شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ڈی ایچ او چترال کی طرف سے کلاس فور بھرتیوں کی تعیناتیوں میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے مقامی قیادت برابر کے شریک ہیں اور عوام یوسی یارخون اور یوسی لاسپور اس ذیادتی کے خلاف کسی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ عمائیدن یوسی یارخون اور لاسپور کی مشترکہ پریس کانفرنس

ڈی ایچ او چترال کی طرف سے کلاس فور بھرتیوں کی تعیناتیوں میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے مقامی قیادت برابر کے شریک ہیں اور عوام یوسی یارخون اور یوسی لاسپور اس ذیادتی کے خلاف کسی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ عمائیدن یوسی یارخون اور لاسپور کی مشترکہ پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال )یوسی یارخون اور یوسی لاسپور کے عمائدین صاحب نور خان،یحییٰ خان،سید مختارعلی شاہ ایڈوکیٹ،ابرہیم شاہ، محبوب علی شاہ،فدا رحمت،ظفرخان،منظور علی شاہ،مختار علی،عمران علی شاہ لوئر چترال کے نبیگ ایڈوکیٹ، پی ٹی آئی کے ورکرز اور دوسروں نے محکمہ صحت میں یوسی یارخون اور لاسپور کے باشندوں کے ساتھ ناانصافی پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی ایچ او چترال کی طرف سے کلاس فور بھرتیوں کی تعیناتیوں میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے مقامی قیادت برابر کے شریک ہیں اور عوام یوسی یارخون اور یوسی لاسپور اس ذیادتی کے خلاف کسی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ سول ڈسپنسری یارخون میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر نے سیکڑوں میل دور دروش سے تعلق رکھنے والے اعجاز احمد کو جبکہ سول ڈسپنسربریپ میں ژانگ بازار سے آصف الرحمن اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو کلاس فور بھرتی کیا ہے جو کہ لوئر چترال کے باشندے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے مقامی نمائندوں سمیت جے یو آئی کے ایم پی اے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ملی بھگت سے ان کلاس فور بھرتیوں پر تعیناتیاں کی گئی ہے جو کہ مقامی لوگوں کو ہرگز قبول نہیں۔اور فوری طورپر ان تعیناتیوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اُنہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے محکمہ صحت میں ہونے والے گھپلوں کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیاہے۔اُنہوں نے مقامی لیڈرشپ کی مکمل طورپر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یوسی کے تمام ورکرز ایک پیچ پر ہیں اور چترال میں کسی بھی قسم کی ناانصافی کو قبول نہیں کریگی اور جب تک حقداروں کو اُن کا حق نہیں ملتاتب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، بھوک ہڑتال اور دھرنا سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمیں وزیر اعظم عمران کے ویژن پر بھرپور اعتماد ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ پی آئی آئی کی وفاقی اور صوبائی قیادت اس طرح کے ناانصافیوں کا ازالہ کریگی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے گھپلوں میں منسٹر سے لیکر مقامی قیادت ملوث ہیں اُن کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی ہونی چاہیئے۔اُنہوں نے کہا کہ ڈی ایچ او اپنی زمہ داریوں سے غافل اور اکثر دفتر میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتا ہے اس لئے ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت چترال میں کلاس فور بھرتیوں میں تقرر کیئے گئے غیرمقامی لوگوں کے تبادلے ہرگز قبول نہیں اور انہیں علاقے میں ڈیوٹی کرنے نہیں دی جائی گی ان تقرریوں کو کنسل کرکے مقامی باشندوں اور لینڈ اونرکو ترجیح دی جائے۔بصورت دیگر کسی طرح کی بھی بدمزگی کی زمہ داری ڈی ایچ او چترال اور مقامی لیڈر شپ پر ہوگی۔

Facebook Comments