شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / کیا ہم واقع مالیاتی بحران سے نکلنا چاہتے ہیں

کیا ہم واقع مالیاتی بحران سے نکلنا چاہتے ہیں

مرکزی کابینہ اخر ہم اس بحران سے نکلنے پر غور خوص کیوں نہیں کرتے اور قابل عمل تجاویز پر عمل کرنے کے بجائے ان سے صرف نظر کیوں کرتے ہیں( کیا ہم کانے بہرے اور گونگے ہیں) یا پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں مخلص نہیں ہیں یا پھر وزیر اعظم انقلاب کو مالیاتی طور پر نا کام کرکے عوام میں مایوسی پھیلا کر عوام کو ان سے بے زار کرنے کی سازش میں ہم اراکین کابینہ اور وزراے عزام خود ملوث تو نہیں جو بھی قابل عمل تجویز دی جاتی ہے اس کا مطالعہ اور ملاحظہ تک نہیں کیا جاتا ایسا لگتا ہے کہ کابینہ میں مزدور بیٹے ہیں حاضریان لگا کر تنخواہین اور مراعات بٹور کر ارام فرماتے ہیں کوئی تعمیری کام اپنے سوچ سمجھ کے مطابق کیوں نہیں کرتے یا پھر ( خان خولی نوکر) ہیں اور بے دست وپا بے اختیار مجبور محص ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو تو تمام تعمیری کام رکے ہوئے کیوں ہیں گردش زر مکمل طور پر رکا ہوا کیوں ہے جس سے مزدور خودکشی تک پہنچ چکے ہیں بعض محکموں کے کلاس فور اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور باعزت ناظمین قرض لے لے کر بازاروں میں نکلنے سے قاصر ہوچکے ہیں لوگ ان کے کرائے پر لیے گئے دفاتر کے سالوں سے پھنسے ہوئے کرایوں کی وصولی کے لیے ان کے گریبان تک پہنچ چکے ہیں کیونکہ ان کی نمایندگی کے ایام پر اشوپ اختیتام کے قریب ہے بات لمبی ہوگی مگر میں تو پھر صداء بصراء ,گردگان بر گمبد اونٹ کے کان میں ازان لیکر چوتھی بار پھر گونگوں,بہروں اور اندھوں کے کابینہ اور افطار ڈنر کے مزے لوٹنے والے موسم میں بے وقت کی بے وقعت بات لیکر نہایت ڈھٹائی سے پھر حاضر خدمت ہوا تھا حالانکہ مجھے بخوبی معلوم ,تجربہ اور یقین ہے کہ اس ملک خداداد میں ملک کے مفاد ترقی استحکام مضبوطی کی بات کوئی نہیں سنتا امدم بر سرے مطلب مجھے اپنے کام سے غرض ہے کیونکہ یہ ملک ہے تو میں میری ملازمت میری عزت میری وزارت اور میری حکومت ہے لہذہ اییے اس ملک کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے لیے CPEC کے طرز کا GCEC گوادر سنٹرل ایشیاء ایکنامک کوری ڈور کے عملی اقدامات پر مزید وقت ضائع کیے بے غیرآگے بڑتے ہیں یقینن کجھ قوتیں CPEC کی طرح اس کی مخالفت میں اگے آینگے مگر ہمیں ایک ازاد ایٹیمی قوت والے ملک کی طرح اپنے فیصلے خود کرکے آگے بڑنا ہوگا اس گوادر سنٹرل ایشیاء ایکنامک کوری ڈور کی تعمیر میں بیس ممالک فی ملک دس ارب ڈالر کے ابتدائی فنڈ سے حصہ لینگے کیونکہ یہ راستہ ان کو سمندر تک رسائی کے لیے نہایت ضروری ہےاس بہت بڑے مالیاتی استحکام کے منصوبے کے لیے جلد از جلد ایک با اختیار ورکنگ گروپ مالیاتی سہولیات کے ساتھ ترتیب دیکر ٹاسک فورس کے طور کابینہ کی منظوری سے جلد از جلد عمل میں لایا جائے میری خدمات رضاکارانہ طور اس کمیٹی کو ہر وقت حاصل ہونگےفلحال دستیاب زمینی کچے ٹرک ایبل راستے ارندو , ڈورہ پاس اور بروغل پاس کو جائزآمد ورفت سیاحت تجارت علاج معالجے اور رشتہ داروں کے ملنے کےلیے ہرقسم جائز آمد ورفت کے پاک ارمی ,بارڈر پولیس اور پولیس فورس کی مشترکہ مضبوط نگرانی میں کھولکر دس دن کے اندر مالیاتی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ورکنک گروپ جلد از جلد چترال میں جون میں ہی تین دن کا مشاورتی اجلاس بلاکر چترال یونیورسٹی کے دستیاب وسائل سے استفادہ حاصل کرکےاس استحکام ,تعمیر و ترقی کے منصوبے پر کام کا اغاز کرکے اپنے وجود اور ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں اس تعمیر ملک و وطن کے کام کی امید مزدوروں سے نہیں کی جاسکتی ایسے کاموں کے لیے جذبہ حب الوطنی کی آشد ضرورت ہوتی ہے ایسے ادارے جو سیاحت کی بات سن کر فلائیٹوں کی سہولت ان چند دنوں کے لئے دوگنا کرنے کے بجائے بلکل یکسر ختم کرکے کلاش چیلیم جوشٹ فیسٹول کے لیے بین الاقوامی طور پر مہینوں پہلے سے کنفرم بکنگ شدہ کی گروپس کو چترال پہنچنے سے محروم کرتے ہوں تو ملک میں سیاحت کیا خاک ترقی کریگی کون پوچھتا ہے

Facebook Comments