شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے یوم شہادت کے حوالے سے چترال میں کانفرنس کا انعقاد کیا

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے یوم شہادت کے حوالے سے چترال میں کانفرنس کا انعقاد کیا

چترال(نذیرحسین شاہ)خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے یوم شہادت کی مناسبت سے اہل سنت والجماعت چترال نے یکم محرم الحرام کوبعد از نماز ظہر کے بعد’’ شہادت فاروقؓ و حسینؓ کانفرنس‘‘منعقد کی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور سیاسی رہنماؤں نے ان ہستیوں کی عظمت اور شان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ ان دونوں ہستیوں کی مبارک زندگی تاقیامت انسانیت کے لئے مشعل راہ اور رشدو ہدایت کا ذریعہ ہے جبکہ شان صحابہؓ کے لئے جان دینا ہرمسلمان کی ایمان کا حصہ ہے۔مقررین نے کہا کہ حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی اور عہد حکومت کی مثالیں ہر کہیں اور ہر وقت اور ہر شعبہ زندگی میں دی جارہی ہیں جوکہ ان کی عظمت کا ثبوت ہے ۔ا نہوں نے کہاکہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک پاکستان میں بھی اگر حضرت عمر فاروقؓ کے نقش قدم پر چلنے والا کوئی حکمران ہوتا تو آج برما ، فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار یہ نہ ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ رسول کریم کی مدنی زندگی کی مثال دینے پر جو حضرات سیخ پاہوتے ہیں ، وہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے مقلد ہیں جس میں کفار سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معاملات طے کئے جاتے تھے اور یہ قابل افسوس بات ہے کہ ان باتوں کا ادراک کرنے والے حکمران اس ملک کو کبھی نصیب نہیں ہوئے ۔ حافظ خوش ولی خان نے کہاکہ اگر خدانخواستہ ملک پر برا وقت آیا تو اہل سنت والجماعت کے جان نثار افواج پاکستان کے شانہ بشانہ لڑنے اور امریکہ وانڈیا کے ساتھ جنگ بدر کا اعادہ کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بعض سرکاری افسر ان اہل سنت والجماعت کی سرگرمیوں سے خائف ہیں لیکن ہم انتہائی ذمہ دار ہیں اور شرپسندوں کو کبھی بھی موقع نہیں دیا اور اپنے پروگرامات کرتے رہے ہیں اور ہمیں تنگ کرنے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو اس کے اچھے نتائج برامد نہیں ہوں گے اور ہم ہر حال میں اسلامی تہوار مناتے اور شان صحابہ بیان کرتے رہیں گے۔ ا س موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے یکم محرم کو پورے ملک میں عام تعطیل کرنے ، ضلعی حکومت کے زیر اہتمام صحابہ کرامؓ کے شہادتوں کے ایام کو منانے کا اہتمام کرنے، مختلف پبلک مقامات کو صحابہ کرامؓ کے ناموں سے منسوب کرنے اور برما کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کا مطالبہ کیا۔کانفرنس سے حافظ خوش ولی ، مولانا سراج احمد ، مولانا اسرار الدین الہلال ،عبدالولی خان ایڈوکیٹ ، قاری خلیل الرحمن ، مولانا عبدالحق رحمانی، مولانا آصف اقبال، مولانا جاوید الرحمن نے خطاب کیا۔

Facebook Comments