شہ سرخیاں
Home / اے ۔ ایم ۔ خان / ایک سیاح سے ملاقات اور سیاحت

ایک سیاح سے ملاقات اور سیاحت

چند سال پہلے آسٹریا کے ایک سیاح سے بات اُس وقت بات شروع ہوئی جب وہ ہوٹل والے کو یہ بتا نہیں سکتا تھا کہ وہ ناشتے میں کیا کیا لینا چاہتا ہے اور ہوٹل والا اسے بتا نہیں سکتا کہ اُس کے پاس ناشتے میں کیا کیا آئٹم ملتے ہیں۔ میں نے کاونٹر میں آدمی اور سیاح کے مابین کمیونکیشن گیپ کو ختم کرکے دونوں کی مشکل آسان کردی۔ جب میں سیاح سے دریافت کیا تو اس نے چھولا دال، روٹی اور بلیک ٹی لینے کے شوق کا اظہار کیا۔ جوزف نامی سیاح اپنا سفر یورپ سے ترکی، وہاں سے چین، ایران، پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان سے چترال پہنچ چُکا تھا۔ چترال میں وادی کیلاش بھی جانا چاہتا تھا اور وہ پھر پاکستان سے انڈیا اور وہاں سے اپنا ملک واپس جا رہا تھا۔
جو بھی سیاح پاکستان آجا تا ہے تو لوگوں سے بات کرنا اور معلومات لینا اُس کے لئے پہلا رکاوٹ ہوتا ہے جوکہ میرے سامنے جوزف کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ اُس دِن ڈرائیور سیٹ کے پیچھےسیٹ میں بیٹھا ہوا تھا اور اُس کا ایک چھوٹا بیگ بھی اُس کے ساتھ تھا۔ ناشتے کے دوران جب ڈرائیور مجھے اُس سے بات کرتے ہوئے دیکھا تو میرے پاس آیا اور کہا کہ میں اُسے بتا نہیں سکتا، کہ وہ اپنا بیگ مجھے گاڑی کے اُوپر رکھنے دیں یا آپ کے ساتھ والے سیٹ میں بیٹھ جائیں۔ جب یہ اپنا بیگ اپنے سامنے رکھتا ہے تو مجھے اپنا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے سے میرا جگہ تنگ ہوجاتا ہے، اور نہ کروں تو اُس کے لئےجگہ کم پڑتا ہے۔

اُس نے یہ بھی کہا کہ میں اُسے بیگ اُوپر رکھنے کو کہا تو اُسنے انکار کردی۔ یہ میرے لئے بھی حیرانی کی بات تھی کہ کیوں جوزف اپنا بیگ اُوپر رکھنا نہیں چاہتا؟ بہرحال، میں نے اُس سے کہا کہ اگر آپ اپنا بیگ اُوپر رکھوائیں گے تو آپ بھی سہولت کے ساتھ بیٹھ سکیں گے اور ڈرائیور بھی سہولت کے ساتھ گاڑی چلا سکتا ہے؟ اُس کا کہا تھا کہ میں یہ بیگ اُوپر نہیں رکھ سکتا؟ تو میں نے اُس سے کہا کہ اگر چاہتے ہیں، میرے ساتھ والے سیٹ پر بیٹھیں تو ڈرائیور کو گاڑی چلانے میں بھی سہولت ہوگی تو وہ اِس بات پر بہت خوش ہوا، اور میرے ساتھ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

ناشتہ کے بعد پھر روانہ ہوکر راستے میں، میں نے جوزف سے دوبارہ کہا کہ ساتھ والا سیٹ خالی ہے اپنا بیگ وہاں رکھ دیں، اور اگر یہ اُوپر رکھتے بھی تو اِسے کچھ نہیں ہو سکتا تھا؟ میرے سوال کا جواب دینے سے پہلے اُس نے اپنا گلگت سے مستوج چترال سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم گلگت سے روانہ ہوکر شام کے وقت براستہ شندور گاڑی، نٹکو بس جوکہ گلگت سے مستوج چترال تک اب بھی سروس دیتا ہے، خراب ہوا، اور ہم ساری رات شندور میں گزار دی تو نزلہ اور زکام ہو چُکا ہے۔ اب میں بار بار ٹیشو پیپر استعمال کرتا ہوں تو اُن کو دوبارہ اپنے بیگ میں رکھ دیتا ہوں اِسی لئے میں اپنا بیگ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں!

