شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / فن کسی کی میراث نہیں ہوتی. بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے

فن کسی کی میراث نہیں ہوتی. بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے

چترال ( محکم الدین ) فن کسی کی میراث نہیں ہوتی. بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہےاللہ جسے نوازے.تو اس کیلئے کسی فنکار کا وارث ہونا ضروری نہیں.ایون تھوڑیاندہ کے رہائشی ظاہر حسینان ہی خدا دادصلاحیتوں کے مالک ہیں وہ کوئی پیشہ ور مصور نہیں اور نہ ہی پشہ ورکارپنٹر ہیں.لیکن قدرت نے دونوں صلاحیتوں سے انہیں مالا مال کیا ہے . چترال سکاوٹس کے پینشنر ظاہر حسین کو جب اپنے لئے ذاتی گھر کی تعمیر کی ضرورت پڑی.تو انہوں نے محسوس کیا.کہ ان کے ذہہن کے کینوس پر جو خاکہ موجود ہے.اسے کوئی دوسرااس کی مرضی اور پسند کے مطابق تعمیر نہیں کر سکتا.یوں اس نے گھر کے ڈیزائن سے لے کر تعمیر تک تمام کام اپنے ہاتھوں سےانجام دی.اور اسے ایک شاہکار بنا دیا یہ واحد گھر ہے.جس کی خوبصورتی کیلئے فنکار نے ایسے فالتو ( رف) لکڑیوں کا استعمال کیا . جنہیں عام طور پر لوگ مکانات کی تعمیر کے دوران ضائع لکڑی قرار دے کر جلانے کیلئے استعمال کرتے ہیں.لیکن یہاں نہ صرف ضائع شدہ لکڑی استعمال کیا گیا . بلکہ جس کاریگری سے اسے کارآمد بنایاگیا ہے.دیکھ کر عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے. ظاہر حسین نے اپنےاس گھر کی تعمیر ساڑھے تین سال میں مکمل کی.لیکن یہ گھر بنتے بنتے عجائب گھر میں تبدیل ہو گیا . جسے دیکھ کر کوئی بھی شخص اسکی صلاحیتوں کوداد دیے بغیر نہیں رہ سکتا.اس نے گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے.اور تعمیر کو نئی جہت دی ہے . چاہے عمارت میں لکڑی کا کام ہے.یا لان وغیرہ کی ڈیزائن . عمارت کی دیواروں پر لگے لکڑی کے باریک ٹائلز سے بنے باب خیبر,مینار پاکستان,سبزہلالی پرچم کا چاند تارا اوربیت اللہ کی تصویر جہاں اس فنکار کی ملک خداداد پاکستان سے محبت و اسلام پر ان کے اعتقاد کو عیاں کرتا ہے وہاں قومی درخت دیودار اور اس کی نسل کے دیگر درختوں کی تصاویر ان کی قدرتی ماحول سے قربت اور والہانہ پیار کو بھی واضح کرتے ہیں.اور ہر دیکھنے والے کو یہ تصاویرساکن پیغام کی صورت میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں. اس گھر کی ایک دلچسپ بات یہ ہے .کہ کمروں کے اندر نیچرل ائر کنڈیشنڈ کا انتظام کیا گیا ہے .جو کہ چھت پر نصب کئے گئے ہیں. جہاں سے قدرتی ہوا نہایت باریک لکڑیوں کے جال سی ہوتی ہوئی کمروں میں داخلفن کسی کی میراث نہیں ہوتی. بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے بشیر حسین آزادؔ 22 ساعة پہلء 0 67 2 منٹوں کی پڑھائی چترال ( محکم الدین ) فن کسی کی میراث نہیں ہوتی. بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہےاللہ جسے نوازے.تو اس کیلئے کسی فنکار کا وارث ہونا ضروری نہیں.ایون تھوڑیاندہ کے رہائشی ظاہر حسینان ہی خدا دادصلاحیتوں کے مالک ہیں وہ کوئی پیشہ ور مصور نہیں اور نہ ہی پشہ ورکارپنٹر ہیں.لیکن قدرت نے دونوں صلاحیتوں سے انہیں مالا مال کیا ہے . چترال سکاوٹس کے پینشنر ظاہر حسین کو جب اپنے لئے ذاتی گھر کی تعمیر کی ضرورت پڑی.