شہ سرخیاں
Home / آصفہ عالم / روئیے

روئیے

کیا آپ نے کبھی اپنے اردگرد لوگوں کے رویوں پر غور کیا ہے کہ لوگ کسطرح سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں،کسطرح بات کرتے ہیں۔یقیناًآپ کو وہی لوگ اچھے لگیں گے جو خوش اخلاق ہوں ملنسار ہوں۔جن سے بات کرکے آپ کو خوشی محسوس ہو ۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا،آپ کا سلیقہ،آپ کی ڈریسنگ اور آپ کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا خاندان کیسا ہے،آپ کی تربیت کسطرح ہوئی ہے۔یہی وہ چند باتیں ہیں جس سے انسان کی پہچان ہوتی ہے ۔
ہمیں اللہ نے بہت سے خوبصورت رشتوں سے نوازا ہے۔ہمیں ان کی قدر کرنی ہوگی ورنہ ہم ان سے محروم ہوجائیں گے۔کیونکہ نعمتوں کی ناقدری کرنے والے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔قدر تو درکنار ہم تو ان وہ حق ہی ادا نہیں کرتے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ہم ساری زندگی گلہ ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔اور عمر کے آخری حد میں ہمارے ارد گرد مایوسیوں اور پچھتاوؤں کابسیرا ہوتا ہے۔اپنے بڑوں کو ان کا صحیح مقام دیں ان کے ساتھ شفقت اور نرمی سے پیش آئیں تا کہ کل کو آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو۔یقیناًہم کل کو وہی کاٹیں گے جو آج ہم بوئیں گے۔
کسی سے بات کرتے وقت اپنے الفاظ اور لہجے کا خاص خیال رکھیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی باتوں سے کسی کو تکلیف ہو۔کیونکہ الفاظ کے زخم کبھی نہں بھرتے۔اگر بھر بھی جائیں تو اپنا اثر اور نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ہمیں خاص خیال رکھنا چاہے کہ کسی بندے کا دل ہماری وجہ سے نہ دکھے،ہم کسی کے زخموں کا سبب نہ بنیں۔کیونکہ اللہ کا فرمان ہے دلوں کو جوڑنے والے کے لئیے جنت ہے تو یقیناًدلوں کو توڑنے والے کے لئے جہنم ہوگا۔
یہ کام خود سے شروع کریں لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں ،لوگوں سے بن کے رہیں ۔خالی گفتار کے غازی نہ بنیں۔ اگر کوئی تمہیں تکلیف دے تو درگزر کریں۔لیکن اگر بدلہ لو گے تو تم پر کوئی گرفت نہں لیکن صبر کے بدلے اللہ نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔برداشت اور صبر کے فرق کو جان لیں۔بدلہ لینے کا چارہ نہ ہو تو مجبورا ہم برداشت کریں گے لیکن طاقت ہوتے ہوئے اگر ہم سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیں اور صبر کرلیں یہ بڑی بات ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دکھ ،غم اور تکالیف زندگی کا حصہ ہیں۔اگر یہ حالات کے پیدا کردہ ہیں توان سے مت گبھرائے۔خدانخواستہ اگر یہ تکالیف اپنوں کی طرف سے پیٹھ پر لادے جاےءں تب صبر کو ہی اپنا ساتھی بنائیں۔اور خود کبھی بھی کسی کے درد کی وجہ نہ بنیں۔اللہ پاک ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے رشتوں کا احترام کریں اور ان کے ساتھ وہ محبت کریں جو ان کا حق ہے۔آمین
آصفہْ ْْْْْْْْْْْْْْْعالم

Facebook Comments