شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / زرعی زمینات کا ضیاع

زرعی زمینات کا ضیاع

خیبر پختونخوا میں نئے اضلا ع بننے کے بعد اورکزی اور اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر زکے لئے منا سب جگہوں کے انتخا ب کا مسئلہ زیر غور ہے 2200کنال زمین کی ضرورت ہے کچھ لوگ گندم اورچاول کے کھیتوں اور سیب کے باغات کو اکھاڑ کر سیمنٹ اور سر یا لگانا چاہتے ہیں خیبر پختونخوا میں دیگر ضلعی ہیڈ کوار ٹر وں کے علا وہ سکولوں، کا لجوں اور دیگر دفاتر کے لئے اس وقت مزید 5000کنال زمینات کی ضرورت ہے 9سال پہلے 2010ء میں وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل نے خد شہ ظا ہر کیا تھا کہ سر کاری عما رات کے لئے دھڑا دھڑ زر عی رقبوں کو اجا ڑا گیا اور با غا ت کو مسمار کیا گیا تو اگلے 50سا لوں میں صو بہ قلا ش ہو جائے گا لوگ قحط سا لی کی کیفیت سے دو چار ہو جائینگے ہمارے ہاں یہ مثل مشہور ہے کہ سر کاری عمارتیں بنا نے والے اندھے اور بہرے ہوتے ہیں آثار قدیمہ کو اکھاڑ کر سکول بنا تے ہیں با غوں اور کھیتوں ں کو اجا ڑ کر دفا تر کی عما رتیں تعمیر کرتے ہیں یہ بات پا ئیدار تر قی کے مسلّمہ اصو لوں کے خلا ف ہے اور پا کستان نے اقوام متحدہ میں پا ئیدار تر قی کے بین لاقوامی کنو نشن پر دستخط کیا ہو ا ہے 2030ء تک (SDGs)کے معیار تک پہنچنا لا زم ہے قیام پا کستان سے پہلے 1946میں انگریزوں نے ایک قانون پا س کیاتھا کہ زرعی زمینات کو غیر زرعی مقا صد کے لئے استعمال کرنے پر پا بندی ہوگی خیبر پختونخوا میں بھی یہ قا نون مو جو د ہے لیکن قا نون کی کتاب پر منوں مٹی ڈا لی گئی ہے 72سا لوں میں کسی نے اس قا نون کی ورق گر دانی نہیں کی اس کے باوجود ریو نیو ڈیپارٹمنٹ کے پا س سر کاری ضرورت کے لئے زمینات کے حصول اور قبضے کا جو قا نون ہے وہ بڑا واضح اور صاف راستہ دکھا تا ہے قا نون یہ ہے کہ سر کاری تعمیرات کے لئے 3مر حلوں میں زمین کا انتخاب ہو گا سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ جس علا قے میں سر کاری تعمیرات ہورہی ہیں وہاں سر کاری زمین دستیاب ہے یا نہیں؟ اگر سرکاری اراضی مطلوبہ مقدار کے مطا بق دستیاب ہے تو وہاں سر کاری تعمیرات ہونگی دوسرے مر حلے میں دیکھا جائے گا کہ کم پیداوار دینے والی یا کسی وجہ سے زیر کا شت نہ آ نے وا لی نجی ملکیتی زمین ہے یا نہیں اگر ہے تو سب سے کم در جے کی زمین ہو گی اور سستے دا موں حا صل کی جائے گی اگر زرعی زمین 20لا کھ روپے کنال کے حساب سے آتی ہے تو غیر زرعی زمین دو لا کھ روپے کنال کے حساب سے ملے گی اگر دونوں طرح کی زمینیں دستیاب نہ ہوں تو مجبوراً زرعی زمین پر سر کاری تعمیرات کا نقشہ بنا یا جائے گا ورنہ یہ جرم کے زمرے میں ا ٓئے گا ضلع چترال میں اس اصول کے تحت 1986ء میں بونی کا لج کے لئے خندان کے مقام پر سرکاری زمین کا انتخاب ہواتھا بعد میں ووکیشنل ٹریننگ سنٹر، زنانہ کا لج اور محکمہ جنگلا ت کے دفاتر بھی سرکاری زمینات پر تعمیر ہوئے اس سے پہلے پو لیس سٹیشن بونی کے لئے بھی سر کاری زمین کو مو زوں قرار دیا گیا تھا قانون میں ایسے اقدامات کو مثال (Precedent) کہا جا تا ہے اور ان کی پیروی یا تقلید کی جا تی ہے اور کزئی، اپر چترال اور دیگر اضلاع میں ہر جگہ ضلعی ہیڈ کوارٹرز کی تعمیرات کے لئے 1100کنال زمین کی کم از کم ضرورت ہو گی 400کنال زمین پر سب جیل تعمیر ہو تی ہے 200کنال زمین جو ڈیشل کمپلکس کے لئے چاہئیے 200کنال زمین پر رہا ئشی کا لو نیاں بنینگی 100کنال زمین ضلعی دفاتر کے لئے اور 100کنال زمین ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کے لئے در کار ہوگی نیز100کنال زمین صو بائی اور وفاقی حکومت کے ذیلی دفاتر کے لئے در کار ہونگے جو نقشہ بنے گا اس میں کشادہ سڑکیں ہونگی کھیل کے میدان ہو نگے پارک ہونگے گرین بیلٹ کے لئے جگہ ہوگی گا لف کورس، پو لو گراوند اور ائیر پورٹ کی گنجا ئش رکھی جا ئے گی ہردفتر کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے وسیع جگہ رکھی جائیگی یہ جدید دور کی ضروریات ہیں ان ضروریات کو سامنے رکھ کر اپر چترال کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر بو نی کے نواح میں قاق لشٹ کے وسیع میدان میں قائم کیا جائے گا اورکزی میں بھی ایسا ہی کوئی مقام ڈھونڈ لیا جا ئے گا یہ خا لصتاً قانونی اور تکنیکی مسئلہ ہے اسے قانون اور اربن پلا ننگ کے ما ہرین پر چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہو گا بد قسمتی سے ہمارے ہاں ٹاؤٹ کلچر بہت عام ہے سر کاری حکام کسی منصو بے کو مسترد کرنا چاہیں تو ٹاؤٹوں کے ذریعے بیا نات دلواکر اس کو متنا زعہ بنا تے ہیں تحریک انصاف کی حکومت میں میرٹ اور شفا فیت پر زور دیا جا تا ہے اس لئے کسی ٹا ؤٹ (Tout)کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہو نی چا ہئیے

Facebook Comments