تو انہوں نے محسوس کیا.کہ ان کے ذہہن کے کینوس پر جو خاکہ موجود ہے.اسے کوئی دوسرااس کی مرضی اور پسند کے مطابق تعمیر نہیں کر سکتا.یوں اس نے گھر کے ڈیزائن سے لے کر تعمیر تک تمام کام اپنے ہاتھوں سےانجام دی.اور اسے ایک شاہکار بنا دیا یہ واحد گھر ہے.جس کی خوبصورتی کیلئے فنکار نے ایسے فالتو ( رف) لکڑیوں کا استعمال کیا . جنہیں عام طور پر لوگ مکانات کی تعمیر کے دوران ضائع لکڑی قرار دے کر جلانے کیلئے استعمال کرتے ہیں.لیکن یہاں نہ صرف ضائع شدہ لکڑی استعمال کیا گیا . بلکہ جس کاریگری سے اسے کارآمد بنایاگیا ہے.دیکھ کر عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے. ظاہر حسین نے اپنےاس گھر کی تعمیر ساڑھے تین سال میں مکمل کی.لیکن یہ گھر بنتے بنتے عجائب گھر میں تبدیل ہو گیا . جسے دیکھ کر کوئی بھی شخص اسکی صلاحیتوں کوداد دیے بغیر نہیں رہ سکتا.اس نے گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے.اور تعمیر کو نئی جہت دی ہے . چاہے عمارت میں لکڑی کا کام ہے.یا لان وغیرہ کی ڈیزائن . عمارت کی دیواروں پر لگے لکڑی کے باریک ٹائلز سے بنے باب خیبر,مینار پاکستان,سبزہلالی پرچم کا چاند تارا اوربیت اللہ کی تصویر جہاں اس فنکار کی ملک خداداد پاکستان سے محبت و اسلام پر ان کے اعتقاد کو عیاں کرتا ہے وہاں قومی درخت دیودار اور اس کی نسل کے دیگر درختوں کی تصاویر ان کی قدرتی ماحول سے قربت اور والہانہ پیار کو بھی واضح کرتے ہیں.اور ہر دیکھنے والے کو یہ تصاویرساکن پیغام کی صورت میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں. اس گھر کی ایک دلچسپ بات یہ ہے .کہ کمروں کے اندر نیچرل ائر کنڈیشنڈ کا انتظام کیا گیا ہے .جو کہ چھت پر نصب کئے گئے ہیں. جہاں سے قدرتی ہوا نہایت باریک لکڑیوں کے جال سی ہوتی ہوئی کمروں میں داخل ہوتی ہے.اور پنکھوں کی ضرورت نہیں پڑتی.مہمان خانے اور گھر کے لان کے چاروں طرف مٹی سے کرسیان بنائی گئ ہیں جن پر نرم گھاس کا غلاف چڑھا دیا گیا ہے . اسی طرح مٹی کے گاؤ تکیوں پر بھی نرم گھاس کی چادر بچھی ہوئی ہے.غرض اس گھر کو دیکھ کر بے ساختہ اس فنکار کی مصوری کو داد دینے پر انسان مجبور ہو جاتا ہے . میڈیا سے بات کرتے ہوئے ظاہر حسین نے کہا . کہ انہوں نے چند بنیادی آوزار کے ذریعے گھر کی تعمیر کی ہے . اور ایسے گھر کی تعمیر ان کی آرزو تھی جو کہ ان کے آیڈیا اور محنت کی بدولت شرمن ہوتی ہے.اور پنکھوں کی ضرورت نہیں پڑتی.مہمان خانے اور گھر کے لان کے چاروں طرف مٹی سے کرسیان بنائی گئ ہیں جن پر نرم گھاس کا غلاف چڑھا دیا گیا ہے . اسی طرح مٹی کے گاؤ تکیوں پر بھی نرم گھاس کی چادر بچھی ہوئی ہے.غرض اس گھر کو دیکھ کر بے ساختہ اس فنکار کی مصوری کو داد دینے پر انسان مجبور ہو جاتا ہے . میڈیا سے بات کرتے ہوئے ظاہر حسین نے کہا . کہ انہوں نے چند بنیادی آوزار کے ذریعے گھر کی تعمیر کی ہے . اور ایسے گھر کی تعمیر ان کی آرزو تھی جو کہ ان کے آیڈیا اور محنت کی بدولت شرمندہ تعبیر ہوا . اور آج تک کئی مقامی اور غیر مقامی شخصیات ان کا گھر دیکھنے کیلئے تشریف لائے ہیں. جو کہ ان کیلئے ایک اعزاز ہے .

Facebook Comments
error: Content is protected !!