شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تاریحی اہمیت کے حامل وادی کیلاش کے واحد بنیادی مرکز صحت بمبوریت میں پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر نہیں ہے۔ BHU کو دیہی مرکز صحت کا درجہ دیا جائے عوامی مطالبہ۔

تاریحی اہمیت کے حامل وادی کیلاش کے واحد بنیادی مرکز صحت بمبوریت میں پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر نہیں ہے۔ BHU کو دیہی مرکز صحت کا درجہ دیا جائے عوامی مطالبہ۔


چترال(گل حماد فاروقی) بین الاقوامی اہمیت کے حامل کیلاش لوگوں کو حکام اہم شحصیات کی آمد اور تقریبات میں رقص اور ثقافتی شو پیش کرنے کیلئے تو بلاتے ہیں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر خود کیلاش لوگوں کو کونسی بنیادی سہولیات دی گئی ہے یہ نہایت کم ہیں۔ وادی کیلاش کے بمبوریت گاؤں میں واحد BHU یعنی بنیادی مرکز صحت میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے ۔ وادی کیلاش میں کیلاش کے علاوہ مسلمان بھی رہتے ہیں جن میں صرف کیلاش لوگوں کی آبادی تین ہزار کے لگ بھگ ہے جو اقلیت میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ 
اس ہسپتال کی مرمت پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائیٹی نے تھی جن کی طرف سے اس ہسپتال میں ڈاکٹر، لیڈی ہیلتھ ویزیٹر او ر دیگر عملہ بھی تھا مگر ان کا پراجیکٹ حتم ہوتے ہی ہسپتال سے ڈاکٹر بھی چلا گیا۔ 
محمد نواز ایک معمر شحص ہے اس علاقے کا پرانا باشندہ ہے اس کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال میں ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم مریضوں کو چارپائی پر ڈال کر چترال ہسپتا لے جاتے ہیں جبکہ کبھی کبھار راستے کی حرابی کی وجہ سے وہ راستے ہی میں دم توڑتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد عدنان جو بیرون ملک مقیم ہے اور گرمیوں میں چترال آتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہے اور اسے RHC میں اپ گریڈ ہونا چاہئے جہاں تین چار ڈاکٹر ہو ان کا مزید کہنا ہے کہ جب بھی کوئی سیلاب یا زلزلہ (قدرتی آفات) آتے ہیں تو میں رضا کارانہ طور پر ان تینوں وادیوں میں فری میڈیکل کیمپ لگا کر مریضوں کا مفت معائنہ بھی کرتا ہوں اور ان کو ادویات بھی مفت دیتا ہوں۔ 
رمیزہ ایک کیلاش گھریلوں خاتون ہے اس نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس ہسپتال میں لیڈ ی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے مسلم اور کیلاش دونوں قبیلوں کے خواتین کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے حاص کر زچگی کے دوران تو مریض کی جان نکلنے کا حطرہ ہوتا ہے رمیزہ نے بتایا کہ اس ہسپتال میں ڈاکٹر او ر خاتون عملہ نہ ہونے کی وجہ وہ اپنے خواتین کو زچگی یا ایمرجنسی کے دوران چارپائی پر ڈال کر چترال لے جاتے ہیں جس میں ان کی جان جانے کا بھی حطرہ ہوتا ہے۔ 
اس ہسپتال میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک پرانا ایمبولنس بھی کھڑا ہے جسے کسی غیر ملکی ڈونر ایجنسی نے عطیہ کے طور پر دیا تھا مگر وہ کئی عرصے سے حراب کھڑا ہے اور استعمال کے قابل نہیں ہے۔ فیصل شہزاد ایک طالب علم ہے اس نے بتایا کہ ہسپتال کا ایمبولنس کافی عرصے سے حراب پڑا ہے اور اسے پارک کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ایمرجنسی پیش آئے تو ہم کیسے اپنے مریضوں کو چترال یا کسی بڑے ہسپتال پہنچائیں گے کم از کم اس دور آفتادہ اور پسماندہ وادی کے واحد ہسپتال میں ایک عدد صحیح حالت میں ایمبولنس تو بھیجنا چاہئے تھا۔ 
مقامی لوگوں نے کہا کہ چھٹی کا وقت آتے ہی یہ ہسپتال بند ہوتا ہے اور اس میں صرف میڈیکل ٹیکنیشن کام کرتا ہے جبکہ ڈاکٹر کی آسامی حالی پڑی ہے۔ اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسرا راللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ چھٹی کے بعد سٹاف اپنے گھروں کو جاتے ہیں اور ڈاکٹر کی پوسٹ حالی ہے جس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ 
آزاد ذرائع نے بتایا کہ کئی ڈاکٹر ز ایسے بھی ہیں جو تنخواہ تو یہاں سے لیتے ہیں مگر وہ پشاور میں بیٹھے ہیں اور بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ لے رہے ہیں اس سلسلے میں DHOنے بتایا کہ ہمارا ایک ڈاکٹر جو چلڈرن سپیشلسٹ ہے وہ پشاور میں عدالتی کیس کررہے ہیں اور ان کے ساتھ چار عملہ اور بھی عدالتی معاملات نمٹا رہے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ عدالت میں روزانہ کیس لگتا ہے تو جواب نفی میں تھا مگر ڈاکٹر کو پشاور میں گھر بٹھانے کا کوئی تسلی بحش جواب نہیں دے سکا۔ 
وادی کیلاش کے عوام صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وادی کی واحد BHU کی اپ گریڈیشن کرکے اسے RHC یعنی رورل ہیلتھ سنٹر کا درجہ دیا جائے جہاں حصوصی طور پر ایک لیڈی ڈاکٹر، ایک سپیشلٹ اور تین میڈیکل آفیسرز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی بھیجا جائے تاکہ مقامی لوگوں کی مشکلات میں کمی آسکے اور ان کو آسانی سے صحت کی سہولیات میسر ہو۔ 
Facebook Comments