شہ سرخیاں
Home / آصفہ عالم / اخلاق

اخلاق

کہتے ہیں باادب ،بانصیب اور بے ادب،بد نصیب۔یہ بات سوفیصد صحیح ہے۔ادب،نرم مزاجی،اور خوش اخلاقی ہی انسان کو اعلی مقام دلاتی ہیں۔آپ ایک بداخلاق اور مہذب انسان کا موزانہ کرکے دیکھ لیں آپ کو زمیں آسمان کا فرق محسوس ہوگا۔ایک بداخلاق انسان پر اس کی بد اخلاقی کا اثر مختلفْ صورتوں میں ہوتا ہے ۔اول تو اس کی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔کیونکہ شخصیت کی تعمیر کے لےئے اخلاق ہی بنیاد بنتی ہے۔تو جب بنیاد ہی صحیح نہیں ہوگی تو عمارت بھی ٹھیک نہیں بنے گی۔اور بداخلاق انسان کی زندگی سے سکوں چلی جاتی ہے۔اوراگر خدانخوستہ بداخلاقی اس کی فطرت بن جائے تواسے محسوس ہی نہیں ہوگا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتا ہے۔
انسان کو اللہ نے فطرتا سلیم پیدا کیا ہے۔اسلئے جب وہ غلط کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے۔لیکن جب وہ ضمیر کو تپھکی دے کے سلا دیتا ہے۔تب اسے بڑی غلطی بھی چھوٹی لگتی ہے۔اسلئے کسی بھی غلط کام کو اپنی فطرت نہ بنائیں۔انسان کی بداخلاقی اس کے آس پاس کے لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔لوگ ایسے شخص سے دور بھاگتے ہیں،اس سے ملنا پسند نہیں کرتے اور دل سے عزت بھی نہیں کرتے۔اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ صرف عبادات ہی نہیں اخلاقیات بھی اسلام ہے۔حسن سلوک اور بڑوں کا احترام بھی اسلام ہے۔کسی کے لئے اچھا سوچنا اور بولنا بھی اسلام ہے۔اور سب سے اہم دوسروں کی خوشیوں پر خوش ہونا بھی اسلام ہے۔
ایک صحابی کو نبیﷺ نے جنت کی بشارت دی تو دوسرے صحابی نے سوچا کہ کیوں نہ میں اس کے کو دیکھ لوں کہ وہ کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے یہ بندہ جنت کا مستحق ٹھرا۔پھر یہ تین دن تک ان صحابی کے ہاں مہمان رہا۔اس نے دیکھا کہ وہی معمول کی عبادتیں ہیں ،کوئی کام بھی اسے غیر معمولی محسوس نہ ہوا۔بلاآخر اس نے خود ہی پوچھ لیا۔تو انہوں نے بتایا کہ میں زائید عبادت نہیں کرتا بس رات کو سوتے وقت اپنے دل کو صاف کرکے سوتا ہوں۔اس دل میں کسی بندے کے لےئے بعض،کینہ اور حسد نہیں ہوتا۔میں کسی بندے کے لئے برا نہیں سوچتا۔
یہ اچھے اخلاق ہی ہیں جو بندے کو اعلی مقام سے سرفراز کراتی ہیں۔خود اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر کہتے ہیں کہ اپنی آوازوں کو پست رکھا کروکیونکہ سب سے بری آواز گدھے کی ہوتی ہے۔اللہ تعالی کو پست آواز اور متوازن چال پسند ہے۔چناچہ فرماتے ہیں کہ زمین پر آہستہ چلا کرو،اکڑنے سے کچھ نہیں ہوگا نا ہی تم زمین کو پھا ڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکتے ہو۔اخلاق کی اعلی مثال کے طور پر اللہ تعالی نے نبیﷺ کی ذات گرامی کو ہمارے سامنے رکھا ہے۔فرماتے ہیں (انک لعلی خلق عظیم)بے شک آپ ﷺ اخلاق کے اعلی مرتبے پر فائز ہیں۔
رحم دلی اور ا چھا سلوک بھی اچھے اخلاق کے زمرے میں آتے ہیں۔رشتوں میں خوبصورتی اچھے اخلاق ،محبت اور رحم دلی ہی کی بدولت آتی ہے۔اور ر حم دلی انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بے زبان جانوروں سے بھی اچھے سلوک کا ہمیں اجر ملتا ہے۔
ایک مرتبہ نبیﷺ نے حضرت عائشہ سے کہاعائشہ!آج جو مانگنا ہے مانگ لو۔تو عایشہؓدوڑ کے ابوبکرؓ کے پاس چلے گئے۔اور ان سے مشورہ کیا کہ ابا جا ن میں نبی ﷺ سے کیا مانگوں۔تو نبیﷺکے یارغار نے کہا عایشہؓ !نبیﷺ سے کہنا کہ معراج کے سفر میں اللہ اور اس کے حبیب کے بیچ میں راز کی باتیں تو ہوئی ہونگی ان باتوں میں سے کوئی ایک بات پوچھ لینا۔واپس آکر نبی ﷺ سے حضرت عایشہؓ نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا عایشہ سن لینامعراج کے سفر میں اللہ نے مجھ سے کہا کہ جس نے کسی بندے کی دل آزاری نہیں کی تو اسکے لئے جنت واجب ہے۔حضرت عایشہؓ نے یہ خوشخبری ابوبکرؓ کو سنائی تو وہ رونے لگے اور کہا عایشہؓ دوسرے رخ کو بھی دیکھو کہ جس نے کسی کا دل دکھایاتو اس کے لئے یقیناًجہنم ہوگا۔
بضاہر یہ چیزیں معمولی لگتی ہیں لیکن غور اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے ان کی اہمیت کیا ہے۔خاص طور پر انسان کو صحیح واقفیت تب حاصل ہوتی ہے جب وہ خود اس صورتحال سے دوچار ہو۔جب آپ کا دل خوش اور مطمین ہوگا تو آپ کسی ٹوٹے ہوئے دل کی بے چینی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔اسلئے کوشش کریں کہ آپ کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنیں۔اخلاق اور حسن سلوک کو اپنی شخصیت کا جز بنائیں ۔اللہ تعالی ہمیں نبیﷺ کی زندگی پر دل وجان سے عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

Facebook Comments