شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / گلوف (GLOF) ایک حقیقت ہے اورچترال شدید طورپراس کی زد میں ہے…ڈپٹی کمشنرنویداحمد

گلوف (GLOF) ایک حقیقت ہے اورچترال شدید طورپراس کی زد میں ہے…ڈپٹی کمشنرنویداحمد

 چترال ( محکم الدین ) گلوبل آوٹ برسٹ فلڈ(گلوف) ایک حقیقت ہے ۔ اور چترال شدید طور پر اس کی زد میں ہے ۔ اس لئے جو علاقے اس سے متاثر ہو تے ہیں ۔ وہاں بار بار انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کی بجائے متبادل کیلئے سوچنے کی ضرورت ہے ۔ خصوصا روڈز اور پینے کے پاءپ لائنوں کو خطرات سے دوچار جگہوں کی بجائے محفوظ رُخ پر تعمیر کرنے چاہئیں ۔ تاکہ نقصانات اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے گلوف ٹو پراجیکٹ کے زیر اہتمام چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور ایکٹی وسٹ نے شرکت کی ۔
 انہوں نے کہا ۔ کہ حال ہی میں سیلاب سے متاثرہ گولین وادی کی بحالی پر 35کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ تاہم اس کے محفوظ ہونے کی ضمانت اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی ۔ جب تک انفراسٹرکچر متبادل رُخ پر تعمیر نہ کئے جائیں ۔ انہوں نے سیلاب کے خدشے سے دوچار علاقوں میں حفاظتی پشتوں کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یو این ڈی پی اگر اُن کی تجاویز پر عمل کرے ۔ تو بہت سارے نقصانات سے بچنے کے امکانات ہو سکتے ہیں ۔
.
 قبل ازین ایم اپی اے چترال مولانا ہدایت الرحمن نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے گلوف کے اقدامات کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔ کہ اُن کا پہلا گلوف ون پراجیکٹ اپر چترال کے بندوگول میں کامیاب ہو چکا ہے ۔ اس سے علاقے کو بچانے میں مدد ملی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا ۔ کہ سیلاب کے موقع پر ہنگامی ضرورت کیلئے کمیونٹی کے پاس فنڈ ہونا بہت ضروری ہے ۔ تاکہ فوری طور پر وہ اپنے چھوٹے مسائل حل کر سکیں ۔ اور ایسے حالات میں اُنہیں حکومت کے دروازے پر دستک نہ دینا پڑے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ افسوس کا مقام ہے ۔ کہ گولین سیلاب میں متاثرین کو پینے کے پانی کی فوری اوراشد ضرورت تھی ۔ لیکن کسی کے پاس بھی فنڈ موجود نہیں تھا ۔ اس لئے لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بندو گول میں کام ہوا ہے ۔ تاہم گلوف ٹو میں بھی اُسے شامل کیا جانا چاہیے ۔ اس کے علاوہ گولین ، ارکاری ، بونی ، بمبوریت ایسے علاقے ہیں ۔ جہاں سیلاب سے تباہی ہوئی ہے ۔ اور مستقبل میں بھی خطرات سے دوچار ہیں ۔ اس لئے ان علاقوں کو فوقیت دی جائے ۔ ورکشاپ میں عوامی اگہی ، سیلاب کے موقع پر اَرلی وارننگ سسٹم ، زراعت و مواصلات اور پیشگی اقدامات کے حوالے سے گروپ ورک کئے گئے ۔ اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے سٹریٹجی بنانے کے سلسلے میں تجاویز اور سفارشات گروپ ورک کی صورت میں پیش کئے گئے ۔
.
 اس سے پرونشل کو آرڈنیٹر گلوف ٹو فہد بنگش ، فیلڈ آفیسر اقتدار الملک نے چترال میں گلوف پروجیکٹ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں ایک درجن سے زیادہ گلیشئرز گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پگھلاءو کی وجہ سے انتہائی خطرے سے دو چار ہیں ۔ اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس لئے نہ صرف ان گلیشرز کو مزید پگھلاءو سے بچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ بلکہ گلیشر آوٹ برسٹ کی صورت میں لوگوں کی جان و مال اور اُن کے املاک کو بچانے کیلئے قبل از وقت تیاری کی جانی چاہیے ۔ اور گلوف ٹو میں اس سلسلے اقدامات کئے جائیں گے ۔ کہ لوگ ان حادثات کے بارے میں آگہی حاصل کریں ۔ اور دیے جانے والے ہدایات و رہنمائی اور فراہم کئے جانے والی سہولیات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے پراجیکٹ کے ساتھ تعاون کریں ۔ تاکہ سیلاب کی صورت میں کم سے کم نقصانات ہوں ۔
.
 ورکشاپ میں منظور احمد میٹ ڈیپارٹمنٹ چترال نے چترال میں بارش اور برفباری میں مسلسل کمی اور درجہ حرارت میں اضافہ سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ جبکہ سردار زیب پی ڈی ایم اے ایڈ منسٹریٹر ملاکنڈ اور اسسٹنٹ ڈائر یکٹر اپریشن اینڈ کوآرڈنیشن پی ڈی ایم اے پشاور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ورکشاپ کے دوران سوال وجواب کے سیشن بھی ہوئے ۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!