شہ سرخیاں
Home / احتشام الرحمن / مذہبی ہم آہنگی: حقیقت یا افسانہ!

مذہبی ہم آہنگی: حقیقت یا افسانہ!

شنید ہے کہ چترال کی واحد یونیورسٹی میں ‘امن اور مذہبی ہم آہنگی’  کے موضوع پر  کانفرنس کو منسوخ کردیاگیا۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس میں علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی صاحب کے کچھ پیروکار بحیثیت اسپیکر شریک ہونے والے تھے۔ ‘طریقہ بورڈ’ (ITREB) اور ‘ریجنل کونسل’ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موجودگی سے  چترال کے امن کو خطرات لاحق ہوں گے۔ لوگ فساد کریں گے، وغیرہ، وغیرہ۔
گویا وہ اسلامی فرقہ کے نمائندہ افراد نہ ہوئے  کوئی مرزائیت کے گماشتے ہوئے یا ان کی حاضری  اسلام یا اسماعیلی فرقہ کے لیے باعث فتنہ ہوئی۔ اس اہم موضوع پر دوسری کانفرنس ‘قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی’ میں منعقد ہونی تھی، تاہم پہلی کانفرنس کی سبوتاژی کے بعد نہیں لگتا کہ موخر الذکر کانفرس کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔
ایک فرقے کی شرکت کے خوف سے کانفرنس کی منسوخی قابل افسوس رویہ ہے۔ بہرحال اس محیر العقل "جذبہ ایمانی”اور "حمیت دینی” سے ہماری مجموعی ذہنیت خوب افشاں اور نمایاں ہو رہی ہے۔  اس قابل افسوس طرز عمل سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ہمارے لیے فریق مخالف کو تحمل سے سننا تو دور کی بات، ہم  تو اس کے وجود کو برداشت کرنے کا  یارا بھی نہیں رکھتے۔
اس رویے سے کچھ چیزیں خوب نمایاں ہوگئیں، جن میں  عدم برداشت، مکالمہ سے گریز، تنگ دلی، فریق مخالف سے شکست کا خوف اور ان سے بیزاری وغیرہ جو ہمارے معاشرے کے عمومی رویے ہیں، خوب کھل کر سامنے آگئی ہیں۔
ہم امن، محبت اور بھائی چارے کی بات کرتے تھکتے نہیں ہیں،  ممبروں میں بیٹھ کر ہمارے علماء اور مشنری حضرات امت مسلمہ کی یکجہتی اور بھائی چارے کے موضوعات پر خوب تقریریں جھاڑتے ہیں، اور جب اس تبلیغ اور دعووں کی صداقت کو عملی طور پر ظاہر کرنے کا وقت آتا ہے تو ہماری حالت پتلی ہونے لگتی ہے اور ہم "چترال کے پر امن ماحول کو لاحق خطرات ” کی ملمع سازی کے ذریعے  راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں۔
اس طرح کے رویوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اسلام اور مسلمانوں کو  یہود ہنود سے نہیں، خود مسلمانوں ہی سے خطرات لاحق ہیں اور خود مسلماں ہی ہمارے دین و ایمان کے دشمنِ اولین ہیں۔ یعنی دین اسلام اگر خطرے میں ہے تو مخالف فرقے کی وجہ سے ہے ، پھر فرقوں کے اندر مختلف گروہوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جو خطرات لاحق ہوتے ہیں وہ شاید ہی کسی دوسرے فرقے یا مذہب سے ہوں۔
سنی کو مسئلہ ہے تو  شیعہ سے اورشیعہ کا بڑا دشمن ہے تو وہ سنی۔ پھر سنیوں میں بریلوی کو دیوبندی سے، دیوبندی کو بریلوی سے، سلفیوں کو مقلدین سے اور مقلدین کو غیر مقلدین سے خطرہ ہے۔ جماعت اسلامی والے کسی اور کو اتنا نہیں کھٹکتے ہیں جتنا دیوبندیوں کی نظر میں کھٹکتے ہیں۔ وہابی بریلویوں اور دیوبندیوں کو  دائرہ اسلام سے باہر سمجھتے ہیں اور دیوبندیوں کے نزدیک بریلویوں کا دین و ایمان معتبر نہیں ۔ یہاں تک ایک دوسرے کو نیچا  دکھانے اور ”بےدین”  ثابت کرنے کے لئے وہ ”لادین” قوتوں کا مہرہ بننے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اس طرح اہل تشیع (اثنا عشری) اہل سنت کے عقائد بارے اتنے فکر مند نہیں رہتے جس قدر اسماعیلی برادری سے متعلق سوچتے ہیں۔ اسماعیلی فرقے کی ایک اور شاخ (جس کے امام کا ذکر شروع میں ہوا ہے) ‘ہنزائی’ گروپ  کے نام سے مشہور ہے۔ اس فرقےکے طور طریقے اور رنگ ڈھنگ پندرہویں صدی کے پروٹیسٹنٹ یا موجودہ دور کے وہابی ریفارمز جیسے ہیں، لیکن گروہ اسماعیلی کو جو سب سے  زیادہ کھٹکتے ہیں وہ یہی ‘ہنزائی’ فرقہ کے لوگ ہیں۔
موجودہ زمانے میں اسلامی فرقوں میں اسماعیلی فرقے کو سب سے زیادہ لبرل اور روشن خیال تصور کیا جاتا ہے۔ پرنس کریم آغا خان کی تبلیغ کا نچوڑ ہی harmony اور peaceful coexistence ہے۔ میں نہ صرف  اس بات کا معترف ہوں بلکہ اس عمل کو عام کرنے کا بھر پور حامی ہوں۔تاہم دو دن پہلے اس کانفرنس کو منسوخ کرنے کیلئے جو رویہ اختیار کیا گیا وہ قابل افسوس  بھی ہے اور قابل مذمت بھی۔ اس عمل نے  مجھ جیسے  طالب علم کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آیا یہ جماعت  امام پرنس کریم آغا خان کی پیرو ہے یا اس کی تعلیمات کے برعکس ایک دوسرے ڈگر پر چل نکلی  ہے؟
اطلاعات یوں موصو ل ہوئے ہیں  کہ اسماعیلی کمیونٹی کے ‘طریقہ بورڈ’ اور ‘ریجنل کونسل’ نے یہ کہہ کر  کانفرنس منسوخ کروائی ہے کہ کانفرنس کے تین اسپیکرز کا تعلق ‘ہنزائی گروہ’ سے ہے، جو کہ اسماعیلی کمیونٹی اور امام کی تعلیمات کے کٹر ناقدین میں سے ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ تینوں اسکالرز کا تعلق عالمی شہرت یافتہ اداروں سے ہے۔
ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور ڈاکٹر راشدہ نور محمد ہنزائی کا تعلق ‘انسٹیٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹیڈیز، لندن’ سے ہے۔ ان اہم اسکالرز کی موجودگی مذہبی ہم آہنگی کے لئے نہ صرف ضروری تھی بلکہ موجودہ حالات میں عالمی برادری کو بھی کانفرنس سے یہ مثبت  پیغام جاتا کہ اسلام تشدد اور عدم برداشت کا نام نہیں بلکہ  مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا ایک پیغام ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ(ہمارے رویوں سے ایسا لگتا ہے کہ ) اسلام اور مسلمانوں کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو مسلمانوں ہی  سے درپیش ہےاور ان میں سے بھی ہمارے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ لوگ ہیں  جو عقیدہ اور نظریہ کے لحاظ سے ہمارے  سب سے قریب ہیں۔  اور حقیقت یہ کہ اس کانفرنس کی منسوخی کے پیچھے جو سوچ کار فرما تھی، وہ یہی تھی۔ خود اندازہ لگائیں کہ کانفرنس میں  کسی سنی اسپیکر کی شرکت پر اعتراض کیا گیا نہ کلاش برادری کے کسی اسپیکر پر۔ اعتراض ہوا تو ہنزائی اسپیکر پر، کیونکہ  ہنزائی عقیدہ و نظریہ کے اعتبار سے  اسماعیلیوں کے قریب تر فرقہ مانے جاتے ہیں۔
یہ رویہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں ہے، یہ ہمارے معاشرے کا عمومی مزاج بن چکا ہے، اگر یہاں ہنزائی کی جگہ کوئی بریلوی مکتب فکر کا کوئی بندہ  شرکت کرتا تو یہی احتجاج دیوبندیوں کی طرف سے ہوتا اور  اہل تشیع کا کوئی نمائندہ  شریک ہوتا  تو یہی رونا اہل سنت کے نمائندوں کی طرف ہوتا۔
قابل افسوس امر یہ کہ جہاں  ایک ایسی جماعت  جس کی تبلیغ  و دعوت کا نچوڑ ہی مذہبی ہم آہنگی ہو، کا یہ رویہ ہو، وہاں عد م برداشت میں مشہور فرقوں سے پھر کوئی کیا گلا اور شکوہ کریں۔
Facebook Comments