شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / محصوص ثقافت کے حامل کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش کو دیکھنے کیلئے سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے وادی کیلاش کا رح کیا ہوا ہے۔

محصوص ثقافت کے حامل کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش کو دیکھنے کیلئے سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے وادی کیلاش کا رح کیا ہوا ہے۔

چترال(گل حماد فاروقی) بین الاقوامی اہمیت کے حامل کیلاش قبیلے کے لوگ
سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش منارہے ہیں۔ اس تہوار میں  کیلاش خواتین نئے
کپڑے پہن کر رقص کرتی ہیں اور مذہبی گیت گاتی ہیں۔  یہ خواتین ایک دوسرے
کے کندھے پر ہاتھ ڈال کر گول دائرے میں رقص پیش کرتی ہیں جو ان  کی مذہبی
رسومات کا حصہ ہے۔
چیلم جوش  کا تہوار جسے جوشی بھی کہلاتا ہے وادی رمبور سے شروع ہوتا ہے
اس کے بعد وادی بمبوریت میں اسے نہایت جوش و حروش کے ساتھ منایا جاتا ہے
اور آحری رسومات وادی بریر میں ادا کی جاتی ہے۔
چیلم جوش کا یہ رنگا رنگ اور خوبصورت تہوار دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں
غیر ملکی سیاح بھی وادی کیلاش پہنچ چکے ہیں۔  ہمارے نمائندے سے باتیں
کرتے ہوئے چند غیر ملکی سیاحوں نے بتایا کہ انہیں یہ تہوار دیکھ کر نہایت
خوشی ہوئی  اور یہاں کے پر امن ماحول اور مہمان نوازی کی ثقافت سے وہ بہت
متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مغربی میڈیا میں پاکستان کے حلاف نہایت
منفی پراپیگنڈہ پھیلا یا جارہا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے مگر
یہاں آکر وہ سب الزامات غلط ثابت ہوئے۔
انہوں نے دنیا بھر کے سیاحوں سے خواست کی کہ وہ آئے اور چترال کے وادی
کیلاش کی اس مثالی پر امن ناحول سے لطف اندوز ہوجائے۔
چند کیلاش لڑکیوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس
تہوار میں نئے کپڑے پہنتے ہیں  گیت گاتی ہیں اور خوب رقص پیش کرتی ہیں وہ
بہت خوش ہیں۔
چیلم جوش کا یہ تہوار رمبور اور بمبوریت میں منانے کے بعد وادی بریر میں
احتتام پذیر ہوگا۔ اس تہوار میں کیلاش خواتین کی رنگا رنگ تقریبات کو
دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں سیاح آئے تھے اور رمضان کے باوجود سیاحوں نے
وادی کا رح کرکے اس سے لطف اندوز ہوئے۔

چترال:دنیا کی سب سے قدیم تہذیب وثقافت کے حامل کالاش قبیلے کا تہوار چلم
جوشٹ امسال انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا . گذشتہ پندرہ سالوں کے
دوران دہشت گردی کے خوف کی بنا پر یہ تہوار انتہائی سکیورٹی میں منایا
جاتا تھا جبکہ اس مرتبہ آزادماحول نےتہوار کی رنگنیوں کو دوبالا کر
دیااور سینکڑوں غیرملکی سیاحوں نے چلم جوشٹ تہوار میں شرکت کی . جبکہ ماہ
رمضان کے باوجود ملکی یونیورسٹیوں کے طلبا سمیت بڑی تعداد میں مقامی سیاح
بھی شریک ہوئے . کالاش مذہبی تہوار چلم جوشٹ  قدیم زمانے سےسردیوں کی
طویل اور تکلیف دہ دنوں کے گزر جانے اور موسم بہار کی آمد کی خوشی میں
منایا جاتاہے جس کے بعد مال مویشیوں کو جن کی کالاش مذہب میں انتہائی
اہمیت حاصل ہے گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جایا جاتا ہےاور دودھ سے بنی
اشیا کی فراوانی ہوتی ہے .

چترال: کالاش قبیلے کے رسم کے مطابق فیسٹول میں گھروں کو مخصوص پھولوں سے
سجایا گیا اور دیوتا مالوش کے سامنے بکروں کی قربانی دی گئی.

چترال : ڈھول کی تھاپ پر لڑکے لڑکیوں اور مرد و خواتین نے رقص کا آغاز
کیا . اس موقع پر چلم جوشٹ کیلئے کشیدہ کاری سے تیار کردہ نئے مخصوص
روایتی کپڑے خواتین نے زیب تن کیے تھے . جبکہ سیب گھونگوں سے تیار کردہ
ٹوپیاں پہن رکھی تھیں . اسی طرح مردوں اور بچوں کی تہوار کیلئے تیاری بھی
دیکھنے کے قابل تھی.

Facebook Comments
error: Content is protected !!