شہ سرخیاں
Home / پاکستان / چاند کی حقیقت اور رویت ہلال کا مسلہ

چاند کی حقیقت اور رویت ہلال کا مسلہ

اللہ تعالی کی پیداکردہ یہ کائنات بہت وسیع ہے۔معلوم کائنات میں تقریباً دو سو بلین تک کہکشان دریافت ہو چکے ہیں ۔ہر کہکشان بذات خود اربوں ستاروں کا ایک دستہ یا گروپ ہوتاہے،جو کشش کی قوت کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر ہر ستارے کا ایک خاندان یا نظام ہوتا ہے جس کے گرد سیارے،سیارچے،دم دار سیارے گھوم رہے ہوتےہیں۔اور چاند سیاروں کے گرد گردش کرتے ہیں۔
کائنات میں کوئی چیز جامد یا ساکن نہیں ہے جس طرح قرآن میں ارشاد ہے” کل فی فلک یسبیحون” ستاروں کی اپنی روشنی ہوتی ہے۔ سیاروں اور چاند کی اپنی روشنی نہیں ہوتی ہےبلکہ یہ ستاروں سے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ہمارا سورج بھی ایک ستارہ ہے جس کے گرد آٹھ سیارے ہزاروں سیارچے گھوم رہے ہیں۔سورج کے خاندان میں بعض سیاروں کے کئی کئی چاند دریافت ہو چکے ہیں ،اور بعض کے ابھی تک کسی چاند کا پتہ نہیں چلا ہے،مثلاً عطارد اور زہرہ کا کوئی چاند دریافت نہیں ہوا۔زمین کا ایک چاند مریخ کے دو ،مشتری کے ۶۷زحل کے ۶۲،یورینس کے ۲۷اور نیپچون کے ۱۴اورپلوٹوسیارچےکے پانچ چاند دریافت ہو چکے ہیں۔اس طرح 2018 کے اختتام تک نظام شمسی میں چاندوں کیی تعداد 193 تک پہنچ چکی ہے.
آئیے اب ذرا زمین کے چاند کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہماری زمین کا ایک ہی چاند ہے جو زمین کے گرد ۲۲۸۸میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک بیضوی شکل کے مدار میں گھوم رہا ہے۔اور چودہ لاکھ ۲۳ہزار میل کا فاصلہ ۲۷دن ۷گھنٹے اور ۳۴منٹ میں مکمل کرتی ہے۔اسمان پر دیگر ستاروں کے حساب سے یہ چاند کا ایک مہینہ پورا ہوتا ہےلیکن چونکہ چاند گردش کے دوران زمین کا ساتھ نہیں چھوڑتی اور زمین سورج کے گرد گردش کرکے کچھ اگے نکل جاتی ہےاس طرح چاند کو کچھ فاصلہ مذید طے کرنا پڑتاہے اور اس طرح ۲۹دن ۱۲گھنٹے میں دوبارہ نئے چاند کا آغاز ہوتاہے۔اس طرح قمری مہینہ ساڑھے ۲۹دن کا ہوتا ہے۔اور قمری سال تقریباً ۳۵۴دنوں کا ہوتا ہے،جس طرح بتایا گیا کہ چاند کا مدار بیضوی شکل کا ہوتا ہے اس لئے چاند اور زمین کے درمیان فاصلہ کبھی کم سےکم ہو کر ۲۲۱۴۶۳میل رہ جاتا ہےاور کبھی زیادہ سے زیادہ ہو کر ۲۵۲۷۱۰میل رہ جاتاہے۔
چاند کا رفتار بھی فاصلے کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے،یہ اگر زمین کے قریب ہو تو اس کی رفتار تیز ہوتی ہے،اور اگر فاصلہ دور ہو تو رفتار آہستہ ہوتی ہے۔چاند کی روشنی زمین تک سوا سیکنڈمیں پہنچتی ہے،چاند کا قطر ۲۱۶۰میل ہے،اور اس کا حجم زمین کے حجم کا ۱/۴۹ہےیعنی ہماری مین سے ۴۹چاند بن سکتے ہیں ۔اگر ہم زمین کو باسکٹ بال سے تشبیہ دیں تو چاند ٹینس بال کے برابر تصور ہوگا ۔چاند کا وزن زمین کے وزن کا ۱/۱۸اور کشش ثقل زمین کے ۱/۶ کے برابرہے،چاند کی محوری گردش زمین کے محوری گردش کے موافق یعنی مغرب سے مشرق کی جانب ہے اس لئے چاند کا ہمیشہ ایک ہی رخ زمین کی طرف رہتاہے،البتہ انعطاف کی وجہ سے ہم چاند کے سطح کا ۵۹فیصدزمین سے مشاہدہ کر سکتے ہیں،چاند کی سطح پر سایہ نہیں ہوتا کیونکہ وہاں پر ہوا نہیں ہے۔اس لئے چاند پر یا تو مکمل روشنی ہے یا مکمل اندھیر ا ۔چاند پر دن اور رات دو دو گھنٹے کے ہوتے ہیں۔
