شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اسلامی ریا ست کا ذکر خیر

اسلامی ریا ست کا ذکر خیر

مو لانا طارق جمیل مُنکَر کے پا س سے سلام کہہ کر گزر گئے غلط لو گوں کی غلط محفل تھی مو لا نا کا خیال تھا کہ بت کدے میں اذان دینے کا مو قع آیا ہے فائدہ اٹھا نا چاہئیے ؂
اگر چہ بت ہیں جما عت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الاہ اللہ
اس پر مو لا نا کی گرفت ہو ئی اور گرفت میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مدینہ منورہ کی پا ک اسلامی ریا ست کو مو جودہ دور کے تعّفن زدہ فرنگی قوانین کے ساتھ تشبیہہ دینا پر لے درجے کی بے ادبی ہے ؂
ہزار بارگربشو یم دہن زمُشک و گلاب
ہنوز نا م تو گفتن کمال بے ادبی ست
وطن عزیز پا کستان میں جب حکمران اپنی تقریروں میں اسلام کا نام لیتے ہیں تو اس نا م کو بطور ’’تڑکہ ‘‘ استعمال کر تے ہیں مثلاً بنکوں میں اسلامی سود، ہو ٹلوں میں اسلامی شراب، عدا لتوں میں فرنگی قا نون کا عربی کا نام 1967ء میں پا کستان پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں اسلام ہمارا دین، سو شلزم ہماری معیشت کا نعرہ لگا یا تو اسلام کا نام بطور تڑکہ لا یا گیا تھا 1977میں جنرل ضیاء الحق نے نظام مصطفےٰ کا نام لیا تو وہ بھی تڑکہ ہی تھا مو جودہ دور میں ’’ریاست مدینہ ‘‘ کی تر کیب متعارف کرائی گئی ہے یہ بھی تڑکہ کے زمرے میں آتی ہے ریا ست مدینہ کا سر براہ انسانی تا ریخ کا اکمل ترین انسا ن تھا اُن کے ساتھی بھی انسانی تاریخ کے بہترین لو گ تھے خیرالقرون کے بعد آنے وا لوں کے بارے میں مخبر صادق نبی کریم ﷺ کی بے شمار پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ جب تمہارے درمیان کے دولت مند لوگ کنجوس ہونگے شریر لوگ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھینگے اور عورتوں کے مشوروں پر کا م کرینگے اُس وقت زمین کے اوپر رہنے سے زمین کے پیٹ میں جا نا تمہارے لئے بہتر ہو گا اور یہ وہی دور ہے جسے پُر آشوب کہنا پُر آشوب کی تو ہین ہے مدینہ منورہ کی ریا ست کا تصّور اس دور میں ایسا ہی محال ہے جیسا کہ خا تم النبیّنﷺ کے بعد پیغمبر کا آنا محال ہے البتہ اسلامی ریا ست کی اُمید ابھی باقی ہے اور اس کے لئے جدو جہد فرض کا درجہ رکھتی ہے اسلامی ریا ست کے نما یاں خدو خال یہ ہیں کہ اس ریا ست میں سود اور شراب پر مکمل پا بندی ہوگی عدالتیں اسلامی تعزیرات اور حدود کے تحت فیصلے کرینگی عدالتوں کے منصف وہ لوگ ہونگے جن کو فرنگی قا نون کے بجائے اسلامی قوانین ، شر عی لوا زمات اور فقہی امور پر عبور حا صل ہو گا اُن کا تخصّص شر عی قوانین میں ہو گا اُن کالباس اور رہن سہن بھی شریعت کے عین مطا بق ہو گا اسلامی ریا ست کی یہ کم سے کم شرائط ہیں وطن عزیز پاکستان میں سوات اور چترال کی دوریاستیں ایسی تھیں جن میں اسلامی قوانین جزوی طور پر نا فذ تھیں ریا ست سوات کا قیام 1926میں عمل میں آیا میاں گل عبدالودود نے ریا ست میں اسلامی فقہہ کی رو سے شر عی قوانین کا نفاذ کیا ریا ست چترال میں شاہ نا در رئیس نے 1340ء میں قا ضیوں کے تقررنامے جاری کئے ان کی نقول علامہ محمد غفراں نے تاریخ چترال میں شائع کئے جرمن محقق ولف گینگ ہولز وارتھ نے اُن کا تفصیلی جائز ہ لیا ہے 1340 کا یہ ریاستی ڈھا نچہ 1969 تک قائم رہا 1969 ء میں ریاستوں کو ضلع کا درجہ دینے کے ساتھ ہی میزان شریعت کو ختم کر کے قاضیوں کی جگہ جج اور مجسٹریٹ مقر ر کئے گئے اسلامی قوانین کی جگہ انگریزی قوانین نافذ کئے گئے ججوں اور مجسٹریٹوں کے آنے سے پہلے اسلامی قوانین