شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال میں گرم پانی کے ہیٹر کمروں کو گرم رکھنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں جو کسی نعمت سے کم نہیں۔

چترال میں گرم پانی کے ہیٹر کمروں کو گرم رکھنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں جو کسی نعمت سے کم نہیں۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال ملک کے سرد ترین ضلعوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سردیو ں میں شدید برف باری کے باعث سخت سردی پڑتی ہے اور درجہ حرارت منفی دس تک گر جاتا ہے۔ سردیوں میں خود کوسردیوں سے بچانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے یا تو آگ جلاتے ہیں یا بجلی ، گیس کے ہیٹر استعمال کرتے ہیں۔ مگر گرم چشمہ کے علاقہ میں جہاں بجلی ناپید اور لکڑی نہایت کم ہیں قدرت نے ان کی اس کمی کو زمین سے ابلنے والے گرم پانی کے چشموں سے پورا کیا ہے۔ گرم چشمہ میں زمین سے قدرتی طور پر ابلا ہوا پانی نکلتا ہے اس پانی کو جامع مسجد گرم چشمہ میں ایک پائپ کے ذریعے ایسے ہیٹر سے گزارا جاتا ہے جس سے کمرے گرم رہتے ہیں۔ مدرسے کے ایک معلم کا کہنا ہے کہ باہر درجہ حرارت منفی دس سے بھی کم ہوتا ہے مگر گرم پانی کے ان ہیٹروں کے ذریعے کمرے نہایت گرم رہتے ہیں اور ایک قمیص میں بھی بندہ بیٹھ سکتا ہے۔ اس مسجد اور دارالعلوم کو گرم رکھنے کیلئے زمین کے اندر پانی کے ٹینکی بنائے گئے ہیں جن کے اوپر فرش ڈال کر کمرے بنائے گئے ہیں اور یہ کمرے سردیوں میں ملتا ن سے بھی زیادہ گرم رہتے ہیں۔ مدرسے کے مہتمم کا کہنا ہے کہ قدرت کے اس انمول تحفے سے انہوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے باہر سخت سردی ہوتی ہے اور یہاں کمرے کے اندر گرمی ہوتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر زمین سے نکلنے والی یہ گرم پانی زیادہ تر ضایع ہوتی ہے بہت کم پانی غسل کرنے اور کپڑے دھونے کیلئے استعمال کی جاتی ہے باقی پانی دریا میں گرتا ہے اگر حکومتی یا غیر سرکاری ادارے اس گرم پانی کو پائپ کے ذریعے شہر کے دیگر حصوں تک پہنچائے تو اس سے بھر پور استفادہ کیا جاسکتا ہے لوگ سردیوں میں غسل کرنے، برتن اور کپڑے دھونے کیلئے بجلی یا گیس کے ہیٹر استعمال نہیں کریں گے بلکہ یہ گرم پانی استعمال کریں گے جو بالکل مفت دستیاب ہے۔

Facebook Comments