شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع۔ چترال میں شدید برف باری کے باعث رابطہ سڑکیں بند۔ لواری ٹنل کے قریب براڈام میں برفانی تودہ گرنے سے پشاور چترال روڈ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند

چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع۔ چترال میں شدید برف باری کے باعث رابطہ سڑکیں بند۔ لواری ٹنل کے قریب براڈام میں برفانی تودہ گرنے سے پشاور چترال روڈ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند

چترال(گل حما د فاروقی) چترال اور مضافات میں گزشتہ رات سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری  ہے۔ برف باری کے باعث چترال بھر میں تما م شاہراہیں بند پڑی ہے۔  چترال  کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ  لواری سرنگ شدید برف باری کے باعث ہر قسم ٹریفک کیلئے بند پڑا ہے جبکہ لواری سرنگ کا راستہ بھی آج براڈام کے مقام پر برفانی تودہ گرنے سے ہر قسم ٹریفک کیلئے بند پڑا ہے۔ ایس ایچ او تھانہ عشریت نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ  پیر کے روز چھوٹے ٹنل کے قریب براڈام کے مقام پر ایک بھاری بھر برفانی تودہ گرگیا جس میں لیویز اور پولیس کے جوان بال بال بچ گئے  تاہم گلیشئر گرنے کی وجہ سے پشاور  چترال کا شاہراہ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند پڑا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چترال  پولیس کے مطابق  بونی، مستوج، گرم چشمہ، وادی کیلاش، ملکہو، تورکہو  کی سڑکیں برف باری کے باعث ہر قسم ٹریفک کیلئے بند پڑی ہیں۔ مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لواری سرنگ روڈ کوابھی تک صاف نہیں کیا  اس کے علاوہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے بھی سڑکوں کی صفائی پر ابھی کام شروع نہی کیا۔ گرم چشمہ سڑک کی بندش کی وجہ سے چالیس ہزار کی آبادی متاثر ہوچکی ہے۔ اور ان لوگوں کا چترال بازار تک بھی آنا مشکل ہے۔
شدید برف باری کے باعث چترال بازار میں جلانے کی لکڑیوں کی بھی شدید قلعت پیدا ہوئی ہے۔  لوگ زیادہ ترکھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے جنگل کی لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات پر بوجھ پڑتی ہے۔ جبکہ پچھلے حکومت میں سینگور کے مقا م پر گیس پلانٹ کا افتتاح ہوکر اس کیلئے دس ایکڑ زمین بھی خریدی گئی تھی مگر اس پر کام روک دیا گیا۔
عشریت میں ایک مقامی سماجی کارکن نے بتایا کہ یہاں ڈھای فٹ برف باری ہوچکی ہے جبکہ لواری ٹنل کے سامنے اور اسی پہاڑ پر سات فٹ تک برف باری ہوچکی ہے برف باری کے باعث سڑکیں بند ہیں اور چترال بازار میں تازہ سبزیوں، پھل، مرغی اور گوشت کی بھی قلعت پیدا ہوئی ہے۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!