شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / برفانی چیتے یعنی سنو لیپرڈ کے تحفظ اور پرورش میں میڈیا کے کردار پر مقامی پریس رپورٹرز کیلئے ایک روزہ آگاہی سیمنار کا انعقاد۔ برفانی چیتے کو نہ مارا جائے بلکہ اسے تحفظ دے یہ بھی ہمارے ماحول کا حصہ ہے۔ ماہرین کی رائے۔

برفانی چیتے یعنی سنو لیپرڈ کے تحفظ اور پرورش میں میڈیا کے کردار پر مقامی پریس رپورٹرز کیلئے ایک روزہ آگاہی سیمنار کا انعقاد۔ برفانی چیتے کو نہ مارا جائے بلکہ اسے تحفظ دے یہ بھی ہمارے ماحول کا حصہ ہے۔ ماہرین کی رائے۔

چترال(گل حماد فاروقی)  برفانی چیتے کی تحفظ، اس کی پرورش اور اس کے متعلق رپورٹنگ کے حوالے سے مقامی پریس رپورٹرز کیلئے ایک روزہ آگاہی سیمنار کا انعقاد ہوا۔ اس سیمنار کا موضوع تھا
Role of Media in Snow Leopard And Ecosystem Conservation, Oriemation and Briefing
یعنی برفانی چیتے، ماحولیاتی نظام کی تحفظ، واویلا مچانے سے متعلق آگاہی۔
اس سیمنار میں ماہر  جنگلی حیات  شفیق اللہ خان  ریجنل پروگرام منیجر، پاکستان سنو لیپرڈ اینڈ ایکو سسٹم پراجیکٹ پروگرام مہمان حصوصی تھے جنہو ں نے تمام صحافیوں، محکمہ جنگلات، محکمہ جنگلی حیات، جامعہ چترال کے اراکین اور سماجی کارکنوں کو بھی برفانی چیتے کی نگہداشت، ان کی تحفظ اور ہمارے ماحول کیلئے اس کی افادیت پر سیر حاصل معلومات فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ برفانی چیتا  بارہ ممالک میں  موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ چترال گول نیشنل پارک کی بین الاقوامی سطح پر اہمیت ہے  جہاں قومی درخت دیار، قومی پرندہ چکور، قومی جانور مارخور اور قومی پھول چنبیلی موجود ہیں۔ یہاں ہر قسم  و نسل کے پرندے پائے جاتے ہیں یہ ہماری ماحول کی خوبصورتی کے باعث بنتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان پرندوں کو بلا وجہ نہ مارے۔
کیونکہ یہ پرندے جو درختوں میں جنگلی پھل کھاتے ہیں اس  کی بیچ پھر محتلف جگہوں میں اپنے فضلہ کے ذریعے  پھینکتے ہیں اسی سے مزید درخت اگ کر جنگل کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 1982 کا واقعہ ہے کہ زیارت بلوچستان میں ایک دن میں  چار لاکھ پرندے دیکھے گئے مگر اب ان کی تعداد بہت کم رہ گئی۔
انہوں نے کہا کہ کئی سال پہلے میں نے چترال کے 90 سکولوں میں نیچرل کلب کھولے تھے جہاں بچوں کوجنگلی حیات کے بارے میں معلومات اور ان کی اہمیت کے بارے میں بتایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ذاتی ملکیت میں موجود درختوں پر ایک بورڈ لگادے کہ اس درخت پر بیٹھنے والے پرندے کا کوئی بھی شکار نہیں کرسکتا تو ہم قدرتی ماحول کی خوبصورتی میں ان پرندوں کے بڑھوتری کے زریعے اضافہ کرسکتے ہیں۔
انہو ں  نے کہا کہ برفانی چیتا زیادہ تر جنگلاتی علاقوں میں رہتا ہے اور جنگلی جانور کھاتے ہیں مگر جب جنگلی جانور کو حتم کرکے ان کیلئے کچھ نہیں بچتا تو وہ مجبوراً انسانی آبادی میں اتر کر ہماری  پالے ہوئے بھیڑ بکریوں کو کھاجاتا ہے۔اور ہمارے بعض میڈیا کے بھائی نہایت سنسنی حیز خبر لگاتے ہیں کہ خونخوار درندے نے غریب شحص کی تین بکریاں کھالی۔ حالانکہ ہمیں ایسا خبر لگانا چاہئے کہ حضرت انسان اتنا ظالم ہوا کہ جنگلی جانوروں کے حصے کا حوراک بھی کھا گیا اور انکے لیئے اب پہاڑوں یا جنگل میں کچھ نہیں بچا جس کے نتیجے میں وہ مجبور ہوکر آبادی میں گھس آیا اور اپنی بھوک مٹانے کیلئے کسان کی بکری کھا گیا۔
ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک  دنیا کے بڑے نیشنل پارکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زوب بلوچستان میں چلغوزے کی بہت بڑی جنگل ہے مگر اب آہستہ آہستہ وہ بھی حتم ہورہا ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندگان پر زور دیا کہ وہ  ان جگلی حیات، قدرتی ماحول اور چرند پرندوں کی تحفظ کیلئے عوام میں  اپنے میدیا کے ذریعے بہترین انداز میں شعور اور آگاہی   پیدا کرسکتے ہیں۔
آحر میں سیمنار کے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کئے گئے۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!