چاند کی شکلیں:
چاند زمیں کے گرد اور زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔اس لءے زمین سورج کی روشنی کو ہمیشہ چاند کے مکمل سطح پر پہنچنے نہیں دیتی ۔زمین کی رکاوٹ کی وجہ سے چاند کے کبھی چھوٹے اور کبھی بڑے حصے پر سورج کی روشنی پہنچتی ہے،تو جتنا حصہ اس روشنی سے چمکتاہے ہمیں چاند کی اتنی شکل بنتی نظر آتی ہے ۔کبھی پورے چاند پر روشنی پڑتی ہے جو گول شکل کا پور اچاند نظر آتا ہے۔اس طرح کبھی چاند ہلال کبھی بدر بن جاتاہے۔ہلال کی حالت میں چاند کے بہت باریک حصے پر روشنی پڑتی ہے ،پھر اس کا سائز بڑ ھتا جاتاہے سات دن کے بعد ادھا اور ۱۴دن کے بعد وہ مکمل چاند بدر کی حالت میں ہوتا ہے۔پھر اس کا سائز گھٹنے لگتا ہے ،۲۱دن بعد وہ دوبار ہ ادھے اور ۲۴دن بعد وہ غائب ہوتاہے ،اس پوزیشن کو محاق کھتےہیں۔اس وقت چاند کے اس حصے پر روشنی پڑتی ہے جوزمین کی طرف نہیں ہوتا۔
چاند گرہن اور سورج گرہن:
جس طرح بتایا گیا کہ چاند زمین کے گرد اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے،اس طرح کبھی کبھی چاند زمین اور سورج کے درمیان میں آتاہےاور زمین کے بعض حصوں پر سورج کی روشنی چھپا دیتی ہے ،اسے سورج گرہن کھتے ہیں۔اور کبھی کبھی زمین چاند
اور سورج کے درمیان میں آتی ہے اورچند تک سورج کی روشنی پہنچنے نہیں دیتی ،اسے چاند گرہن کھتےہیں۔یوں تو ہر مہینے چاند زمین اور سورج کی سیدھ میں آجاتےہیں لیکن گرہین نہیں ہوتے۔کیونکہ چاند کے مدار اور سورج کے مدار ہم سطح ہیں ہیں،بلکہ چاند کے مدار اور زمین کے مدار کو ۵ء۵درجے کے زاوئے پر دو نقاط پر کاٹتی ہے،پس چاند جب بدر کی حالت میں یا محاق کی حالت میں ان نقاط پر یاان کے قریب ہوگا گرہین ہوگاورنہ نہیں ہوگا۔
چاند تقریبا ۱۶دن خط استوا کے شمال میں اور ۱۶دن اس کے جنوب میں گھومتا ہے ۔ماہرین آج کل چاند گرہن اور سورج گرہن کے بارے میں بہت پہلے حساب لگاتے ہیں اور اس کا وقت ،علاقہ ،دورانیہ سب کچھ بتا دیتے ہیں۔سیورس کے طریقے کے مطابق جس تاریخ کو چاند گرہن ہوتاہے اس کے ۱۸سال ۱۱دن اور ۸گھنٹے بعد چاند گرہن ہوگا البتہ جگہ مختلف ہوگا۔سورج گرہن کے وقت چاند کا سایہ زمین تک پہنچتے پہنچتے ڈیڑھ سو میل یا اس سے بھی کم رہ جاتاہے ،جبکہ زمین کا سایہ کائنات میں ۸۵۷۲۰۰میل تک چلا جاتا ہے۔
اس لئے مکمل سورج گرہن صرف چند منٹ کا ہوتا ہے،اور چاند گرہن ڈیڑھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔
