شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ایران کا اصل جرم

ایران کا اصل جرم

اگلے ہفتے امریکہ کی 20ہزار فوج ایٹمی اسلحے سے لیس ہو کر سعو دی عرب اور متحدہ عرب اما رات میں دا خل ہو جائیگی امریکی محکمہ دفاع کو دو نوں عرب ملکوں کی طرف سے ایران پر حملے کے لئے امریکی امداد کی در خواست مو صول ہو چکی ہے امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مزید فوج بھیجی جا ئیگی ایران کو صفحہ ہستی سے ملیا میٹ کیا جا ئے گا اس جنگی تیا ری کی فوری وجہ سعو دی عرب میں تیل کی تنصیبات پر 14ستمبر 2019کو ہونے والا ڈرون حملہ ہے اس حملے کی ذمہ داری یمن کے حو ثی با غیوں نے قبول کر لی ہے مگر فرانسیسی خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ حو ثی با غیوں کا مذکورہ سٹیشن امریکی کنٹرول میں ہے ڈرون ٹیکنا لو جی بھی امریکی فوج کے پا س ہے 86سال پہلے 27فروری 1933ء کو نا زی جر منی کے لیڈر ایڈو لف ہٹلر نے ایسا ہی کیا تھا ہٹلر دوسری جنگ عظیم کے لئے حا لا ت پیدا کر رہا تھا اور جر منی پر اپنی آمریت کو مستحکم کرنا چاہتا تھا اُس نے نا زی پو لیس گسٹا پو (Gestapo) کے ذریعے جرمن پا رلیمنٹ کی عظیم الشان عما رت کو آگ لگائی 27فر وری 1933کی یہ آگ تا ریخ میں سی آئی اے کی طرف سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو جہازوں کے ذریعے اڑانے سے مشا بہت رکھتی ہے اور نا ئن الیون کی طرح مشہور ہے اس کا نام ریخٹک فائر (Reichstag Fire) ہے جر من پا ر لیمنٹ کو آگ لگانے کے بعد ہٹلر نے ایمر جنسی نا فذ کر دی اس کا الزام مخا لفین خصو صاً کمیو نسٹوں اور جمہو ری پا رٹیوں پر لگا یا نا زی پو لیس گسٹا پو کے ذریعے مخا لفین کو جیلوں میں ڈا لا فرانس اور بر طا نیہ کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا گویا دوسری جنگ عظیم سے 6سال پہلے اس نے جنگ کی تیاری پار لیمنٹ کی بلڈنگ کو آگ لگا نے سے شروع کی لو گ سب جا نتے تھے کہ یہ آگ ہٹلر نے خود لگا ئی تھی لیکن کوئی بول نہیں سکتا تھا یہی صورت حال 11ستمبر 2001ء کو نیو یا رک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد پیش آئی ما ئیکل مور کی فلم ”فارن ہائیٹ نائن الیون“ منظر عام پر آنے سے پہلے ہی آزاد میڈیا نے رپورٹ دی تھی کہ امریکی حکومت اس وا قعے سے مخصوص مقا صد حا صل کرنا چا ہتی ہے اور یہ وا قعہ خود امریکی حکومت کی منصو بہ بندی کا نتیجہ ہے 14ستمبر 2019ء کو سعودی عرب میں ارامکو کی تیل تنصیبات پر حملہ بھی امریکی فوج نے کر وا یا اس کے بغیر ایران کے خلا ف جنگ کی فضا پیدا کرنا اور بھاری اسلحہ، ایٹمی وار ہیڈ کے ساتھ 20ہزار فوج سعودی عرب اور متحدہ عرب اما رات میں اتار نا ممکن نہیں تھا امریکہ اور ایران کے در میان دشمنی کی وجہ تو جمہوریت ہے جب تک ایران میں با د شا ہت تھی امریکہ ایران کا قریبی دوست تھا فروری 1979ء میں جمہوری انقلاب آنے کے بعد امریکہ ایران کا دشمن بن گیا اگلے 5سالوں کے لئے ایران امریکہ کی راہ میں ایک اہم مسئلے میں رکا وٹ بننے والا ہے اور فوری دشمنی کی وجہ یہی مسئلہ ہے ایران کا اصل جرم یہ ہے کہ 1979ء کے بعد فلسطینیوں کا سب سے بڑا حما یتی ایران ہے لبنان میں پنا ہ گزین فلسطینی بھی ایران کے ساتھ ہیں شام کی حکومت بھی ایران کے ساتھ ہے یمن بھی ایران کے ساتھ ہے امریکہ نے 2010ء سے 2018ء تک شام اور یمن کے خلاف سعو دی عرب کی مدد سے طویل جنگ لڑی مگر کامیابی نہیں ہوئی فلسطین کے اندر ”جیو اور جینے دو“ کے اصول کے تحت آزاد فلسطینی اتھار ٹی کی محدود حکومت اور فلسطینیوں کے محدود اختیارات کو اگلے 5سالوں میں ختم کرنا اسرا ئیل اور امریکہ کا تین سال پرانا منصوبہ ہے اس منصو بے کے لئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور دیگر عرب ملکوں کے تعاون سے امریکہ نے 45ارب ڈا لر کا فنڈ قائم کیا ہے اس فنڈ کو استعمال کر کے فلسطینیوں کو دریائے اردن کے مغربی کنا رے ویسٹ بینک فا لوجہ، رملہ اور دیگر علا قوں سے نکا ل کر یہ تمام علا قے اسرائیل کی ملکیت میں دینے کی تجویز ہے فلسطینی ایک بار پھر مہا جر ہو کر اردن، کویت، بحرین، سعو دی عرب، متحدہ عرب اما رات اور دیگر ملکوں میں پنا ہ حا صل کرینگے عرب ملکوں کے فنڈ سے فلسطینیوں کی خوراک، پو شاک اور دیگر ضروریات کے لئے انتظا مات کئے جائینگے اردن کے شاہ عبد اللہ نے ابتدا ء میں اس منصوبے کی مخا لفت کی لیکن 26جون 2019ء کی ایک میٹنگ میں سعودی عرب نے یہ کہہ کر اردن کے شاہ کو قائل کر لیا کہ اردن کو 15ارب ڈا لر کی سا لا نہ امداد ملے گی اس منصو بے کو عملی جا مہ پہنا نے میں سب سے بڑی رکا وٹ ایران ہے اس لئے امریکی قیا دت چاہتی ہے کہ فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نے کے لئے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا نا ضروری ہے عرب مما لک اس منصو بے میں امریکہ کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں؟ اس پر تعجب کی کوئی ضرورت نہیں امریکہ نے عرب شیوخ اور باد شا ہوں کو باور کرایا ہے کہ تمہاری باد شاہت کو ہماری مدد سے تحفظ ملے گا تمہارے ملکوں کو ہم جمہوریت اور آزادی اظہار کی ہوا لگنے نہیں دینگے 45ارب ڈا لر جمع کرو فلسطینی علا قے اسرائیل کو دیدو، فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکا ل کر پنا ہ گزین کیمپوں میں لے جا ؤ باقی سارا کام ہم پر چھوڑ دو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) کو اس منصو بے کا ذمہ دار مقرر کیا ہے وہ سعو دی ولی عہد محمد بن سلمان کا ہم جما عت اور ذاتی دوست ہے یورپی مما لک کے اخبارات اس منصو بے کی رپورٹیں گا ہے بگا ہے شائع کرتے ہیں چین، روس، تر کی اور ایران پر مشتمل نیا عالمی بلاک بہت جلد سامنے آنے والا ہے مسلمانوں کی اجتما عی طا قت، او آئی سی، گلف کو اپریشن کونسل،عرب لیگ وغیرہ امریکہ کی گود میں جا چکے ہیں اس لئے اب ایران کو وہی کردار ادا کرنا ہے جو 1961ء میں کیو با نے امریکہ کے خلاف روسی میزا ئل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کے ذریعے ادا کیا تھا ایران اس فیصلہ کن کردار کے لئے تیار ہے امریکہ اور اسرائیل کی سب سے بڑی تشویش یہی ہے

Facebook Comments