شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تاجر یونین کے کال پر چترال بازار میں مکمل شٹر ڈاؤ ن ہڑتال۔ دکانوں کے علاوہ ہوٹل، ادویات کی دکانیں، نانبائی، سبزی فروش سب بند رہے۔
All-focus

تاجر یونین کے کال پر چترال بازار میں مکمل شٹر ڈاؤ ن ہڑتال۔ دکانوں کے علاوہ ہوٹل، ادویات کی دکانیں، نانبائی، سبزی فروش سب بند رہے۔


چترال(گل حماد فاروقی) تاجر یونین کے کال پر چترال کے تمام بازاروں میں بدھ کے روز صبح سے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جار ی ہے۔ چترال کے مین بڑے بڑے بازار بند رہے جن میں شاہی بازار، بائی پاس بازار، کڑوپ رشت بازار، اتالیق بازار، دنین بازار اور جغور بازار بھی بند رہے۔ ہڑتال کے دوران تاجر یونین کے عہدہ داران نے پرانا پی آئی اے چوک میں احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ 
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے تاجر یونین کے صدر شبیر احمد نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے بغیر کسی نوٹس کے چند دکانوں کو سر بمہر کیا ہے اور پرانے بازار میں ٹریفک کو یک طرفہ کیا ہے۔
All-focus


ایک اور دکاندار نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے بغیر نوٹس کے چند دکانوں کو سیل کیا ہے اور بازار میں بجلی نہیں ہے حالانکہ چترال میں اتنی وافر مقدار میں بجلی پیدا ہوتی ہے کہ ہم دوسرے اضلاع کو بھی بجلی فراہم کرتے ہیں مگر ہمارے ساتھ یہ ظلم ہورہا ہے کہ بلا وجہ یہاں طویل لوڈ شیڈنگ کیا جا تا ہے۔
چارویلو احمد خان نے کہا کہ پورے بازار میں انتظامیہ کی طرف سے کوئی پبلک باتھ روم نہیں ہے اور شمسی توانائی سے چلنے والا جو سٹریٹ لائٹ نصب کئے گئے ہیں جس پر تقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے مگر وہ رقم غبن ہوا ہے اس نے صرف چھ دن کام کیا ہے اور اس کے بعد بند ہے۔ 

All-focus


چترال بازار شام کے بعد ایک قبرستان کا منظر پیش کرتا ہے۔اندھیرے کی وجہ سے دکاندار اکثر نالیوں میں گرتے ہیں اور باؤلے کتوں کی بہتات کی وجہ سے گاہک بھی شام کے بعد ڈرتے ہیں۔ 
ان دکانداروں نے کہا کہ پولیس نے سڑک پر ون وے یعنی یک طرفہ ٹریفک شروع کیا ہے مگر اس سڑک سے ٹیکسی سٹینڈ بنایا گیا ہے تمام با اثر لوگ اپنی گاڑیاں لاکر سڑک پر کھڑے کرتے ہیں جس سے ہماری کاروبار اور بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ 
ان دکانداروں نے متنبہ کیا کہ جب تک ہماری مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو ہم اپنے مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ ہڑتال کی وجہ سے نہ صرف عام لوگو ں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ باہر سے آئے ہوئے سیاحوں کو بھی ہوٹل اور تندور بند ہونے سے روٹی نہیں ملی۔

Facebook Comments