شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال: اپر چترال کو ضلع اپر چترال کا درجہ دینے پر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نئے ضلع میں ڈپٹی کمشنر بھی آیا۔ قلم قبیلہ کے ادبی تنظیم نے جشن منایا۔ چار سو سال پرانی ثقافت کو بزرگ فنکاروں سے دوبارہ زندہ کروایا گیا۔

چترال: اپر چترال کو ضلع اپر چترال کا درجہ دینے پر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نئے ضلع میں ڈپٹی کمشنر بھی آیا۔ قلم قبیلہ کے ادبی تنظیم نے جشن منایا۔ چار سو سال پرانی ثقافت کو بزرگ فنکاروں سے دوبارہ زندہ کروایا گیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے کو ضلعی اپر چترال کا درجہ دینے پر علاقے کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ادبی تنظیم قلم قبیلہ نے اس خوشی میں جشن منائی اور ادبی تقریب منعقد کیا۔ اس تقریب میں چپالی اور بالائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سال پرانی ثقافت نہوتیک اور پھستوک بھی بزرگ شہریوں سے منایا گیا جو رضاکارانہ طور پر اس فن کو پیش کرتے ہیں۔ ان بزرگ شہریوں میں ایک ایسا شحص بھی تھا جو دونوں آنکھوں یعنی بینائی سے معذور تھا۔اس رسم میں شادی بیاہ کے وقت یہ بزرگ شہری ہاتھوں میں دف اٹھاتے ہوئے اسے بجاتے ہیں اور روایتی گیت گاتے ہیں۔
گانے کے ساتھ ساتھ ایک حاص انداز میں ایک محصوص رقص بھی پیش کرتے ہیں جس میں آواز نکالنے کے ساتھ یہ فنکار یکدم زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور فوری اٹھتے ہیں۔
اس ثقافتی شو میں ایک ڈرامائی انداز میں اس صدیوں پرانی ثقافت کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں ایک لڑکے کو دولہا اور دوسرے کو دلہن بناکر ان کی برات لائی گئی۔
دلہن لانے سے پہلے یہ بزرگ شہری دف بجاتے ہوئے ان کے گھر جاتے ہیں گیت گاتے ہیں اور پھر دلہن کو لیکر ان سے پہلے برات کی شکل میں آتے ہیں اور راستے میں بھی گیت گاتے ہیں۔ جب دلہن کے گھر جاتے ہیں اس رسم کو نہوتیک کہتے ہیں جب واپسی پر گیت گاکر محصوص انداز میں رقص پیش کرتے ہیں اسے پھستوک کہتے ہیں۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ادبی تنظیم قلم قبیلہ کے صدر ذاکر محمد زحمی نے کہا کہ یہ صدیوں پرانی ثقافت اور رسم ہے جو ابھی ناپید ہوتی جارہی ہے اور نوجوان نسل اس کو بھول رہے ہیں اگر اس ثقافت اور ان بزرگ شہریوں کو حکومتی سرپرستی یا تعاون حاصل نہیں ہوا تو پھر شائد اس کی تصاویر صرف کتابوں میں ملے گی۔
انور ولی خان نے حال ہی میں قائد اعظم یونیورسٹی سے ماسٹر کیا ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی زبان یا ثقافت کو جب تک حکومتی سرپرستی نہیں ملتی تو وہ حتم ہوجاتی ہے اسلئے ہم وفاقی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے زبان اور اس صدیوں پرانی ثقافت اور رسم کو بھی سرکاری ٹیلیویژ ن میں نشر ہونے کیلئے کچھ وقت دے۔
اس تقریب میں محتلف شعراء، ادباء، اساتذہ، ماہرین، سماجی کارکنان، فنکاروں اور علاقے کے معززین نے بھی اظہار حیال کیا اور اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے پر زور دیا کیونکہ چترال کی مثالی امن کا راز اس کی محصوص ثقافت میں ہے۔
بعد ازاں اس تقریب میں ان بزرگ شہریوں سمیت دیگر فنکاروں، ادیبوں، شعراء اور سماجی کارکنوں کو ایوارڈز (انعام) دئے گئے۔ اس ادبی تقریب کو تحصیل نائب ناظم فخر الدین کی تعاون حاصل تھی۔اس تقریب میں نئے ضلع کو درپیش مسائل، مشکلات اور ان کی ممکنہ حل پر ماہرین نے مقالہ جات بھی پیش کئے۔ اس موقع پر سیکرٹری ریٹائرڈ رحمت غازی مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ماہر تعلیم مکرم شاہ نے کی۔ اس تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
تقریب سے منصور شباب فنکار، انصار الہی، سابقہ ایم پی اے سردار حسین، صادق اللہ صادق، بابا فتا ح الدین، آفتاب عالم، افضل اللہ افضل، عنایت اللہ اسیر، چئیرمین فضل الرحمان، ذاکر محمدزحمی،فخر الدین، مکرم شاہ، ظفراللہ پرواز، کریم اللہ اور دیگر نے اظہار حیال کیا۔ تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

Facebook Comments