شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / بین الاقوامی اہمیت کے حامل کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش میں دنیا بھر کے سیاحوں نے شرکت کی۔ کیلاش کی محصوص ثقافت سیاحت کو ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔

بین الاقوامی اہمیت کے حامل کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش میں دنیا بھر کے سیاحوں نے شرکت کی۔ کیلاش کی محصوص ثقافت سیاحت کو ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔

چترال(گل حماد فاروقی) کیلاش قبیلے کے لوگ چترال کے پہاڑی سلسلوں میں گرا ہوا تین وادیوں میں رہتے ہیں جو ہر سال دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار منارہے ہیں۔  چیلم جوش جسے جوشی تہوار بھی کہلاتا ہے کیلاش لوگوں کا موسم بہار کی آمد پر اس موسم کو خوش آمدید کا تہوار ہوتا ہے۔
چیلم جوش کا تہوار وادی رمبور سے شروع ہوتے ہوئے  اگلے دو دن وادی بمبوریت میں منائی جاتی ہے۔  اس کے بعد احتتامی تقریب وادی بریر میں ہوتی ہے۔
کیلاش لوگوں کے اس رنگوں سے بھرے تہوار کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے سیاح  وادی کیلاش پہنچتے ہیں اس مرتبہ  اس تہوار کی اچھی بات یہ تھی کہ سیاحوں اور صحافیوں کو کسی نے تنگ نہیں کیا جس طرح ماضی میں غیر ملکی سیاحوں اور پاکستانی اور مقامی صحافیوں کو بھی  نو ابجکشن سرٹیفیکیٹ NOC لینا پڑتا تھا جو اس تہوار کا رنگ  پیکا کرتا تھا۔
رمبور میں آحری دن کیلاش مردوں نے اخروٹ جو ان کا مقدس درخت ہے اس کے پتے ہاتھوں میں پکڑ کر دریا کی جانب کھڑے ہوکر اسے ہلاتے رہے جبکہ خواتین نے مردوں کے پیچھے کھڑے ہوکر اخروٹ کی ٹہنیوں اور پتوں کو ہلاتے  رہے  جب مردوں نے ان پتوں کو دریا کی جانب پھینکا تو خواتین نے رقص گاہ جہاں وہ رقص پیش کرتی ہیں وہاں پتے پھینکے جبکہ بمبوریت میں ایسا نہیں ہوتا وہاں مرد  دور جاکر ہاتھوں میں اخروٹ کے پتے اور ٹہنیاں پکڑ تے ہوئے اسے ہلا ہلا کر دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہیں جبکہ  خواتین رقص کے میدان میں  کھڑی ہوکر پتے ہلاتی ہیں اور جب مرد ان کے قریب پہنچتے ہیں وہ پتے اور پھول ان پر نچاور کرتے ہیں جبکہ خواتین ان پتوں کو مردوں پر پھینکتی ہیں۔
اس مرتبہ چیلم جوش کے تہوار میں صوبائی اسمبلی کے اقلیتی اراکین جن میں کیلاش، سکھ، ہندوں، عیسائی  شامل تھے انہوں نے بھی حصوصی طور پر شرکت کی۔
مڈل ایسٹ میں مقیم ڈاکٹر محمد عدنان بھٹہ  نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ حصوصی طور پر اس تہوار کو دیکھنے کیلئے پاکستان آیا  انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے رمضان کا مہینہ ہے مگر کیلاش خواتین ناچتی ہیں گاتی ہیں جشن مناتی ہیں کوئی مسئلہ نہیں اور مسلمان ان سے لطف اندوز ہورہی  ہے۔
وزیر زادہ کیلاش کو صوبائی اسمبلی کے حصوصی نشست  پر چترال کی نمائندگی کررہا ہے انہوں نے تمام  مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا جن کی تعاون سے کیلاش لوگ نہایت سکون اور امن کے ساتھ پہاڑوں کے بیچ میں ان دروں میں رہتے ہیں۔
رمیت کمار جو ہندوں  قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن ہے اس نے اس تہوار پر نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ اس تہوار میں تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی اور اس سے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملتی ہے۔
امرینہ جس نے پہلی پہلی بار کوک سٹوڈیو میں کیلاشی زبان میں گانا گاکر ہلچل مچائی تھی  نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہے اور وہ اس تہوار میں بھی گانا گاکر خوشی منارہی ہے۔
آریانا اعظم نے امرینہ کے ساتھ مل کر کو ک سٹوڈیو میں گانا گایا تھا وہ بھی اس تہوار پر بہت خوش ہے اس کا کہنا ہے کہ ہماری ڈانس یعنی رقص والی جگہہ جسے ہم چرسو کہتے ہیں اگر بڑا کیا جائے تو بہت اچھا ہوگا دوسرا اس نے سڑکوں کی حراب حالت کی بھی شکایت کی  کہ وادی کیلاش جو جانے والی سڑکوں کی حالت نہایت حراب ہے جس کی وجہ سے اکثر سیاح یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔
مسز نسیم صادق لاہور سے آئی ہوئی ہے اور  اس نے خود بھی کیلاش کا لباس پہن رکھا تھا  وہ بہت خوش ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس تہوار کو مزید تقویت دینے کیلئے سیاحوں کیلئے انتظامات کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں  آئیں گے اور یہ علاقہ ترقی کرکے یہاں کے لوگوں کی  لوگوں کی غربت میں کمی آئے گی۔
کیلاش قبیلے کا یہ رنگین تہوار وادی بریر میں احتتام پذیر ہوگئی جس میں کافی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کی۔
Facebook Comments