چونکہ نئے چاندوں کے درمیان وقفہ ساڑھے ۲۹دن کا ہوتا ہےاور پورا مدار ۳۶۰درجے کا ہوتا ہےاس لئے چاند کو روزانہ پونے تیرہ درجے اپنے کل کے مقام سے پیچھے ہٹنا ہوگااور خط نصف النہار پر چاند ایک درجہ ۴ منٹ میں طے کرتا ہےاس لئے چاندکو روزانہ ۵۱منٹ
پیچھے ہونا چاہئےلیکن اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے،چونکہ چاند اور زمین کے مدار ہم سطح نہیں ہیں ،اس لئے اس میں کچھ فرق رہتاہے
اور یہ بھی ضروری نہیں کہ چاند ۱۶تاریخ کو ہی مکمل گول یا بدر کی حالت میں ہو،اس میں بھی فرق ہو سکتا ہے۔کبھی کچھ آگے اور کبھی کچھ پیچھے اوقات میں چاند مکمل گول ہوجائے اور یہ کوئی کلیہ نہیں ہے کہ ۱۶تاریخ کو ہی چاند بدر کی حالت میں ہو ۔اس لئے حدیث شریف میں بھی چاند کے موٹائی کو دیکھ کر اس کی عمر بتانے کو منع کیا گیا ہے۔
اگر چاند کا سفر شمال کی طرف ہو تو یہ اگلے دن زیادہ عرصے افق پر رہتا ہے یعنی جلدی طلوع ہوتاہے اور دیر سے غروب ہوتا ہےاوراگر چاند کا سفر جنوب کی جانب ہو تو یہ کم عرصے کےلئے افق پر رہتاہے دیر سے طلوع ہوتاہے اور جلدی غروب ہوتاہے۔
چاند کا ماضی:
چاند کے ماضی کے بارے میں سائنسدانوں کے آراء ہیں ۔کچھ کا خیال ہے کہ یہ زمیں کا ایک علحیدہ شدہ حصہ ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ بحرالکاہل کے کے مقام سے کسی وجہ سے جدا ہوا ہے۔بعض کا خیال ہے کہ چاند کہیں اور پیدا ہوا اور زمیں نے اسے اپنے کشش کے اثر میں لے کر اپنے گرد گھومنے پر مجبور کر دیا ہے۔کوئی حتمی رائے نہیں دے سکے ہیں اللہ تعالی ہی بہتر جانتاہے۔

چاند پر انسانی قدم:
انسان نے چاند کو مسخر کرنے کے لئے مہم کافی عرصہ پہلے شروغ کیاتھا لیکن اسے پہلی کامیابی ۱۹۶۹ءکو ملی جب "نیل ارم سیٹرانگ”نے چاند پر قدم رکھا۔اس کے بعد ۱۹۶۹ءسے ۱۹۷۲ءکے درمیان مختلف میشن بھیجے گئےاور ابھی تک ۱۲انسانوں نے چاند پر قدم رکھا ہےاور ان لوگوں نے اپنے ساتھ ۳۸۲کلو گرام سنگ ریزے وغیرہ لائے۔ان سے چاند کی عمر کا پتا چل گیا کہ چاند کی عمر چار ارب تیس کروڑ سال ہے جبکہ زمین کی عمر چار ارب پچاس سے ساٹھ کروڑسال ہے۔گو یہ چاند زمین سے ۲۰سے ۳۰کروڑ سال چھوٹا ہے۔
چاند کی سطح:
چاند کی سطح تین حصوں پر مشتمل ہے۔اس میں اونچے علاقے،میدانی علاقےاو رمختلف سائز کے گڑھےپائےجاتے ہیں۔جن کی تعداد تین لاکھ تک ہے،یہ گڑھے چاند پر بیرونی سیارچوں کے گرنے کی وہ سے بن گئے ہیں کیونکہ چاند پر ہماری زمین کی طرح کرہ ہوائی نہیں ہےجو ان گرنے والے شہابیوں کو روک کر جلائے۔
چاند کے سطح کی درجہ حرارت:
چونکہ چاند پر کرہ ہوائی نہ ہونے کی وجہ سے دن کے وقت درجہ حرارت ۱۰۰درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتی ہےاور رات کو درجہ حرارت منفی ۱۷۳درجہ سینٹی گریڈ تک گر جاتی ہے۔
رویت ہلال:
