شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سڑک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق دوسرا شدید زحمی۔ زحمی کو پشاور ہسپتال ریفر کیا گیا۔

سڑک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق دوسرا شدید زحمی۔ زحمی کو پشاور ہسپتال ریفر کیا گیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) بونی روڈ پر ریشن کے مقام پر المناک سڑک حادثہ پیش آیا جس میں ایک نوجوان جاں بحق اور دوسرا جاں بحق ہوا۔ یہ حادثہ ہمارے نمائندے کے بالکل سامنے پیش آیا جس میں دو موٹر سائکل سوار ریشن سے بونی کی طرف جارہے تھے جب وہ دومون گول کے مقام پر حطرناک موڑ اور اترائی عبور کر رہے تھے تو اس سے موٹر سائکل بے قابو ہوکر سڑک کے کنارے حفاظتی دیوار سے ٹکرا گیا مگر دیوار اتنی کمزور اور ناقص معیار کی تھی کہ وہ ایک موٹر سائیکل کو بھی برداشت نہ کرسکا اور دونوں ہزاروں فٹ نیچے گہرے کھائی میں گر گئے۔
ہمارے نمائندے نے موقع پر سڑک پر جانے والے گاڑیوں کو روکا، لوگوں کو جمع کیا اور ان کو اس مقام پرنیچے بھیجا جہاں یہ دونوں جواں پڑے تھے۔ بدقسمتی سے وہاں جانے کیلئے کوئی راستہ بھی نہیں تھا مگر لوگوں نے بڑی قربانی دیکر ہمدردی کا مظاہرہ کیا اور برساتی نالے میں کود پڑے۔
مقامی لوگوں نے دونوں کو وہاں سے اٹھایا مگر اس نالے سے ان کو سڑک پر لانے کیلئے کوئی راستہ کوئی جگہہ نہیں تھی۔ ایک مسافر سے چادر لیکر اس چادر میں ان کو باندھ کر اوپر کھڑے لوگوں نے ان کو کھینچا اور سڑک تک لانے میں کامیاب ہوئے۔
اس حادثے میں مہیب ولد حبیب الرحمان سکنہ ریشن موقع پر جاں بحق ہوا جبکہ برہان الدین ولد اسرار الدین شدید زحمی ہوا۔ مقامی لوگوں نے حادثے کی وجہ ایک تو تیز رفتاری بتائی دوسرا کم عمر لڑکوں کا موٹر سائکل بغیر لائسنس کے چلانا ہے۔ جائے حادثہ پر کھڑے ایک شحص نے شکایت کی کہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات) کی کام اتنی ناقص ہے کہ ان کا بنایا ہوا سڑک کے کنارے حفاظتی دیوار ایک موٹر سائکل کو نہیں روک سکا تو بھاری گاڑی کو کیسے قابوں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کہ انکا زیادہ تر عملہ گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جبکہ روڈ کولی اور دیگر عملہ سڑک کی مرمت پر اگر دن میں ایک گھنٹہ بھی کام کرتے تو سڑک کی حالت قدرے بہتر ہوتی۔
مقامی لوگوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ جگہہ موت کا کنواں بن چکا ہے یہاں پر کئی حادثات پیش آئے جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس جگہہ پر ایک آر سی سی پُل تعمیر کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حادثات میں انسانی جانیں ضائع نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سی اینڈ ڈبلیو کی کام کی جائزہ بھی لیا جائے تاکہ کام معیاری کرے اور ان کا عملہ بھی گھر بیٹھے تنخواہیں نہ لے۔

Facebook Comments