پاکستان کے اکثر علاقوں اور خصوصاً سیاحتی مقامات میں گندگی و غلاظت، جو کسی بھی نوعیت کا ہو، سب سے بڑامسئلہ بن چُکا ہے۔ جوکہ ہمارے لوگوں میں سِوک سنس اور حکومت کی عدم توجہی کا نتیجہ ہے جو سیاحتی مقامات کی حسن اور دلکشی کو کم کر دیتی ہیں۔ اور ہمارے ملک میں آمدورفت کا جو نظام اور سہولیات تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے سیاح تکلیف کا شکار ہوجاتا ہے جوکہ جوزف کے ساتھ بھی ہو چُکا تھا۔

موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے ٹاسک فورس بناکر جب اُسے مزید سیاحتی مقامات کی شناخت کا کام دے دی، تو ایک رپورٹ کے مطابق، صوبہ خیبر پختونخوا میں مزید 227 مقامات کی نشاندہی ہوگئی ہے جوکہ سیاحوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں۔

دُنیا کی قدیم تہذیب ‘وادی سندھ کی تہذیب’، بدھ مت کے آثار قدیمہ، مغل تعمیرات اور تاریخی مقامات، مذہبی مقامات، نہ صرف مسلماںوں بلکہ ہندو اور سکھ برادری کا؛ ثقافتی، کھیل خصوصاً پولو، برف پوش پہاڑ، قدرتی جھیل، ریگستان، میدانی اور ساحلی علاقہ اور کئی ایسے مقامات ہیں جو پاکستان میں سیاحوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں جنہیں دریافت اور مارکیٹ کرنےکی ضرورت ہے۔

اِس سال سیاحت کے عالمی دِن، جوکہ 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے، کا تھیم ‘ ٹوارزم اینڈ ڈیجیٹل ٹرانسفرمیش’ تھا جس کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سیاحت کے فروغ کے لئے اہم قراد دی گئی ہے۔ پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے واسطے، میں نے، پاکستاں ٹوارزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے ویب سائٹ کا دورہ کیا تو دیکھا تو وہ اب بننے جارہا ہے۔ پی۔ ٹی۔ ڈی۔ سی کا ویب سائٹ دیکھ کر معلوم ہوا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر اب کام شروع ہوچُکا ہے۔

سن 60 اور 70 کی دہائی کے بعد پاکستان میں سیاحت کا شعبہ انحطاط کا شکار رہا۔ سری لنکا کے کرکٹ ٹیم پر حملہ، نائن الیون کا واقعہ، سوات اور مالاکنڈ ایجنسی میں مسائل، اور دہشگردی کے واقعات ملک میں سیاحت کی انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچا چُکے ہیں۔ اب حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ 2018 کے ایک رپورٹ کے مطابق دو ملین کے قریب سیاح پاکستان آئے جس میں تیس فیصد مقامی سیاح شامل تھے جس سے ملکی معیشت میں (جی۔ ڈی۔ پی کا 6.9 فیصد ) 19.4 بلین ڈالر کی مد میں اضافہ ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیاحت سے ملکی آمدنی میں یہ اضافہ 36 بلین ڈالر تک جا سکتا ہے۔
ضلع چترال کی میں سیاحت، معدنیات، لکڑی اور پانی کے وسائل سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔

چترال میں اب تک سیاحت وادی کیلاش: بمبوریت، رمبور، بریر، اور شندور پولو تک محدودہے۔ گوکہ اِس سال غیرملکی اور مقامی سیاح کافی تعداد میں چترال کا دورہ کرچُکے ہیں لیکن پھر بھی چترال میں کئی ایک مقامات ہیں جوکہ سیاحوں کے توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں، جس سے صوبہ خیبر پختونخوا اور ملک کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اِس سال سیاحت کے تھیم پر عمل کرکے ڈیجیٹل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو، دوسرے ذرائع کے ساتھ، سیاحتی علاقوں کی دریافت، فروغ، مارکیٹنگ اور تشہیر نہ صرف ملک بلکہ ملک سے باہر پیشہ ورانہ طریقے سے کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اب تشہیر کرنے کے لئے ڈیجیٹل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک اہم ٹُول بن چُکے ہیں۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!