شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس صرف ایک سب انجنئیر ہے۔ 373 سکیموں کیلئے ایک سب انجنئیر کا ہونا مذاق کے مترادف ہے۔ کم از کم چار انجنئیروں کو فوری بھرتی کیا جائے

تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس صرف ایک سب انجنئیر ہے۔ 373 سکیموں کیلئے ایک سب انجنئیر کا ہونا مذاق کے مترادف ہے۔ کم از کم چار انجنئیروں کو فوری بھرتی کیا جائے

چترال(گل حماد فاروقی) تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس صرف ایک سب انجنئیر
ہے جبکہ حال ہی میں  373 پراجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ سرفراز الدین ٹھیکدار
نے کہا کہ ٹی ایم اے  کے پاس صرف ایک سب انجنئیر ہے اور سیکمیوں سینکڑوں
کی تعداد میں ہے  یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف ایک سب انجنئیر اتنی ساری
منصوبوں کا معائنہ کرے اور کام کی معیار کو یقینی بنایا جائے۔
سرفراز الدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں کم از کم تین ڈگری ہولڈر
انجنئیر ز ہونے چاہئے تاکہ وہ ترقیاتی منصوبوں کا صحیح طریقے سے معائنہ
بھی کرے اور کام کی معیار بھی حراب نہ ہو۔
سرفراز الدین نے الزام لگایا کہ ٹی ایم اے میں ایک ہفتہ پہلے ورک آرڈر
جاری ہوا ہے مگر لوگوں کو کام کئے بغیر چیک بھی جاری کیئے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعض کام دو سال پہلے ہوچکے ہیں ان  ٹھیکداروں کو
چیک نہیں دیا جاتا مگر جن کو ابھی ورک آرڈر مل گیا ہے اور کام بھی شروع
نہیں کیا ہے ان کو سفارشی بنیاد پر چیک دیا جارہا ہے۔
سرفراز الدین نے انکشاف کیا کہ چھٹی کے دن بھی فائل تیار ہورہے ہیں اور
من پسند ٹھیکداروں کو چیک دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ کام کا کوئی پتہ نہیں ہے۔
اس سلسلے میں تحصیل میونسپل آفیسر اور متعلقہ انجنئیرز کا موقف لینے
کیلئے ہمارا نمائیندہ باقاعدہ ان کے دفتر گیا مگر دونوں کسی کام سے باہر
نکلے تھے اور دفتر میں موجود نہیں تھے۔
سرفراز الدین ٹھیکدار مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹی ایم اے چترال میں تین
انجنیرز کو مزید بھرتی کیا جائے نیز جن منصوبوں کا ورک آرڈر جاری ہوا ہے
ان ٹھیکداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ کام شروع کرے ایسا نہ ہو کہ وہ کام
ادھورا چھوڑ کر چلے جائے اور سرکار کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگ جائے۔
اس کے علاوہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس میں بھی چھٹی کے دن  سڑکوں کی
تعمیر اور مرمت کا کام جاری ہے مگر ان  کو دیکھنے کیلئے کوئی انجنیر یا
کوئی افیسر نظر نہیں آیا۔ عوام اکثر شکایت کرتے ہیں کہ محکمہ سی اینڈ
ڈبلیو میں بھی من  پسند ٹھیکداروں کو بغیر کام کا چیک دئے جاتے ہیں۔ ایک
ٹھیکدار نے نام نہ بتانے  کی شرط پر انکشاف کیا کہ چیو پل کے قریب سی
اینڈ ڈبلیو نے پہلے نالہ بنانے کیلئے حطیر رقم حرچ کرکے ایکسکیویٹر سے
کھدائی کروائی مگر بعد میں اس پر مزید رقم خرچ کرکے اسے بغیر تعمیر کے
بھردیا کہ فنڈ نہیں ہے۔ شاہی مسجد روڈ اور پی آئی اے چوک کے درمیان پرانے
سڑک پر تارکول ڈال کر اسے سرکار سے چیک لینے کیلئے جائز قراردیا جاتا ہے۔
عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ جون کے مہینے میں جتنے بھی چیک جاری ہوتے ہیں ان
کا باقاعدہ احتساب ہونا چاہئے کہ کتنے کام مکمل ہوئے ہیں ان کا معیار
کیسا ہے اور کتنے ادھورے کاموں کیلئے سرکاری خزانے سے رقم نکل رہی ہے

Facebook Comments
error: Content is protected !!