شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جو بائیڈن کا نقطہ نظر

جو بائیڈن کا نقطہ نظر

امریکہ کے سابق نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پار ٹی کے متوقع صدارتی اُمیدوار جو بائیڈن نے تجویز دی ہے کہ افغا نستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے امریکہ کو اپنی فو جی چھا ونیاں پا کستان منتقل کر کے افغا نستان پر بڑا حملہ کرنا چا ہئیے تا کہ فیصلہ کن جنگ کے بعد افغا نستان پر ہمارا قبضہ مستحکم ہو جائے اس مختصر مد تی حل کی تجویز دینے کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کا مستقل حل بھی مو جو د ہے امریکی قبضے کو مستحکم کر نے کے بعد افغا نستان کو سو ڈان کی طرح تقسیم کیا جائے پختونوں کی ۱لگ حکومت پختوں علا قوں پر ہو، تاجک قو میت کو فار سی بولنے والوں پر حکومت دی جا ئے اور شما لی اتحاد میں شا مل از بک آبادی کو الگ کیا جائے گو یا افغا نستان کے تین ٹکڑے ہوئے تو اس کا نظم و نسق چلا نا امریکہ کے لئے آسان ہو گا بعض حلقو ں نے ڈیمو کر یٹک پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار کے اس بیان کو ہرزہ سرائی قرار دیا ہے لیکن جن لو گوں نے امریکی سیا ست اور امریکی تاریخ کا گہرا مطا لعہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ جو بائیڈن امریکی سو سائیٹی کا دما غ ہے وہ کسی ایک پارٹی سے وا بستہ ضرور ہے مگر اس کا نقطہ نظر کسی ایک پارٹی یا گرو ہ کا نقظہ نظر نہیں ہو سکتا وہ وہ بہت کم بو لتا ہے مگر جب بولتا ہے تو امریکی قوم کا تر جمان بن کے بولتا ہے امریکی تھنک ٹینک، امریکی دفتر خارجہ، امریکی محکمہ دفاع اور امریکی پا لیسی سازی کے تما م ادارے ان کے بیان سے رہنما ئی حا صل کر تے ہیں کیونکہ ان کے پس منظر میں بے پنا ہ دو لت کے ساتھ امریکی سیا ست کی سب سے طا قتور لا بی کام کر تی ہے اُن کا بیان سر سری بیان نہیں ہو سکتا نیز امریکی نظا م حکومت میں صر ف بر سر اقتدار پارٹی پا لیسی بیان نہیں دیتی، حزب اختلاف بھی پا لیسی بیان دیتی ہے اور اپنے پا لیسی بیان میں جو بائیڈن نے امریکی سو سائٹی کے اندر گردش کرنے والے بڑے منصو بے کو طشت ازبام کیا ہے کیونکہ اب اس کا وقت آگیا تھا اخبار بین حلقوں کو اس بات کا علم ہے کہ امریکی 50سال پہلے شو شہ چھوڑتے ہیں نصف صدی بعد وہ شو شہ ایک حقیقت کے روپ میں سامنے آ جا تا ہے 1954میں امریکی فلمسا زوں نے ایک فلم بنا ئی فلم میں خود کش حملہ دکھا یا گیا 40سال بعد 1994ء میں افغا نستان اور پا کستان کے لئے خود کش حملے شروع ہوئے 1954میں فلم دیکھنے وا لوں کو با لکل اندازہ نہیں تھا کہ اس فلم میں خود کش حملے کا منظر پا کستان اور افغا نستان میں حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے 30سال پہلے 1989ء میں جینوا معا ہدے کے تحت افغا نستا ن سے سویت فو جوں کا انخلا شروع ہو ا تو امریکی تھنک ٹینک نے تجویز دی کہ پائیدار امن اور افغا نستان کی تر قی کے لئے افغا نستان میں دو حکومتیں قائم کی جائیں تا جک اور از بک آبادی کو پختونوں سے الگ کر کے نیا ملک بنا یا جائے پٹھانوں کو الگ کر کے افغا نستان پر حکومت کا حق دیا جائے زلمے خلیل زاد اس منصو بے کے محر کین میں سب سے آگے تھے اس منصو بے کے تحت پختون وزیر اعظم گلبدین حکمت یا ر نے تا جک صدر بر ہان الدین ربانی کی صدارت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تا جک رہنما بر ہان الدین ربانی نے پختون لیڈر صبغت اللہ مجد دی کو ماننے سے انکار کیا شما لی اتحاد کے نا م سے تا جک اور از بک آبا دی پر مشتمل نیا گروہ سامنے آگیا اور ایک نئی خا نہ جنگی شروع ہو گئی رشید دوستم اورمنصو ر نا دری کے روپ میں دو طا قتور لیڈر منظر عام پر آئے اُس وقت افغا نستان کی تقسیم ایک شوشہ تھا 30سالوں کے بعد اس کو شو شہ قرار دینا مشکل لگتا ہے اب یہ تصور حقیقت سے قریب تر ہو تا ہوا نظر آرہا ہے گذشتہ صدارتی انتخابات میں پختون لیڈر اشرف غنی کا میاب ہوئے تا جک اُمید وار عبد اللہ عبد اللہ دوسرے نمبر پر آئے لیکن امریکیوں نے اشرف غنی کو اُس وقت تک حلف اٹھا نے کی اجا زت نہیں دی جب تک پختون لیڈر شپ کے ساتھ تا جک رہنما عبد اللہ عبد اللہ کو حکومت میں شا مل کرنے کا معا ہدہ نہیں کیاگیا اور عبد اللہ عبد اللہ کے لئے چیف ایگز یکٹیو کا نیا عہدہ لا یا گیا ستمبر 2014میں کامیاب اُمید وار کو صدر اور نا کام اُمید وار کو چیف ایگز یکٹیو بنا یا گیا وا ل سٹریٹ جر نل اور وا شنگٹن پوسٹ نے اس معا ہدے کو ”متحدہ حکومت“ لکھنے کے بجا ئے ”نسلی تقسیم“ کا نا م دیا اس کو (Ethnic divide) لکھا گیا چنا نچہ جو بائیڈن کا نقطہ نظر اُس کا ذاتی خیا ل نہیں یہ امریکی پا لیسی سا زوں کا تیار کردہ منصو بہ ہے اور اس پر بڑا کام ہو اہے قطر میں طا لبان کا دفترقائم ہونا اور طا لبان کے ساتھ طویل مذکرات کا ڈرامہ رچا نے کے بعد یکدم ان مذاکرات سے علٰحیدگی اور سعو دی عرب کو اعتماد میں لیکر افغانستان کو نئی جنگ کی دھمکی بھی منصو بے کا حصہ ہے یہ وا قعات اچانک رونما نہیں ہوئے تجزیہ نگاروں کے ایک گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ طا لبان کی صفوں میں امریکہ کے لئے کام کرنے والے لو گ مو جود ہیں اُن کی مدد سے امریکہ اپنے مفا دات حا صل کرتا ہے اور یہ بات بعید از قیاس ہر گز نہیں افغا نستا ن کی تقسیم کا فار مو لا پیش کرتے ہوئے جو بائیڈن نے پاکستان کا نا م نہا یت آسان الفاظ میں اس طرح لیا ہے گویا پا کستان ان کی نظر میں آزاد اور خود مختا رملک نہیں بلکہ جار جیا، ٹیکساس یا کیلی فورنیا کا کوئی ضلع ہو بڑی سہو لت کے ساتھ وہ کہتا ہے کہ فو جی چھا ونیوں کو ہم پا کستان منتقل کر ینگے ہماری وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے حکام کو اس پر امریکی سفارت خانے میں اپنا احتجا ج ضرور ریکارڈ کرا نا چا ہئیے۔

Facebook Comments