شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جنگلاتی علاقے شیشی کوہ کے متاثرین کا چیف جسٹس آف پاکستان کے چترال آمد پر ٹمبر مافیا کے حلاف احتجاج۔ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے متاثرین کا مطالبہ
All-focus

جنگلاتی علاقے شیشی کوہ کے متاثرین کا چیف جسٹس آف پاکستان کے چترال آمد پر ٹمبر مافیا کے حلاف احتجاج۔ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے متاثرین کا مطالبہ

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے پہلے اور تاریحی قصبے دروش سے متصل وادی شیشی کوہ کے جنگلاتی علاقے کے متاثرین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے چترال آمد کے موقع پر ان کے راستے میں احتجاج کرنے کیلئے بینرز اٹھائے تھے تاہم چیف جسٹس صاحب طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اس راستے سے نہیں گزرے۔

All-focus

متاثرین احسان الحق اور فضل رزاق جنرل کونسلر شیشی کوہ کے قیادت میں احتجاج کر رہے تھے جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ ان کو انصاف دلایا جائے۔ وہ نعرے بھی لگا رہے تھے کہ ظلم کا جواب دو جنگل کا حساب دو۔ مقامی میڈیا کے سامنے باتیں کرتے ہوئے متاثرین نے کہا کہ ان کی جنگلات کی کٹائی کی مد میں 23 کروڑ روپے بنتے ہیں جن میں سے چند مفاد پرست عناصر جو نام نہاد لیڈر بنے ہوئے ہیں جعلی طریقے سے ان کی دستحط کرکے ان کے نا م پر حطیر رقم ہڑپ کی ہے ان کو پانچ ہزار اور جس کا زیادہ حصہ بنتا ہے ان کو ڈیڑھ لاکھ روپے دئے ہیں جبکہ قانونی طور پر ان میں سے ہر گھرانے کو پچیس سے تیس لاکھ روپے ملنے چاہئے۔

 

متاثرین نے الزام لگایا کہ ان عناصر نے جعلی طریقے سے جوائنٹ فارسٹ منیجمنٹ کمیٹی بنائی ہیں جن میں زیادہ تر اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو عہدہ دار بنائے ہیں جنہوں نے جعلی دستخطوں سے رائلٹی کی مد میں ان کا حق ہڑپ کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کے نام ڈپٹی کمشنر چترال کو تحریری طور پر دئے ہیں اور درخواست کی ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے اور ان لوگوں سے باز پرس کی جائے کہ انہوں نے کیوں جعلی طریقے سے یہ رقم ڈپٹی کمشنر سے وصول کرکے آپس میں بانٹا اور اصل حقداران کو محروم رکھا۔

 

All-focus

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جنگلات کی رائلٹی کی فنڈ میں سے جو رقم ابھی تک ڈپٹی کمشنر کے اکاؤنٹ میں پڑا ہے اس کی تفصیلات بھی سامنے آنا چاہئے اور یہ رقم اصل حقداران کو کراس چیک کے ذریعے ڈپٹی کمشنر خود دے نہ کہ ان لوگوں کے ذیعے بھجوائے ورنہ ایک بار پھر یہ متاثرہ لو گ اپنے حق سے محروم رہیں گے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر چھٹی ہونے کی وجہ سے وہ دفتر میں نہیں تھے۔

 

All-focus

متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ غریب اور سادہ لوگ ہیں اور جن نام نہاد لیڈروں نے ان کے نام پر رایلٹی کا پیسہ کھایا ہے وہ اس علاقے کے اصل باشندے بھی نہیں ہیں وہ ڈوگ درہ اور دیگر علاقوں سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔
متاثرین نے کہا کہ اس سے قبل ہم نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بھی مطالبہ کیا تھا کہ لاٹ نمبر 641, 642m 662m 663 کے اربوں روپے کی رائلٹی علاقے کے ایک نام نہاد لیڈر، محکمہ جنگلات اور فارسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن نے آپس میں گھٹ جوڑ کے ذریعے ہڑپ کئے ہیں او ر ان کو گنتی کے چند روپے دئے گئے ہیں ا نہوں نے کہا کہ ہم پہاڑ کے دامن میں جنگلاتی علاقے میں رہتے ہیں اور تباہ کن سیلاب کی وجہ سے صرف ہم ہی متاثر ہوتے ہیں جبکہ یہ لوگ شہروں میں رہتے ہیں اور جب ہم اپنی رایلٹی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں سنگین نتائج کا دھمکی دیتے ہیں۔ متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کی جائے اور ان کو ان کا جائز حق دی جائے۔

Facebook Comments