شہ سرخیاں
Home / پاکستان / چترال مستقبل میں سی پیک متبادل روٹ ہونے کی وجہ سے بزنس حب بنتا جا رہا ہے اور لواری ٹنل کی تعمیر سے چترال میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ سرتاج احمد خان

چترال مستقبل میں سی پیک متبادل روٹ ہونے کی وجہ سے بزنس حب بنتا جا رہا ہے اور لواری ٹنل کی تعمیر سے چترال میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ سرتاج احمد خان

چترال ( محکم الدین ) چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری چترال کے صدر سرتاج احمد خان نے کراچی میں نیشنل بینک آف پاکستان کے پریذیڈنٹ عارف عثمانی سے ان کے آفس میں ملاقات کی ۔ اس موقع پر کوالٹی سروس کے گروپ آفیسر شوکت خٹک بھی موجود تھے۔ سرتاج احمد خان نے پریذیڈنٹ نیشنل بینک آف پاکستان کوچترال کے مسائل سے آگاہ کیا ۔ اور چترال میں نیشنل بینک کے مین برانچ کی مناسب بلڈنگ نہ ہونے سہولیات کی عدم دستیابی اور سٹاف کی کمی کے باوجود عوام کی خدمت پربینک کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نمایندہ بینک ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔ کہ چترال میں اس بینک کی عمارت روڈ کی وجہ سے متاثر ہوئے کئی سال گزر گئے ۔ اس بلڈنگ کو دوبارہ تعمیر کرکے بینک اپنے سٹاف اور عوام کو سہولت فراہم نہیں کررہا ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔کہ چترال مستقبل میں سی پیک متبادل روٹ ہونے کی وجہ سے بزنس حب بنتا جا رہا ہے اور لواری ٹنل کی تعمیر سے چترال میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ اسی طرح افغانستان سے ملحق ارندو اورشاہ سلیم میں قانونی کاروبار کیلئے کسٹم چیک پوسٹ قائم کئے جارہے ہیں ۔یہی وجہ ہےکہ کاروباری لوگوں نے ابھی سے چترال کا رخ کر لیا ہے ۔ جس کی وجہ سے نیشنل بینک جیسے ادارے کو چترال کے اس کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس وقت بلڈنگ ، سہولت اور سٹاف کے حوالے سے نیشنل بینک چترال میں پرائیویٹ بینکوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے ۔ اس لئے بینک کواپنی ان کمزوریوں پر فوری طور پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ بلکہ حالات کے رخ کو دیکھتے ہوئے لوئر اور اپر چترال میں ان مقامات پر بھی اعلی معیار کے سہولتوں سےبھر پور نیشنل بینک کے برانچوں کی تعمیر کی اشد ضروری ہیں جہاں برانچ نہ ہونے کی وجہ سے عوام مشکلات سے دوچار ہیں ۔انہوں نے چترال کے بینکوں کی کامیابی کو مقامی سٹاف کی تعیناتی سے مشروط قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ چترال کے باصلاحیت متعلقہ تعلیم سے بہراور نوجوان مردوخواتین ہی اپنی ثقافت اور رابطہ کاری و تعلق کی بنیاد پر چترال کے بینکوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے بینک کے برانچز کے قیام کے بعد ریشن کے برانچ کو چسٹ بینک کا درجہ دینے ، چترال کیلئے الگ زونل آفس قائم کرنے اور چترال کے نیشنل بینکوں میں اے ٹی ایم کی سہولت بھی فوری طور پر مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سرتاج احمد خان نے پریذیڈنٹ نیشنل بینک کو 2020کی پہلی سہ ماہی کے دوران چترال دورے کی دعوت دی ۔ اور اس موقع پر بینک کے عمارات کے افتتاح کرنے کو چترال کیلئے نہایت اہم موقع قرار دیا ۔ جس پر پریذیڈنٹ نے نہایت خوشی سے دعوت قبول کر لی ۔ اور یقین دلایا ۔ کہ یہ تمام کام مرحلہ وار انجام دیے جائیں گے ۔ انہوں نے ان کاموں کے فالو اپ کے حوالے سے اسلام اباد میں میٹنگ کے انعقاد کیلئے اپنی طرف سے ذمہ دار مقرر کیا ۔ جن کے ساتھ آیندہ اجلاس میں مزید اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں غورو خوص کیا جائے گا ۔ اس موقع پر صدر چترال چیمبرسرتاج احمد خان نے چترال کے مسائل نہایت دلچسپی سے سننے اور انہیں حل کرنے کی یقین دھانی پر پریذیڈنٹ نیشنل بینک آف پاکستان عارف عثمانی اور شوکت خٹک کا شکریہ ادا کیا ۔

Facebook Comments