شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اے وی ڈی پی کا مختلف ترقیاتی سکیموں کیلئے پی پی آر پراجیکٹ کے تحت فنڈ کی فراہمی پر حکومت اٹلی ، پی پی اے ایف اوراے کے آر ایس پی چترال کا شکریہ

اے وی ڈی پی کا مختلف ترقیاتی سکیموں کیلئے پی پی آر پراجیکٹ کے تحت فنڈ کی فراہمی پر حکومت اٹلی ، پی پی اے ایف اوراے کے آر ایس پی چترال کا شکریہ

چترال ( محکم الدین ) ایون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام ( اے وی ڈی پی ) کے  چیرمین رحمت الہی ، وائس چیرمین ظہیر الدین اور جملہ ممبران نے کالاش ویلیز میں مختلف ترقیاتی سکیموں کیلئے پی پی آر پراجیکٹ کے تحت فنڈ کی فراہمی پر حکومت اٹلی ، پی پی اے ایف اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام چترال کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ کہ سب کے باہمی اشتراک اور مالی و تیکنیکی تعاون سے کالاش ویلیز کے کئی منصوبوں کو مکمل کرنے میں مدد ملی ہے ۔ اور مسائل حل ہو چکے ہیں ۔ چیرمین رحمت الہی کی زیر قیادت گذشتہ روز بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رمبور ویلی میں کالاش کمیونٹی کیلئے مکمل کئے گئے منصوبوں کا جائزہ لیا ۔ جس میں بڑانگورو سنیٹیشن ، کالاش میٹرنٹی ہوم ( بشالینی) اور دیگر منصوبے شامل تھے ۔ اس موقع پر مقامی کمیونٹی کے افراد سے منصوبوں کی تعمیر سے پہلے اور منصوبوں کی تکمیل کے بعد سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں ۔ جس پر لوگوں نے انتہائی اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اُنہیں ناقابل یقین حد تک سہولتیں ملی ہیں ۔ جس کیلئے وہ ڈونر اور تمام اداروں کے شکر گزار ہیں ۔ ٹیم نے بڑانگورو کے تمام گلیوں میں کئے گئے کام کا جائزہ لیا ۔ اور مختلف لوگوں سے ملے ۔ ٹیم کو بتایا گیا ۔ کہ گلیوں کی پختگی سے پہلے بارش اور برفباری کے دنوں میں خواتین ، بچوں اور معذور افراد کو چلنے پھرنے میں بہت زیادہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ اور گلیوں کو صاف رکھنا بہت مشکل تھا ۔ اب پختگی کے بعد ان مشکلات سے نجات مل گئی ہے ۔ ٹیم نے پی پی آر پراجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے کالاش میٹرنٹی ہوم ( بشالینی ) کا بھی دورہ کیا ۔ جو کہ حال ہی میں مکمل ہوا ہے ۔ معروف کالاش خاتون لندن بی بی نے کمیونٹی کے خواتین کی نمایندگی کرتی ہوئی  نئی بشالینی کی تعمیر کو کالاش خواتین کیلئے ایک تحفہ قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ پرانے بشالینی میں آیام زچگی کے دوران ناقص صفائی اور خستہ حال مکان میں خواتین اور بچے بیمار پڑتے تھے ۔ اب نئی بشالینی بہترین ڈیزائن میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ جس میں لیبرروم کی سہولت موجود ہے ۔ جبکہ کمروں کی آرائش و زیبائش کے علاوہ بیڈ ،  فوم ، ریفریٹرز ، برتن ، اور الماری وغیرہ فراہم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے تمام کالاش خواتین کی طرف سے حکومت اٹلی ، اے کے آر ایس پی کے ریجنل پروگرام منیجر سردار ایوب ، ایم اینڈ ای آفیسر محمد یونس ،پی پی آر پراجیکٹ کے ذمہ داروں ،اور اے وی ڈی پی کے چیرمین و بورڈ ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ اُن کی کوششوں اور تعاون سے ہی یہ منصوبے مکمل ہوئے ۔ اور کالاش کمیونٹی کو فوائد ملے ۔ اس موقع پر انہوں نے پی پی آر پراجیکٹ کے تحت مزید کام کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بعد آزان بورڈ ممبران نے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ سے ملاقات کی ۔ اور چترال و کالاش ویلیز کے مسائل کے حوالے سے اُن سے بات چیت کی ۔ ایم پی اے نے کہا ۔ کہ وہ چترال کے تمام تر مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے حالیہ دنوں میں ملاقات کے دوران اُنہیں تمام مسائل سے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ تاہم حکومت بتدریج ان مسائل کو حل کر ے گی ۔ منیجر اے وی ڈی پی نے بورڈ ممبران اور ایم پی اے کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ۔ کہ اب تک پی پی آر پراجیکٹ کے تحت 26کمیونٹی فزیکل انفراسٹرکچر پراجیکٹ ہوئے ہیں ۔ جن میں ائریگیشن ، آبنوشی سکیمیں ، حفاظتی بند ، سنٹیشن اور لنک روڈ شامل ہیں ۔ اور 26میں سے اٹھارہ پراجیکٹ ایمپلمنٹ ہو چکے ہیں ۔ بقایا کے ڈائیلاگ ہوئے ہیں ۔ چار ایل ایچ ویز گورنمنٹ ہیلتھ سنٹر ز میں ایک سال کی کنٹریکٹ پر سروس دے رہے ہیں اور ہیلتھ سنٹرز میں ادویات کی فراہمی کی گئی ہے ، جبکہ بی ایچ یو بمبوریت اور آر ایچ سی ایون کی رینویشن اور مرمت کئے جا چکے ہیں ۔ اسی طرٖح 7کالاش بشالینی کو گائینی سے متعلق سامان فراہم کئے گئے ہیں ۔ رمبور بشالینی کو مکمل طور پر ریپیر اور رینو یشن کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آٹھ گورنمنٹ پرائمری سکولوں کی بھی مرمت کی جا چکی ہے جبکہ روز گار کیلئے 80غریب خاندانوں میں سامان، گائے ، بکری وغیرہ تقسیم کئے گئے ہیں ۔ جاوید احمد نے بتایا ۔ کہ انسٹیٹیوشن ڈویلپمنٹ کے حوالے سے جینڈر سنسٹائزیشن کی گئی ۔ قومی دن منائے گئے اور نوجوانوں کو کھیلوں کے سامان فراہم کئے گئے ۔ اور یہ تمام منصوبے حکومت اٹلی کے مالی تعاون سے پی پی آر پراجیکٹ کے تحت اے کے آر ایس پی اور اے وی ڈی پی کے بورڈ کی نشاندہی و مشورے سے انجام پائے ۔ اس موقع پر ، وائس چیر مین اے وی ڈی پی ، ظہیر الدین ، و ممبران ناظم وی سی ایون عبدالبصیر ،
Facebook Comments