کے تحت عدالتی فیصلوں کی چار مثالیں یہاں برمحل ہو نگی 1911 ء کا واقعہ ہے ایون میں قتل کی واردات ہو ئی عصر کی نماز کے وقت مسجد میں اعلیحضرت شجاع الملک مہتر چترال کو درخواست دی گئی انہوں نے میزان شریعت کو لکھا 20 دنوں کے بعد نماز ظہر سے پہلے فیصلہ سنا یا گیا ملزموں میں سے ایک بری ہوا ایک کو جلاوطنی کی سزا دی گئی تیسرے کے لئے قصاص کا حکم ہوا تین دن بعد مقتول کے وارث نے قاضی کے سامنے قاتل کا سر اُڑا دیا یہ 1922 کا واقعہ ہے جنگل میں گیلی لکڑی کاٹنے اور ہر ے درختوں کو نقصان پہنچا نے پر ایک شخص گرفتار ہوا قاضی نے 10 روپے جرمانہ کی سزا سنائی اُس وقت 10 روپے میں 5 کنال ز مین خرید ی جاتی تھی ملزم کی ماں نے اپنی قرابت داری کا واسطہ دیکر مہتر چترال کی خدمت میں جر مانہ معافی کی درخواست دائر کی مہتر چترال نے لکھا قرابت داری اپنی جگہ درست ہے قاضی کا فیصلہ اٹل ہے یہ جر مانہ میری جیب خاص سے ادا کیا جائے اور رسید ملزم کی ماں کو دید ی جائے اس طرح 1940 کا واقعہ ہے مہتر چترال نا صر الملک کی خدمت میں نماز عشاء کے وقت درخواست آئی کہ بازار میں چائے مہنگی ہو گئی ہے ایک سیر پر دو پیسے زیادہ لئے جاتے ہیں مہتر چترال نے مقدمہ قاضی کے پاس بھیجا قاضی نے تاجروں کو بلا یا تو معلوم ہو ا کہ جنگ عظیم دوم کی وجہ سے بمبئی کی بند ر گاہ پر جہاز سے مال اتارا نہ جاسکا کمپنی نے ٹیکس لگا یا وہ مال چترال تک آیا تو ایک سیر پر دو پیسے کی مہنگا ئی آئی قاضی نے حکم دیا کہ مال کا وزن معلوم کر کے مذکورہ مال ختم ہونے تک دو پیسے لیا جائے مال ختم ہو نے کے بعد پر انا نرخ بحال کیا جائے ایک اور واقعہ 1928 کا ہے فجر کی نماز کے بعد ایک فریادی نے مہتر چترال شجا ع الملک کے سامنے زبانی فریاد کی کہ میرے بیٹے کی منگنی فلان شخص کی بیٹی سے ہو ئی تھی آج رات فلان شخص کے بیٹے نے اُس لڑ کی کو اغواکر لیا ہے مجھے انصاف دلا یا جائے مہتر چترال نے موقع پر قاضی کو حکم دیا مقدمہ پیش ہوا قا ضی نے تینوں فریقوں کو بلا یا لڑ کی کوعدالت میں لا یا گیا نماز ظہر کے وقت فیصلہ سنا یا گیا ملزم کی جائیداد ضبط کر کے فر یادی کو دیدی گئی ، ملزم کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی اور لڑ کی کے ساتھ ملزم کا نکاح پڑھوا یا گیا ساتھ ساتھ لڑ کی کے باب کو بھی قید اور جرمانے کی سزا دی گئی میزان شریعت کے ان فیصلوں کو لوگ اب بھی یا دکرتے ہیں ان میں سستا انصاف تھا فو ری انصاف تھا اور عبرتناک سزا ئیں تھیں 1976ء میں انسپکٹر جنرل پولیس نے چترال کا دورہ کیا تو یہ دیکھ کر حیراں رہ گیا کہ پورا سال گذر گیا ہے چترال کے کسی تھا نے سے قتل ، اغوا، چوری اور ڈکیتی کی کوئی واردات رپورٹ نہیں ہوئی 1984ء میں صو بائی گورنر لفٹننٹ جنرل فضل حق نے چترال کا دورہ کر کے عما ئدین سے ملا قات کی اور کا لاش اقلیتی نمائیندے بشارا خان سے کہا ’’ میرے لائق کوئی خد مت ہو تو کہو‘‘ بشارا خان نے کہا مجھے جج لگاؤ جنرل صاحب نے پو چھا تمہاری تعلیم کتنی ہے ؟ بشارا خان نے کہا سوکھا ان پڑ ھ ہو ں ، جنرل صاحب بولے پھر کس طرح جج بنو گے ؟ بشارا خان نے کہا تمہارے جج کی طرح ہر پیشی پر تا ریخ دیدوں گا اسلامی ریاست کا ذکر خیر ہو اہے تو اس کی ابتدا ء میزان شرع کے قیام سے ہو سکتی ہے رہی بات ریاست مدینہ کی تو تاجدار مدینہ ﷺ کے بغیر ریا ست مدینہ کا نام لینا بے ادبی کی حد ہے شاعر نے کہا ؂
میرے تولفظ بھی کو ڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے حد ہے
تیری ہر بات ہے سر آنکھو ں پر
میری ہر بات ہی رد ہے حد ہے

Facebook Comments