چاند کی پیدائیش زمین کے آسمان پر ایک ہی وقت میں ہوتی ہے۔لیکن چاند پیدا ہوتے ہی انسانی نظر مین انے کے قابل نہیں ہوتا ۔کافی وقت گذرنے کے بعد یہ انسانی نظر مین آنے کے قابل ہوتا ہے،چونکہ چاند کا مدار بیضوی شکل کا ہوتاہے اس لئے چاند اور زمین کے درمیان فاصلہ کبھی ۲۵۲۷۱۰میل تک زیادہ ہوتا ہے اور کبھی ۲۲۱۴۶۳میل تک کم ہوجاتاہے،اس لئے اگر چاند زمین کے قریب ہو تو کم از کم ۱۷ گھنٹے کی عمر کے بعد چاند انسانی نظر مین آنے کا امکان ہوتاہے اور اگر فاصلہ زیادہو تو ۲۴گھنٹے کی عمرکے بعد چاند انسانی نظر میں آنے کا امکان نہیں ہوتا۔بعض اوقات لوگوں کو شک ہوتا ہے جب وہ دوسرے دن کے چاند کے سائز کو دیکھتے ہیں جو بڑانظر آتا ہےتو کہتے ہیں کہ حکومت نے ایک دن کی غلطی کر دی ۔لیکن یہ بار صحیح نہیں جیسے مثال کے طور پر اگر پہلے دن چاند کی عمر ۱۵یا ۱۶گھنٹے کی ہو تو وہ انسانی نظر میں نہیں آئے گااور دوسرے دن وہ ۱۶+۲۴=۴۰ گحنٹے کا بن جائے گا۔جو بڑ بھی ہوگا اور ذیادہ عرصے تک افق پر بھی رہے گا۔یقینی طور پر ۲۹دن والے مہینے کے چاند سے ۳۰دن والے مہینے کا چاند بڑا دیکھائی دے گا اس میں شک نہیں ہونا چاہئے ۔۲۰گحنٹے کی عمر والا چاند ۴۵منٹ افق پر درہے گا اس کے علاوہ شرقی نصف کرے کے مغربی علاقون میں چاند پہلے نظر آسکتا ہے کیونکہ مشرقی علاقوں میں چاند کی عمر ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہیں آسکتا جبکہ مغربی علاقونن مین پہنچتے پہنچتے اس کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑا ہوتاہے اور وہ نظر بھی آتاہے ۔ہمارے ملک کے بھی انتہائی مغربی علاقو ں مثلاً گوادر ،پسنی اور جیوانی وغیرہ مین دوسرے علاقوں کی نسبت چاند نظر آنے کے امکانات ذیادہ ہیں۔اور مشرقی وسطی کے ممالک میں اس لئے چاند پہلے نظر آتاہے ۔موسم گرمامیں ملک کے انتہائی شمالی علاقوں مثلاً چترال اور گلگت میں چاند نظر آنے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ چاند نظر آنے کے لیے سورج چاند اور زمین کے درمیان بننے والے زاویے کی بھی اہمیت ہے.اگر یہ زاویہ 9 درجے سے کم ہو تو سائز بڑا ہوکر بھی چاند نظر نہیں آسکتا اور اس کے علاوہ موسم اور افق کی شفافیت بھی اہمیت کے حامل ہے.اور بادل چھاجائے اور گرد آلود ہوا کی کیفیت ہو تو چاند نظر نہیں آسکتا.چونکہ زمین کے مدار اور چاند کے مدار میں تبدیلی آتی رہتی ہے کیونکہ یہ ہمسطح نہہں ہے اور فظا کی کیفیت بھی یکساں نہیں رہتی اور چاند کی مداری رفتار میں بھی فرق ہوتا ہے.کھبی زمین قریب ہو کر تیز گھومتی ہے اور کھبی زمین سے دور ہوکر آہستہ گردش کرتی ہے. اسلیے ہم سائنسی طور پر مستقبل کے چاند کی پیدائش اور پوزیشن کے بارے میں بات کر سکتے ہیں.البتہ رویت ہلال کےبارے میں یقینی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس میں کئ ایک عوامل کارفرما ہے جو بدلتے رہتے ہیں.اس لیے حدیث میں بھی چاند کو دہکھ کر روزہ رکھنے اور چاند کو دیکھ کر عید منانے کا حکم دیا گیا ہے.سائنسی طور پر رویت ہلال کا کوئی کلینڈر یا کسی اور ملک کے اعلان اور مرتب کردہ کلینڈر کی پیروی کرنے کے پابند نہیں ہو سکتی کیونکہ ہمارے اور ان کے جغرافیائی حالات اور وقت ایک دوسرے سے مختلف ہیں.

Facebook Comments