شہ سرخیاں
Home / آصفہ عالم / کامیابی

کامیابی

کامیابی کے اوپر بات کرنے سے پہلے ہم کامیابی کی تعریف کریں گے کہ کامیابی اصل میں کہتے کسے ہیں۔میری نظر میں ہر وہ بندہ کامیاب ہے جو اپنی زندگی میں خوش اور مطمین ہو اور جس نے اپنی محنت سے وہ سب کچھ حاصل کیا جس کا اس نے کبھی خواب دیکھا تھا۔ اس تعریف کے مطابق کامیابی کے لئے خواب دیکھنا لازم ہے۔آپ ایسے خواب دیکھیں جوآپ شرمندہ تعبیر کرسکیں۔ایسے خواب دیکھیں
جو آپ کو محنت کرنے پر مجبور کرے۔وہ جذبہ آپ کو اتنا مگن کرے کہ آپ اس وقت تک سر نہ ا ٹھاییں جب تک آپ اپنا target حاصل نہیں کرلیتے ۔
بندے کی محنت میں خلوص ،سچائی ، ایمانداری اور لگن ہوتو اللہ مدد ضرور کرتا ہے۔بندہ اگر محنت کرے تو اسے اپنی کامیابی کا یقین ہونا چاہیے۔جو کام کرے تو انجام کو سامنے دیکھ کر کرے۔اس کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔جس کام کی تلقین وہ دوسروں کو کرے اس کا اپنا فعل بھی اسی کے موافق ہو۔کامیابی کے لئیے ان چیزون کو اپنی زات کا حصہ بنائیں۔سب سے ضروری چیز کامیابی کے لئیے صبر ہے۔جس چیز پر آپ محنت کررہے ہیں کرتے رہیں جلد بازی نہ کریں۔کہتے ہیں کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ آپ کی کامیابی شور مچائے۔اس کے ساتھ اپنے راستے میں آئے ہوئے ہر رکاوٹ کا سامنا کرنا سیکھیں۔آپ کا حوصلہ اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ آپ کو کوئی رکاوٹ ،رکاوٹ نہ لگے۔کوئی مشکل،مشکل نہ لگے۔ پہلے سے ہی خود کو تیار کر لیں کہ مختلف حالات سے میں نے باہر کسطرح نکلنا ہے اور کسطرح اپنا کام جاری رکھنا ہے۔اگر اپنے راستے میں آئے ہوئے ہر کانٹے کو پھول کی طرح اٹھائیں گے تو یقین کر لیں کہ اللہ اس کانٹے کو واقعی پھول بنادے گا۔
تاریخ ایسے مثالوں سے بھری پڑی ہے جو ہمارے لئیے سبق ہیں۔کیا اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ کو اپنا مشن پورا کرنے کے لئیے رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ایک نہیں دو نہیں آپﷺ نے توہزاروں رکاوٹوں کو روند ڈالا۔آپ ﷺ نے دنیا کو دیکھا دیا کہ عزم،حوصلے اور اللہ پر توکل سے انسان کسطرح کامیاب ہوتا ہے۔قاےئداعظم کی مثال،جس نے اپنی صحت کی پرواہ نہیں کی۔آج دنیا اسے ایک عظیم رہنما کے طور پر جانتی ہے۔کیوں؟کیونکہ انہوں نے اپنے کاندھوں پر امت مسلمہ کا بوجھ اٹھایاوربخوبی اٹھایا۔پھر علامہ محمد اقبال ہیں جنہوں نے ہمارے لئیے خواب دیکھا اور قاےئداعظم جیسے عظیم لیڈر کو ہمارے لئیے چنا۔اور ان کی طرح کئی اور رہنما جنہوں نے عظیم کارنامے سرانجام دئیے اور تاریخ کے اوراق میں اپنا نام ثبت کرکے چلے گئیے۔آجکل ہم کیا کررہے ہیں بجائے ان کی طرح بنیں کے ہم ان کا دن منارہے ہیں۔
تھے تو وہ آبا تمہارے پر تم کیا ہو
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
ہم بھی انہی کی طرح لوگ ہیں اگر ہم بھی جاگ جاےءں،محنت کریں،اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لاےءں۔تبھی ہماری قابلیت سامنے آئے گی اور ہمارے بعد بھی دنیا ہمیں یاد رکھے گی۔واصف علی واصف نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر ہمارے آنے سے دنیا کو فرق نہیں پڑا تو ہمارے جا نے سے بھی کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔اور آخری بات کہ کامیابی کو قسمت کے ساتھ نہ جوڑیں۔آپ خلوص سے اپنا کام کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں یقیناآپ کہ قسمت خود بخود بن جائے گی۔اور سب سے اہم کہ اپنے بڑوں کی دعائیں ضرور لیں۔یہ دعائیں ہی ہیں جو ایک پتھر کو ہیرا بناتی ہیں اور ایک عام سے انسان کو ایک اعلی مقام تک پہنچاتی ہیں۔
آصفہ عالم

Facebook Comments