شہ سرخیاں
Home / پاکستان / قدرت کا کرشمہ۔ توت کے تنے میں بڑ کا درخت۔ دونوں درخت بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ توت کے درخت میں بڑ کا درخت پہلا واقعہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الرشید سابق چئیرمین باٹنی ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی۔

قدرت کا کرشمہ۔ توت کے تنے میں بڑ کا درخت۔ دونوں درخت بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ توت کے درخت میں بڑ کا درخت پہلا واقعہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الرشید سابق چئیرمین باٹنی ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی۔

پشاور(گل حماد فاروقی) قدرت کا کرشمہ۔ ایک ہی تنے میں دو درخت۔ توت کے تنے میں بڑ (برگد) کا درخت قدرتی طور پر اگ چکا ہے جس کی جڑیں بھی توت کے درخت کے اندر گھسی ہوئی ہے۔ یہ عجیب و غریب درخت جہانگیر آباد میں ٹیوب ویل نمبر ۲ کے قریب قبرستان میں کھڑی ہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
پشاور یونیورسٹی میں باٹنی ڈیپارٹمنٹ کے سابق چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر عبد الرشید نے ہمارے نمائندے کو حصوصی انٹریو دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے پہلی بار ایسا درخت دیکھا جس میں کسی اور فیملی کا درخت اگ چکا ہو۔ انہوں نے کہا کہ توت کا درخت موسم حزاں میں خشک ہوتا ہے اس کے پتے جڑ جاتے ہیں مگر بڑ کا درخت سدا بہار ہے اور اس درخت کے بڑے بڑے پتے توت کے درخت میں نہایت خوبصورت لگتے ہیں۔ ڈاکٹر رشید کا کہنا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس قسم کے درختوں میں جن کے پتے جڑ جاتے ہیں ان میں سدا بہار درخت بھی لگاسکتے ہیں جن کے پتے موسم خزاں میں بھی سبز ہوتے ہیں اور ان میں پھلدار درخت بھی لگا سکتے ہیں۔
ذرعی یونورسٹی کے ایک اہلکار عصمت اللہ جو درختوں کی بیماریوں کی تشحیص کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ میں نے پہلی بار ایسا درخت دیکھا جو توت کے درخت میں بڑ کا درخت اگ چکا ہو اور ا س کی جڑیں بھی توت کے درخت کے اندر جاچکی ہو اور وہ توت کے درخت کے ذریعے زمین سے خوراک اور پانی حاصل کرتا ہو اور دونوں درخت صحت مند ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ باٹنی کے طلباء اور پودوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کیلئے بھی ایک اچھا مثال ہے اور اس سے وہ مزید سبق حاصل کرسکتے ہیں۔
اس علاقے میں ایک ضعیف العمر بابا جو ٹیوب میں ہوتا ہے کا کہنا ہے کہ میرا 58 سال عمر ہے میں نے اس درخت کو بہت بچپن میں دیکھا تھا مگر اس وقت صرف توت کا درخت تھا بعد میں اس میں بڑ کا درخت بھی اگ گیا اور اس کی جڑیں بھی اس کے اندر چلی گئی جو ایک تنا اور دو درخت ہیں۔
ڈاکٹر عبد الرشید نے مزید کہا کہ یہ درخت ماحولیاتی سیاحت کو بہت فروغ دیتا ہے اور حکومت کو چاہئے کہ اس کی حفاظت کرے تاکہ تحقیق کاروں، طلباء اور سیاحوں کیلئے مفید ثابت ہو۔

Facebook Comments