شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ایک مہنیے کے اندر اندر ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں تمام ویکنٹ عہدو ں پر نئے ڈاکٹرز تعینات کئے جائیں ۔وگرنہ چترال عوام کو لیکر احتجاج کا راستہ اپنانے مجبور ہوجائیں گے۔ضیاء الرحمن

ایک مہنیے کے اندر اندر ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں تمام ویکنٹ عہدو ں پر نئے ڈاکٹرز تعینات کئے جائیں ۔وگرنہ چترال عوام کو لیکر احتجاج کا راستہ اپنانے مجبور ہوجائیں گے۔ضیاء الرحمن

چترال ( نمائندہ چترال آفیئرز) پاکستان تحریک انصاف چترال یوتھ ونگ کے صدر ضیا ء الرحمن اپر چترال یوتھ ونگ کے صدر محمد ہارون اور صلاح الدین صدر یوتھ ونگ لوئر چترال نے ایک مشترکہ پریس ریلیزجاری کرتے ہوئے کہ ڈی۔ایچ کیو۔ہسپتال چترال میں کئے سالوں سے مختلف کیٹیگیریز کے ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی ہیں۔جن میں سے سینئر میڈیکل آفیسرز کے کل20 پوسٹ سنکشن ہیں صرف 4 پر ڈاکٹر موجود ہیں جبکہ 16پوسٹ ابھی بھی خالی پڑیں ہیں۔بار بار صوبائی گورنمنٹ سے اپیل کے باوجود چترال ہسپتال کو ڈاکٹر فراہم نہیں کئے گئے ۔میڈیکل آفیئسرز (ایم۔اوز) 43 سینکشن ہیں ان میں سے 32 پر ہیں 11ویکنٹ ہیں جبکہ 32 میں سے صرف15 یا 16 آن ڈیوٹی ہیں۔انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ چترال کے ڈی۔ایچ ۔کیو ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے آئی اسپیشلسٹ کی آسامی خالی ہے۔صوبائی گورنمنٹ کی بار بار یقین دہانی کے باوجود آئی اسپیشلٹ کی عدم دستیابی ایک سوالیہ نشان ہے۔اس کے علاوہ چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب ماہر نفسیات کی اشد ضرورت کے باوجود ماہر نفسیات کی آسامی بھی خالی پڑی ہے اس کے علاوہ پاکستان میں دل کی بیماریوں خصوصا چترال میں دل کے امراض میں اضافہ ہونا بھی باعث تشویش ہے اور کارڈیالوجسٹ ماہر امراض قلب کا نا ہونا بھی چترال کے عوام پر ایک ظلم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا سینئر ڈاکٹروں کو ایڈمینسٹریٹو عہدوں پر تعینات کیا جائے۔چترال کی آبادی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور ڈاکٹروں کی تعداد جوں کا توں ہے لہذا ہم صوبائی گورنمنٹ اور صوبائی وزیر صحت اور چیف سیکریٹری سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ایک مہنیے کے اندر اندر ان تمام ویکنٹ عہدو ں پر نئے ڈاکٹر تعینات کئے جائیں ۔وگرنہ چترال عوام کو لیکر احتجاج کا راستہ اپنانے مجبور ہوجائیں گے۔

Facebook Comments