شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال کے معروف وکیل غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو نہ کرنے کا حکم دینے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے۔.بار ایسوسی ایشن چترال کاپریس کانفرس

آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال کے معروف وکیل غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو نہ کرنے کا حکم دینے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے۔.بار ایسوسی ایشن چترال کاپریس کانفرس

چترال (محکم الدین) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے صدر خوشید حسین مغل ایڈوکیٹ ، چیرمین ہیومن رائٹس فاونڈیشن نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، وقاص احمد ایڈوکیٹ، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چترال ساجد اللہ ایڈوکیٹ، حمید احمد ایڈوکیٹ اور سراج الدین ربانی ایڈوکیٹ وغیرہ نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوا سے پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال کے معروف وکیل غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو نہ کرنے کا حکم دینے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جس کی وجہ سے ایمر جنسی بیمار چترال پشاور ریسکیو نہیں کیا جا سکا۔ اور نتیجتا غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کی موت واقع ہوئی۔ اور چترال ایک قابل قانودان بیٹے سے محروم ہو گیا۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غلام حضرت انقلابی ڈسٹرکٹ بار چترال کے تین بار صدر رہ چکے تھے۔ اور چترال میں ہائی کورٹ سرکٹ بینچ کا قیام و جو ڈیشل کمپلیکس جغور چترال کی تعمیر اُن کی کو ششوں کا نتیجہ ہے۔ اور وہ چترال کے معروف وکلاء میں سے تھے۔ گذشتہ روز شدید برفباری کے بعد اُن پر اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اُس وقت لواری ٹنل روڈ چترال سائڈ پر برفباری کی وجہ سے بند تھا۔ لیکن عین اگلے دن آرمی ہیلی کاپٹر چترال کے ایک شہید کی لاش کو لے کر چترال آیا ۔ تو وکلاء کو یہ اُمید پیدا ہو گئی۔ کہ ہیلی کاپٹر چترال سے واپسی پر غلام حضرت انقلابی کو ضرور ریسکیو کرکے پشاور پہنچائے گا۔ اور اُس کی زندگی بچ جائے گی۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ کہ کئی گھنٹوں کی رابطہ کاری کے باوجود اُس کوریسکیو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایمرجنسی یونٹ میں بیس گھنٹے مزید تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ اسے اگر اس خالی ہیلی کاپٹر میں چترال سے پشاور پہنچایا جاتا۔ تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس اقدام کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ اور یہ انسانیت کی بد ترین تذلیل ہے ۔ انہوں نے کہا۔ کہ ایک

Facebook Comments