شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے پر شہزادہ سکندر الملک ،عبدالطیف اور سرتاج احمد خان کا شکریہ ادا کرنا ایک غیر مناسب رویہ ہے۔اگر مستوج کے بجائے اپر چترال نام رکھا گیا تو میں سپریم کورٹ تک جاؤں گا۔اقبال حیات

چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے پر شہزادہ سکندر الملک ،عبدالطیف اور سرتاج احمد خان کا شکریہ ادا کرنا ایک غیر مناسب رویہ ہے۔اگر مستوج کے بجائے اپر چترال نام رکھا گیا تو میں سپریم کورٹ تک جاؤں گا۔اقبال حیات

چترال(نمائندہ چترال آفیئرز) چترال کے سماجی اور سیاسی شخصیت اقبال حیا ت نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ چترال ایک مخصوص جگے کا نام ہے جو کہ چترال ٹاؤن میں واقع ہے ہم اپنی اس پہچان کو مستوج کا پہچان بننے نہیں دینگے ۔ریاست چترال اور ریاست مستوج دو الگ ریاست کے پس منظر رکھتے ہیں اور دونوں کی الگ الگ شناخت ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ چترال لوئر یا اپر چترال کسی صورت ہمیں قبول نہیں صوبائی حکومت اپنی نوٹیفیکیشن میں اپر چترال کہہ کر ہماری پہچان ہم سے نہ چھینے میں ذاتی طور پر اس کیس کو لیکر سپریم کورٹ تک جاؤں گا۔صوبائی حکومت میں جو نمائندگی چترال کی کررہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی ایک غیر سنجیدہ ورکر جو غیر ضروری طور پر لوگوں کا نام لیکر ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔جو میری سمجھ سے بالاتر ہے صوبائی کیبینٹ میں چترال کی کوئی نمائندگی نہیں البتہ اسمبلی کے اندر چترال سے دو ایم۔پی۔ایز بیٹھے ہوئے ہیں اگر خراج تحسین پیش کرنا ہے تو ان کا نام لیکر ان کا شکریہ ادا کریں بجائے شہزادہ سکندر الملک ،عبدالطیف اور سرتاج احمد خان کا شکریہ ادا کرنا ایک غیر مناسب رویہ ہے۔چترال کو دو ڈسٹرکٹز کا نوٹیفیکیشن کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں البتہ پی۔ٹی۔آئی حکومت کی وجہ سے ضلع چترال کا ایک ایم۔پی۔اے پہلے ہی سے فارغ ہوا تھا اس نقصان کا ازالہ اس نوٹیفیکیشن کی صورت میں منتظر ہے حالات سے معلوم ہو رہا ہے کہ مذکورہ نوٹیفیکیشن گزشتہ دو سالوں سے کبھی دراز میں چھپتا ہے تو کبھی الماری میں جسے ہماری منہ میں دے مارنے کی باری اب تک نہیں آئی ۔
Facebook Comments