شہ سرخیاں
Home / احتشام الرحمن / #ہمارے علماء اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی تاریخ#

#ہمارے علماء اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی تاریخ#

#ہمارے علماء اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی تاریخ#

 

 

حال ہی میں چترال کے علمائے دین متوقع آغا خان یونیورسٹی سے منسلک diagnostic سنٹر اور سیرینا ہوٹل کو ایشو بنا کر خوب ہنگامہ کر رہے ہیں. ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور حکومت پاکستان کو مخاطب کر کے ایک دھمکی آمیز قرار داد کے ذریعے کھلم کھلا دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس کی اجازت دی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی.

 

اس قرار داد کو پڑھنے کے بعد مجھے اپنا سر پیٹنے کو دل چاہ رہا ہے. میں سوچ رہا ہوں کہ آیا میں عہد یوسفی میں جی رہا ہوں یا احمقوں کی جنت میں؟

 

ویسے ہمارا مذہب, ہماری تاریخ, ہماری ثقافت, ہمارا نظریہ, یہ ملک اور اسکی معیشیت ہمیشہ خطرے میں رہے ہیں. "پاکستان کو اسلام کا ایک تجربہ گاہ” سمجھ کر ہم ان چیزوں پر کافی تجربے کر چکے ہیں.

 

اگر یہ ڈیاگناسٹک سنٹر اور سیرینا ہوٹل بنتے ہیں تو شاید ہمارے مذہب, ہماری ثقافت, ہماری تمدن اور چترال کے کلچر کو وہ ناقابل تلافی نقصانات پہنچ سکتے ہیں جن کا تصور نہ ناخواندگی, نہ کسی بیماری, نہ گندہ پانی پی کر اور نہ ہی لا علاج پو کر مر کر کیا جا سکتا ہے.

 

اب ان دو اداروں کے قیام سے جو "عظیم دینی و دنیاوی نقصانات” ہونگے انکا مختصرا جائزہ لیتے ہیں.

 

چترال میں چند ایک لیبارٹریز ہیں. ان میں قدرے بہتر الخدمت ڈیاگناسٹک سنٹر ہے. لیکن وہاں بھی بعض سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت سے لیٹیسٹ ٹیسٹ نہیں ہو پاتے ہیں. اس کے قیام سے ایک عام انسان جو کہ کسی بیماری سے دوچار ہو تو وہ علاج کرانے سے پہلے تشخیص کے لئے کراچی جانے کی بجائے یہ سہولت چترال ہی میں avail کر سکتا ہے.

 

ہے نا یہ ظلم!

 

کم از کم اس بیچارے کا کراچی یا کم از کم  اسلام آباد تک کا خرچہ بچ جائے گا. یہ بھی کتنی بڑی نا انصافی ہے جو یہ ادارہ صحت کے نام پر لوگوں کا استحصال کر رہا ہے.

 

ہوٹل پر بھی یہ کہہ کر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ "اس ہوٹل کی وجہ سے باہر سے سیاح آئیں گے اور اس سے بے پردگی پھیلے گی.”

 

واقعی یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے. اس کے بے شمار نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے لوکل لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے. اسی ہوٹل میں ہی کئی لوگوں کو نوکریاں ملیں گی. اس کا دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ اس سے لوکل کاروبار میں بھی اضافہ ہوگا.

 

 

ان خدشات اور اس علاقے میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی خدمات, جو کہ لیٹرین کی تعمیر اور اسکے استعمال کی آگاہی سے شروع ہو کر سٹیٹ آف دی آرٹ سکولوں, ہسپتالوں اور ہوٹلوں تک جا پہنچتی ہیں, کو مد نظر رکھتے ہوئے میں ایک دو سوالات اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں:

 

یہ سب کیوں کر رہے ہو؟ انکو تعلیم دیکر کیوں انکو تعلیم یافتہ اور علاج کی سہولیات فراہم کر کے ترقی یافتہ اقوام کی صفوں میں لانے کی کوشش کر رہے ہو؟ ان کو 1970 کی دہائی سے پہلے والی حالت زیادہ پسند ہے. انکو انکے حال پر کیوں نہیں چھوڑتے ہو؟

 

یہ تو ذکر ہوا ان "عظیم سازشوں” کا جو یہ ادارہ چترال کی عوام کے ساتھ کر رہا ہے. چونکہ میں ایک انتہائی "کٹر مذہبی” انسان ہوں اس لئے اپنے "علماء حق” سے چند ایک گزارشات بھی کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:

 

پہلی بات یہ کہ خدا را میری ان "گستاخیوں” کی وجہ سے مجھ پر کافر ہونے کا فتوی جاری نہ کریں.

 

دوسری بات یہ کہ 1982 والے حالات نہ دیکھنے کی خواہش ہے نہ ان کو سہنے کی طاقت. آپ دین کے نام پر فساد فی الارض نہ پھیلائیں.

 

تیسری بات یہ کہ ایک بار ہم ایک احمقانہ فیصلے کی وجہ سے ایک اعلی یونورسٹی سے محروم ہو چکے ہیں. خدا را اب اس ادارے سے چترالی عوام کو محروم نہ کریں.

 

چوتھی بات یہ کہ خدا نہ کرے آپکے اور میرے گھر والے بھی بیمار ہو سکتے ہیں اور انکی عزت اور انکا پردہ ہم سب کیلئے مقدم ہے تو اس سنٹر سے ہم چترال ہی میں انکی بیماریوں کا پتہ لگا سکتے ہیں اور دوران سفر کسی نا محرم کے ساتھ سفر کرنے سے اجتناب کیا جا سکتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ بہت سارا سرمایہ, جو کہ ہمارے پاس حالات اور علاقے کی وجہ سے کم ہے, اس کو بھی بچا کر کسی اور کار خیر میں استعمال کیا جا سکتا ہے.

 

پانچویں اور آخری بات یہ کہ میں آپ میں سے بہت ساروں کو جانتا ہوں جو اے کے یو کراچی جا کر علاج کرانے کی استطاعت رکھتے ہیں اور علاج کرا کے صحت یاب ہو کر ایک اچھی زندگی بھی گزار رہے ہیں. جو علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے یا اس "گناہ عظیم” سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں وہ علاج نہ کرائیں لیکن خدا را دوسروں کو ان سہولیات سے محروم نہ کریں.

 

وما علینا الا البلاغ!

Facebook Comments
error: Content is protected !!