شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پی ڈی ڈبلیوپی نے کریم آباد سوسوم روڈ، فیض آباد اورگوچ ہونی اور سویر روڈ کی تعمیرمنظوری دیدی

پی ڈی ڈبلیوپی نے کریم آباد سوسوم روڈ، فیض آباد اورگوچ ہونی اور سویر روڈ کی تعمیرمنظوری دیدی

پشاور(چترال آ فیرز) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوا (PDWP) نے 13715.622 ملین رو پے لاگت کے 24 پراجیکٹس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا شکیل قادر خان کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں دی گئی جس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے ممبران اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی ترقی کے لئے مختلف شعبوں بشمول صحت، سماجی بہبود، پانی، سڑکوں اور پلو ں، پینے کے پانی اور نکاسی آب، میونسپل اور شہری ترقی، بورڈ آف ریونیو، ٹرانسپورٹ، انرجی اینڈ پاور، ابتدائی وثانوی تعلیم، اعلی تعلیم، کھیل وسیاحت، خوراک اور جنگلات کے شعبوں کی ترقی کے لئے 36۔ منصوبوں پر تفصیلی غوروخوض کے بعد 24 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ جبکہ بارہ منصوبوں کو موخر کرکے اصلاح کے لئے متعلقہ محکموں کو واپس بھیج دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پر صحت کے شعبے میں جن منصوبوں کی منظوریاں دی گئیں۔ ان میں خیبر پختونخوا کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لئے پر مبنی جدید پائلٹ پراجیکٹس، ٹیلی فارمنگ 100 ایم، ٹیلی میڈیسن100 ایم، ڈیجیٹائزنگ GoKP ادائیگیاں 10 ایم، ون ٹچ ریسکیو5۔ایم، سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ آف منرلز9۔ ایم، یوتھ فیسیلیٹیشن سنٹر 10۔ایم اور دیگر ان (Rev) ہیڈکوارٹرز میں آزاد ایکسپریس لائنز (بجلی) کی فراہمی،اراضی کے حصول، وئرہاؤسنگ، ادویات اور ویکسینز کی نقل وحمل، ڈسپوزیبل اور دیگر فراہمیوں (ایکسریز و Reagents وغیرہ) کیمیائی عمل کو تیز کرنے والا آلہ اور ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، ٹی بی اور این سی ڈیز جیسی بیماریوں کے لئے ٹاپنگ اپ کے منصوبے شامل ہیں۔اسی طرح پانی کے شعبے میں ضلع صوابی میں یوسیز چکنوڈا،شیخ جانہ، کے ایس کے، اسوٹا، پرمولی، شیوا، نارنجنی، کالوخان، ادینہ، ترلاندی اور ترکئی میں آبپاشی کی سہولیات یعنی نکاسی کے نالوں اور کینال پٹرول روڈز اور ایف پی ڈبلیوز کی تعمیر اور بہتربنانے،ببینی، کٹاخٹ میں نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے اور تجدید سمیت آبپاشی کی سہولیات کی بہتری اور بحالی اور ضلع مردان میں قائد اعظم کالج سے رنگ روڈ تک کینال پٹرول روڈ کی تعمیر اور بہتری،ضلع دیر پائین میں یوسی اسبنر، خان پور، کوٹیگرام اور خادگزیہ میں آبپاشی اور پینے کے پانی کے مقاصد کے لئے زیرزمین قدرتی پانی کو محفوظ بنانے کے لئے چیک ڈیم/ٹیریز کی تعمیراورآبپاشی کے چھوٹے ذخائر/ڈیموں کی تعمیر اور قیام،ضلع مردان میں شہباز گڑھی، باغیچہ ڈھیری، گڑھی دولت زئی، کوٹ دولت زئی،کوٹ اسماعیل زئی، گجرات، بخشالی میں نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے اور تجدید سمیت آبپاشی کی سہولیات کی بحالی اور بہتر بنانے، ضلع مردان میں یوسیز، مچی،بازار، رستم، چرگلی،پلو ڈھیری، کٹاخٹ، جمال گڑھی،سوال ڈھیر، کاٹلنگI-،کاٹلنگ۔II میں، کینال پیٹرول روڈ و چھوٹے پل اور آبپاشی چینلز کی تعمیر اور ضلع باجوڑ میں ڈواوو وئر (ذیلی پراجیکٹ) کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوریاں دی گئیں۔

.

سڑکوں اور پلوں کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں ضلع چترال میں کریم آباد سسوم روڈ، فیض آباد اورگوچ ہونی روڈ اور سویر روڈ کی تعمیر،کلاچی ڈی آئی خان میں دربند روڈ، ساگو سے مڈی تک براستہ گارا انڑا اتل شریف روڈ (16 کلومیٹر)،کیری شموزئی تا جوک رند (1 کلومیٹر) اور لورا جولا درابن سٹی پر پل کی فزیبلٹی سٹڈی، ڈیزائن اور تعمیر،صابرشاہ نکوٹ پل مانسہرہ کی فزیبلٹی سٹڈی،ڈیزائن اور تعمیر، ضلع سوات کی مختلف یونین کونسلوں میں سڑکوں کی تعمیر، ضلع ہری پور میں اراضی کے معاوضے کے بقایاجات کی فراہمی: سوات ایکسپریس وے کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹریٹ ضم شدہ علاقوں کو بندوبستی اضلاع کے ساتھ مغربی اور مشرقی اطراف اور اہم رابطہ مقامات پر منسلک اور استحکام دینے کے منصوبے: مین خوازئی / بیزئی روڈ نز د سلطان خیل سے سورڈاگئی حلیمزئی تک (2 کلومیٹر) کے منصوبے شامل ہیں۔

.

میونسپل اور شہری ترقی کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں  بس ٹرمنلز، پھل منڈیوں، پارکس،ٹریفک مینجمنٹ،عوامی بیت الخلا، کھیلوں کی سہولیات، پارکنگ کی جگہوں اور منتخب شہری علاقوں کی خوبصورتی: باڑہ ضلع خیبر میں بس ٹرمنلز کی تعمیر شامل ہیں،اسی طرح توانائی و برقیات کے شعبے میں: خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع میں بجلی کے بغیر دیہات کو شمسی یا متبادل توانائی سے بجلی کی فراہمی فیز II منصوبے کی مجموعی لاگت 325.490 ملین روپے ہوگی۔ قبائلی اضلاع باجوڑ، مہمند اور خیبر میں نئے 11کے وی فیڈر کی ری کنڈکٹرنگ کی فراہمی،آئی ڈی اے کے تحت تین عدد پاور پراجیکٹس کے لیے اراضی اور پروجیکٹ منیجمنٹ آرگنائزیشن (PMO) کے لئے خریداری جس کی مجموعی لاگت 4000 ملین روپے ہوگی کی منظوریاں شامل ہیں، اسی طرح ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں تعلیمی اداروں کی انفراسٹرکچر، اساتذہ اور دوسری سہولیات مفت کتابوں کی فراہمی شامل

Facebook Comments