شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال کے ایم ۔ایس نے ضلع چترال کے سب سے بڑے ہسپتا ل میں بے انتظامی اور بد نظی کی انتہا کردی ہے۔ضیاء الرحمن انصاف یوتھ ونگ پریذنڈنٹ، چترال

ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال کے ایم ۔ایس نے ضلع چترال کے سب سے بڑے ہسپتا ل میں بے انتظامی اور بد نظی کی انتہا کردی ہے۔ضیاء الرحمن انصاف یوتھ ونگ پریذنڈنٹ، چترال

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز) پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ کے پریذنڈنٹ ضیاء الرحمن کی جانب سے جاری شدہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال کے ایم ۔ایس ڈاکٹر رحمان اللہ آفریدی نے ضلع چترال کے سب سے بڑے ہسپتا ل میں بے انتظامی اور بد نظی کی انتہا کردی ہے

 

عوام کو سہولیات دینے کے بجائے عوام کو مشکلات سے دوچار کردیاہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں32 ایم ۔اوز (میڈیلکل آفیسرز) ہیں فلحال 14 ڈاکٹر ز ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ جبکہ ضلع چترال کے سب سے بڑے ہسپتال میں بدنظمی کا یہ عالم ہے کہ( او۔پی۔ڈیز ) کمرے ہونے کے باوجود سینئر ڈاکٹر ز کو صرف ایک کمرے تک محدود کردیا گیاہے۔جو کہ سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ سراسر ظلم ہونے کے ساتھ ساتھ مریضوں کا استحصال ہے۔ٹیلی میڈیسن کے نام پر 9 مہنیوں سے مین او۔پی۔ڈی بند ہے۔جس کے سامنے ہی ایک اور کمرہ بند ہے جسے ڈی۔ایم۔ایس کو دیا گیا ہے وہ بھی تاحال بند پڑا ہے ۔اس کے علاوہ صحت کارڈ ایک اور سوشل ویلفیئر کے نام پردو اور او۔پی۔ڈیز بندہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا صحت کارڈاور سوشل ویلفیئر کے آفسز ایڈمیشن بلاک یا وارڈز میں ہوتے جہاں جگہ کی کوئی کمی بھی نہیں ہے۔ایم ۔ایس کی جانب سے بے انتظامی اوربدنظمی کی انتہا یہ کہ فزیوتھراپی کے لیے تین (او۔پی۔ڈیز )کمرے مختص کیے گیے ہیں اگر تین ( او۔پی۔ڈیز)تین سینئر ڈاکٹرز ڈاکٹررحمت امان صاحب ، ڈاکٹر یحیٰ صاحب اور ڈاکٹر فضل ربانی کو دیئے جاتے تو ڈاکٹر اور مریضوں کو اس سے کافی فائدہ پہنچتا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ تین سینئر ڈاکٹرز کو صرف ایک چھوٹے سے کمرے میں محدود کرکے ان کو ذہنی طور پر ازیت پہنچائی جارہی ہے جس کی بنا پر او۔پی۔ڈی کے سامنے مریضوں کا رش لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں بد نظمی پیدا ہوتی ہے ۔چترال کا ایک مشہو ر اور سینئر ڈاکٹرعنایت اللہ او۔پی۔ڈی) کی عدم دستابی کی وجہ سے ڈیوٹی سے محروم ہے۔ڈسٹرکٹ ہپسپتال چترال کے بعد اگر وومن اینڈ پیڈز ہسپتال کی بد نظمی اور سہولیات کی کمی بات کی جائے توماسوائے ایک پیڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر گلزار صاحب کے اور کوئی اسپیشلسٹ اور ایم۔اوز نہیں ہیں۔ڈاکٹر گلزار صاحب اور ڈاکٹر سمیع اللہ صاحب روزانہ کی بنیاد پر 200 سے 300 مریضوں کا معینہ کرتے ہیں۔ان دو سینئر ڈاکٹرز کے علاوہ دو ڈاکٹر ز ضیاء اللہ خان اورڈاکٹر نیاز بھی ہیں جو کہ 24 گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہیں جو کہ ایک پروفشنل ڈاکٹر کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے ۔ یہاں ایم۔ایس چترال ہسپتال سے ایک اور نا اہلی سرزد ہوئی ہے ڈاکٹر فرح (ڈبلیوایم ۔او)جو کہ پیڈز نائٹ ڈیوٹی کررہی تھی جس کیوجہ سے ڈاکٹر وں کی ڈیوٹی میں سہولت ہوتی تھی۔ ایم ۔ایس نے بذریعہ سفارش انہیں فوکل پرسن ٹی۔بی کنٹڑولر چترال مقرر کروایا۔ڈاکٹر محبوب صاحب آئی اسپشلسٹ کے ریٹائر منٹ کے بعد ضلعے کے سب سے بڑ ے ہسپتال میں کئی سالوں سے آئی اسپشلسٹ کی سیٹ خالی پڑی ہے۔صوبائی گورنمنٹ کی جانب سے ڈپلومہ ہولڈر آئی اسپشلسٹ ڈاکٹر محمد ایا زخان کو چترال ہسپتال میں بھیجا گیا لیکن ایم ۔ایس نے اسے ماہ رمضان میں چاردن چھٹی دے کر واپس بھیج دیا لیکن موصوف ڈاکٹر کا فلحال کوئی بھی اتہ پتہ نہیں ہے ۔ڈی۔ایچ ۔کیو ہسپتال میں مریضوں کے لیے باتھ رومز بنائے گئے تھے

جو کہ کیوں بندپڑے ہیں؟ڈیجیٹل ایکسرا ہونے کے باوجود زیر استعمال کیوں نہیں ہے؟ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی صحت کے لیے زرہ بھر بھی کوئی مثبت کردار نہیں ہے ۔صدر یوتھ ونگ کی جاری شدہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پی۔ٹی۔آئی کی گورنمنٹ صحت کے معاملے میں کوئی بھی کمی بیشی برداشت نہیں کرے گی ۔ہسپتال عوام کی بینادی سہولت اور علاج کے لیے ہے اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیح بھی یہی ہے۔

 

آخر میں پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ کے پریذنڈنٹ ضیا ء الرحمن کاکہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ناظم جناب مغفرت شاہ صاحب ثواب کی نیت سے ہسپتال کا دورہ کرتے اور ڈاکٹروں اور مریضوں سے ان کے مسائل پوچھتے تو کیا ان کے وقار میں کمی آتی ؟اگرنومنخب ایم۔این۔اے اپر چترال دراسن میں بی۔ایچ ۔یو کا دورہ کرنے کے بجائے اورایم پی اے ہدیت الرحمن ارندو میں گاڑیوں کو دھکا دے دینے کے بجائے ہسپتال تشریف لاکر غریب مریضوں کاحال احوال پوچھتے تو ثواب درین حاصل کرتے ۔

Facebook Comments