اس لیے اس حکم کو ترجعمہ کرنے کے لیے کسی وکیل یا پرسکیوٹر کے پاس جانا پڑتا ہے ۔اس وجہ سے یکسان نظام نہ ہونے کی وجہ سے کھی مجرم چھوٹ جاتا ہے اور کبھی بے گناہ کو سزا دی جاتی ہے لہذا انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کے تمام کتابوں اور اعلے اور ماتحت عدلیہ کے تمام فیصلہ قومی زبان اردو میں لکھنا چاہے تاکہ سب کو سمجھنے میں اسانی پیدا ہو اور لوگوں کو انصاف فراھم کیا جاسکیں اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے اس فیصلے پرعمل درامد کرنے سے لوگوں کو انصاف مل سکتاہے اور فوجداری مقدمات کے بابت تمام ایکسٹس قوانین کو بھی ھنگو میں پولیس ٹرنینگ کا حصہ بنایا جائے یا ہر تھانہ میں ایک سینئر وکیل کو لیگل انسپکٹر مقرر کیا جاے تاکہ ایسے پیچدہ قانونی معاملات تھانے کے اندر ہی حل ہوسکیں اور لوگوں کو سستی انصاف تھانے کے اند محیا ہو سکیں اور پارلیمنٹ میں بننے والے تمام قوانین قومی زبان اردو میں تحریر کیا جائے اور ہر شہری کو قانون کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کے لیے اۤسانی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Facebook Comments