شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / کالاش تہوارچوموس اخری مراحل میں داخل، سیاحوں‌کی بڑی تعداد علاقے کا رُخ کرنے لگے

کالاش تہوارچوموس اخری مراحل میں داخل، سیاحوں‌کی بڑی تعداد علاقے کا رُخ کرنے لگے

چترال (محکم الدین) کالاش قبیلے کے سال کا آخری معروف سرمائی تہوار چترمس ( چوموس ) جوں جوں اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ رسومات کی ادائیگی میں بھی تیزی آرہی ہے ۔ سرازاری ، چوناری اور ساویلیکھاری رسومات کی ادئیگی کے بعد بتدریج سوگ کے خاتمے ، بچوں کا تہوار پچ انجیک ، دیوتا کی قربانی ،( چنجا) الاءو جلانے کی رسم اور عبادت خانے سجانے و نذرو نیاز تقسیم کرنے کی رسومات ادا کی جارہی ہیں ۔ رمبور ویلی میں پچ انجیک کی رسم ادا کی گئی ہے ۔ اور کئی بچوں کو کالاش روایتی لباس پہناکر انہیں باقاعدہ طور پر قبیلے میں شامل کیا گیا ۔ جس کے بعد معروف دیوتا سجی گور کے سامنے کئی بکروں کی قربانی دی گئی ۔ اور دُعا کے ساتھ گوشت تقسیم کئے گئے ۔ یہ اہم مذہبی رسم ہے ۔ جہاں قبیلے کے مرد اور بچے جمع ہوتے ہیں ۔ اور دیوتا سجی گور کے سامنے کالاش قبیلے کے روشن مستقبل، امن امان اور باہمی اتفاق و اتحاد کیلئے دُعائیں مانگی جاتی ہیں ۔ کالاش قبیلے کا ایک معروف رسم مویشی خانوں میں تین دن تک مراقبہ کرنا بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور علاقے کے بزرگ و نوجوان مویشی خانوں کے احاطے میں موجود مکان میں رہتے ہیں ۔ اور بکرے ذبح کرکے اُس کا گوشت بھون کر کھاتے ہیں ۔ خواتین کیلئے اس موقع پر گھروں میں بکریاں ذبح کی جاتی ہیں ، کیونکہ خواتین کیلئے بکرے کا گوشت کھانا اور شہد استعمال کرنا مذہبی طور پر ممنوع ہے ۔ سوگ ختم کرنے کی رسم بھی تہوار کا اہم جُز ہے ۔ جس کا اعلان گاءوں کے بزرگ اور مذہبی پیشواسوگوار خاندان میں جا کر کرتے ہیں ۔ سوگوار خاندان کے مرد جوسوگ کے دوران کسی بھی قسم کے بال نہیں کاٹتے ، اور خواتین سر پر روایتی ٹوپی کوپیسی نہیں پہنتیں ۔ سوگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد مرد شیو اور خواتین ٹوپی پہننا شروع کردیتی ہیں ۔ شرابیریک کی رسم راتوں کو ہوتی ہے ۔ جس میں گندم کے آٹے کی خمیر سے مختلف جانوروں کے شبہیں بنائی جاتی ہیں ۔ اور اُن کو آگ میں پکایا جاتا ہے ۔ کالاش مذہب میں سوری جاجک انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ یونیسکو نے اس کی اہمیت کے پیش نظر سوری جاجک (سورج کے دیکھنے) کے عمل کو ورلڈ ہیرٹیج قرار دیاہے ۔ یہ رسم فلکیات سے تعلق رکھنے والے کالاش بزرگ افراد انجام دیتے ہیں ۔ اور گزرے سال کے دورانئے اور نئے سال کے بارے میں پیشن گوئی کرتے ہیں ۔ امسال چوموس تہوار کی رنگینوں میں ٹورسٹ کارپوریشن خیبر پختونخوا نے اضافہ کیا ہے ۔ اور مختلف مقامات پر لاءٹس لگا کر راتوں کو تہوار کی خوبصورتی کو چار چند لگا دیے ہیں ۔ ٹی سی کے پی کی طرف سے بمبوریت میں تعمیر ہونے والے کیمپنگ پاڈ کی تکمیل کے بعد سیاحت میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے ۔ تاہم کام زور و شور سے جاری ہے اور چلم جوشٹ فیسٹول میں میں ہی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ اس کے باوجود کالاش ویلی میں سیاحوں کیلئے رہائش کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد غیر ملکی اور ملکی سیاح کالاش ویلی پہنچ چکے ہیں۔ اور فیسٹول کے مختلف رسومات کا لطف اُٹھا رہے ہیں ۔ سیاحوں کی بہت بڑی تعداد گیسٹ ہاءوسز میں رہائش پذیر ہیں ۔ کیونکہ یہ گیسٹ ہاءوسز کالاش گاءوں کے اند ر موجود ہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کو کالاش ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ اور روایتی کھانوں کا بھی لطف اُٹھایا جا تا ہے ۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے فواد اعوان ، حسان لطیف مسعودی ایڈ منسٹریٹیو آفیسر جموں کشمیر میڈیکل کالج اور روح الامین صلیب الحمر نے بمبوریت میوزیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ وہ کشمیر سے خصوصی طور پر فیسٹول میں شرکت کیلئے کالاش ویلی آئے ہیں ۔ اور یہاں کے کلچر اور ماحول سے جتنے محظوظ ہوئے ۔ اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نےماہ مئی میں فیملیز کے ساتھ دوبارہ کالاش فیسٹول چلم جوشٹ میں شرکت کرنے کی دلچسپی کا اظہار کیا ۔ بمبوریت میوزیم کے اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر اکرام حسین نے بتایا ۔ کہ حکومت کی طرف سے فروغ سیاحت کیلئے کئے جانے والے اقدامات نے رنگ لانا شروع کر دیا ہے ۔ اور امسال سیاحت نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ سال 2019 میں پچیس ہزار سیاحوں نے میوزیم کی وزٹ کی ۔ جس میں تقریبا دو ہزار غیر ملکی سیاح شامل ہیں ۔ جبکہ وادی میں آنے والے سیاحوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے ۔ غیر ملکی سیاحوں میں زیادہ تعداد فرانس ، اٹلی ، یونان اور دیگر ممالک کی ہے ۔ جو میوزیم کی وزٹ کر چکے ہیں ۔ جبکہ چائنیز ، جاپان وغیرہ کے سیاح میوزیم کی وزٹ میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ۔ چوموس تہوار علاقے میں ہلکی برفباری کی وجہ سے اور بھی خوبصورت ہو گیا ہے ۔ تاہم خراب سڑکوں کی وجہ سے سیاحوں کو وادیوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ سیاحوں نےچترال ٹائمزڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ حکومت اگر واقعی سیاحت کی ترقی چاہتی ہے ۔ تو اس کیلئے ویلیز روڈز کو ترجیحی

Facebook Comments