شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پی ٹی آئی قائدین نے نئے ضلع کے قیام کو پروپیگنڈے کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔

پی ٹی آئی قائدین نے نئے ضلع کے قیام کو پروپیگنڈے کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔

پشاور( نمائندہ چترال)پاکستان تحریک انصاف چترال کے قائدین نے صوبائی کابینہ میں چترال کو دو حصوں میں تقسیم کرکے  نئے ضلع اپر چترال کے قیام کے اعلان کو پی ٹی آئی کے ایک اور وعدے کی تکمیل اور نئے ضلع کے قیام کے خلاف پروپیگنڈے کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا ہے ‘گزشتہ روز صدر پی ٹی آئی چترال عبداللطیف ‘ ممبر صوبائی اسمبلی وزیر زادہ رحمت غازی، سرتاج احمد خان و دیگر نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چترال صوبے کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے جو پورے صوبے کا 22 فیصد رقبے پر مشتمل ہے ‘ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اتنے بڑے انتظامی یو نٹ کو لوگوں کے مسائل کے تناظر میں بہتر طور پر چلانا کتنا مشکل کام ہوسکتا ہے ‘ لیکن اس کے باوجود سابقہ حکومتوں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ‘ لیکن پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومت نے عوامی مشکلات کے پیش نظر ہمارے مطالبے پر اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا اور گزشتہ سال وزیر اعظم عمران خان‘ وزیر اعلی ٰ محمود خان اور سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر عوامی جلسہ میں اپر چترال کو الگ ضلع بنانے کا اعلان کیا ۔ اور ضلع کی تشکیل کے لئے عملی کام کا آغاز کیا گیا ‘ اس وقت کی صوبائی کابینہ نے اس کی منظوری بھی دی تھی لیکن اعلامیہ جاری ہونے سے چند دن قبل ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے تمام انتظامی باؤنڈریز منجمد کئے گئے  جس کی وجہ سے اعلامیہ جاری نہ ہو سکا ‘ 2018 ء کے عام انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف کی حکومت بنی تو ہم نے دوباہ صوبائی حکومت سے رابطہ کیا‘ چونکہ وزیراعلیٰ پختونخوا نے گزشتہ دور میں بھی بحیثیت صدر ملاکنڈ ڈویژن اس حوالے سے اہم کردادر ادا کیا تھا اور اس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اس لئے انہوں نے فوری کارروائی کے احکامات دئیے ‘ یاد رہے بورڈ آف ریو نیو رنے  سابقہ کابینہ کی منظوری کی بنیاد پر اعلامیہ جاری کرنے یا موجودہ کابینہ سے دوبارہ منظوری کے حوالے ان کی ایڈوائس چاہی تو انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں دوبارہ پیش کرنے کے احکامات دئیے اور صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری سے دیدی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب سے اپر چترال ضلع کا اعلان کیا گیا ہے سیاسی مخالفین نے ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے کا سہارا لیکر چترالی قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اورطنزیہ طور پر یہ مہم چلائی گئی کہ کب پی ٹی آئی والے ضلع کا اعلامیہ ہمارے منہ پر ماریں گے‘آج ہم ان سے صرف یہ کہنا چاہتے ہیں  کہ ہم ضلع کی نو ٹیفیکیشن کے ڈھیر سارے نقول ان کو فراہم کریں گے اور وہ صاحبان اپنی سیاسی ناکامیوں کا ماتم کرتے ہوئے اس اعلامیہ کی کاپیاں خود ہی اپنے منہ پر مارتے رہیں ‘ پی ٹی آئی کی حکومت قوم سے کئے گئے تمام وعدے پورے کرئے گی اور آئندہ کے لئے چترال سے ان سیاسی قوتوں کا خاتمہ کیا جائیگا جنہوں نے اب تک قوم کو مذہب ‘ مسلک ‘ علاقائیت اور برادری کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کا سیاسی استحصال کرتے رہے ہیں ۔
Facebook Comments