شہ سرخیاں
Home / آصفہ عالم / انسانی فطرت

انسانی فطرت

انسانی فطرت بھی عجیب شے ہے حالات کے ساتھ انسان کا موڈ بھی بدلتا رہتا ہے۔آپ اگر ہر انسان سے زندگی کی تعریف پوچھیں گے تو ہر انسان کی تعریف الگ ہوگی کیونکہ جن حالات اور وقت کا اسے سامنا ہوگا وہ انہی کے مطابق تعریف کرے گا۔غربت کا مارا ہوا انسان کہے گا زندگی جہنم ہے اسکے برعکس ایک خوشحال انسان زندگی کو جنت کہے گا۔مگر مجموعی طور پر زندگی جنت ہے نہ جہنم۔کیونکہ کوئی بھی انسان ایسا نہں جس کی زندگی پر مسلسل خوشیوں یا غموں کا ڈیرہ ہو۔یہ غم اور خوشیاں تو موسم کے طرح ہوتے ہیں کبھی غم خزان کے پتوں کی طرح گرتے ہیں اور کبھی خوشیاں بہار کی خوشبو بن کر ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔
یاد رکھیں کہ زندگی میں جب خوشیا ں آپ کا ہاتھ تھام لیں تو اس وقت غرور و تکبر ہر گز نہ کریں کیونکہ جو ذات خوشیاں دینے پر قادر ہے وہ چھینے پر بھی قادر ہے۔جس کی صفات وھاب اور داؤد ہے قھار بھی اسی ذات کی صفت ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ناراض ہوجائے اور آپ کی خوشیاں غموں میں بدل جائیں،وہ راضی ہوگا تبھی آپ کی کشی پار لگے گی ورنہ بیج گرداب میں پھنس کر ڈوب جائے گی۔اگر آپ کا اللہ آپ سے راضی تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں ہرا سکتی اور اگر وہ آپ کو ذلیل کرنا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی آپ کو عزت کا تاج نہیں پہنا سکتی۔
آپ اگر اپنے غموں اور خوشیوں کا دورانیہ دیکھنا چاہتے ہیں تو کائینات کے نظاروں پر غور کریں اس کے بعد نہ خوشیوں پر آپ گھمنڈ کرو گے اور نہ ہی اپنے غموں کا ماتم کرو گے۔چاند کو دیکھوپہلے پہل ایک باریک دھاری کی مانند دکھتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پورا ہوتا ہے اور اپنی پوری چاندنی کے ساتھ فلک کے نیچے زمیں کی گود کو روشن کرتا ہے۔لیکن پھر اچانک غائب ہوجاتا ہے۔یہ کیا تھا کیوں اور کیسے ہوا ۔یہ اسلئے ہوا کیونکہ یہ اللہ کے حکم کا پابند ہے اور یہی اس پر لازم ہے۔کیونکہ یہ اللہ کی مخلوق ہے کیونکہ بنانے والے نے فنا ہونے کو اسکے وجود کا حصہ بنایا ہے۔تبھی تو ابراھیمؑ نے کہا لااحب افیلین۔میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
اسی طرح دن اور رات بھی مسلسل ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں۔رات حکم کی پابند ہے حکم ہوتاہے تو دن کو سمیٹ لیتی ہے۔اسی طرح سورج کی مثال ہمارے سامنے ہے۔کائینات میں موجود کسی چیز کو دوام حاصل نہں تو آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ آپ کی زندگی میںآنے والے غم یا خوشیاں کو دوام حاصل ہے۔بلکل اسی طرح آپ بھی اور آپ سے منسلک افراد ،چیزیں اور یہ پوری کائینات کسی کو بقا حاصل نہیں۔تو اسی فانی دنیا میں ہمیں اچھے سے زندگی بسر کرنی ہے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں ہمارے مقصدِ حیات کا پتہ ہو۔ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی پتہ ہو۔عبادات کے ساتھ ہمارے معاملات بھی صحیح ہونے چاہیں تبھی ہماری زندگی بہتر یں ہو جائے گی۔
انسانی فطرت کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ مصیبت پڑتی ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کی اللہ کے سوا کوئی اس مصیبت کو دور کرنے والانہیں اسی لئے وہ پوری عاجزی اور خلوص کے ساتھ اپنے رب کو یاد کرتا ہے،وہ گڑگڑا کر التجا کرنے لگتا ہے کہ اے میرے رب اگر تو نے اس مصیبت کو ہٹادیا تو میں پھر کبھی تیری نافرمانی نہیں کروں گا مگر جیسے ہی اللہ اس کی سنتا ہے تو وہ پھر سے سرکشی کرنے لگتا ہے۔اسی انسانی فطرت کا ذکر اللہ سبحان تعالی نے قران میں متعد مقامات پر کیا ہے۔اور اسی وعدہ خلافی اور سرکشی سے بچنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
اے اللہ ہم سر سے پاؤں تک تیری پناہ میں آنا چاہتے ہیں ہر اس گناہ اور برائی سے جس سے تو نے منع کیا ہے کیونکہ نہیں ہے گناہ سے بچنے اور نیک کام کرنے کی طاقت مگر تیری طرف سے ، اللہ پاک ہمیں اپنے حبیب محمدﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔(آمین)

Facebook Comments