شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / صدیوں پرانی گلیشئیر تیزی سے پگھلنا حطرے کی گھنٹی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے وادی بروغل کے دامن میں واقع گرم چشمہ گاؤں کے پاس شاہ یوز یعی صدیوں پرانی برفانی تودے تیزی سے پگھل رہی ہیں

صدیوں پرانی گلیشئیر تیزی سے پگھلنا حطرے کی گھنٹی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے وادی بروغل کے دامن میں واقع گرم چشمہ گاؤں کے پاس شاہ یوز یعی صدیوں پرانی برفانی تودے تیزی سے پگھل رہی ہیں

چترال(گل حماد فاروقی)وادی بروغل کے دامن میں واقع گرم چشمہ گاؤں کے پہاڑوں پر صدیوں پرانے برفانی تودے یعنی گلیشئیر پڑے تھے جو اب نہایت تیزی سے پگھل رہے ہیں اور برفانی تودوں کی اتنی تیزی سے پگھلنا حطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہے۔
چترال کے  سپورٹس آفیسر فاروق اعظم کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے صدیوں پرانی برف کے تودے نہایت تیزی سے پگھل رہے ہیں  اور اس کی بنیادی وجہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہوسکتی ہے انہو ں نے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ وہ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت وادی بروغل کے علاقے میں بھی پودے لگائے اگر یہاں جنگلات لگایا جائے تو امید ہے کہ یہاں کی آب و ہوا میں فرق آئے گا اور یہ گلیشئیر اتنی تیزی سے نہیں پگھلے گی۔
محمد الیاس جو اسی یونین کونسل کے  سابقہ نائب ناظم ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت عرصے سے گاڑی چلاتا ہے اور بچپن سے اسی علاقے سے اس کا گزرنا  ہوا کرتا تھا میری یاداشت کے مطابق  یہ جو برف کے صدیوں پرانے Glaciers پڑے ہیں  یہ بالکل سڑک کے ساتھ لگے تھے  جس پر ایک مرتبہ ایک سرکاری اہلکار گزرتے ہوئے نیچے گرگیا تھا اور برفانی تودے کے اندر جاکر جاں بحق ہوا تھا جس کی لاش کئی دنوں بعد نکالی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ اب یہ گلیشئیر اتنے پگھل گئے کہ پہاڑی کے دامن سے بھی اوپر تک پہنچ گئے۔
اس سلسلے میں جب محکمہ موسمیات کے صوبائی ڈائریکٹر سید مشتاق علی شاہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا ہے  کہ 2015-16 میں اگر دیکھا جائے تو وہ بھی گلوف کا عمل تھا اس وقت اتنی بارش نہیں ہوئی تھی جتنا سیلاب آیا تھا وہ صرف اور صرف برفانی تودے پگھل کر  سیلاب کا باعث بنا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔ پہلے عوام کو اتنی معلومات نہیں تھی اب لوگ GLOFکو سمجھنے لگے کہ درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے یہ صدیوں پرانی گلیشئیرز پگھل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کو روکا تو نہیں جاسکتا مگر اس کی نقصانات کم ضرور کئے جاسکتے ہیں اور اس کیلئے صرف اور صرف اے فارسٹیشن کی جائے یعنی جنگلات بڑھائی جائے۔ اگر ایک درخت کاٹا جائے تو اس ک جگہہ تین درخت لگایا جائے۔ جتنے جنگلات بڑھے گی اتنے ہی اس کی حطرات کم  ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کرے اور زیادہ سے زیادہ پودے لگائے  جتنے جنگلات بڑھے گی اتنے ہی ہم محفوظ ہوں گے۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!