شہ سرخیاں
Home / پاکستان / غلط انجکشن لگنے سے ایک اور جان چلی گئی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مریضہ کو بیک وقت دو انجکشن لگتے ہی چند سیکنڈ میں دم توڑ گئی۔ اعلےٰ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ۔

غلط انجکشن لگنے سے ایک اور جان چلی گئی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مریضہ کو بیک وقت دو انجکشن لگتے ہی چند سیکنڈ میں دم توڑ گئی۔ اعلےٰ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ۔

غلط انجکشن لگنے سے ایک اور جان چلی گئی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مریضہ کو بیک وقت دو انجکشن لگتے ہی چند سیکنڈ میں دم توڑ گئی۔ اعلےٰ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ۔

پشاور(نامہ نگار)لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ایک مریضہ کو انجکشن لگتے ہی جاں بحق ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق  چار فروری کو چیسٹ وارڈ میں ایک خاتون مسماۃ ب کو پہلے ایمرجنسی میں داحل کرائی گئی بعد میں او پی ڈی کے ذریعے وارڈ اسے وارڈ منتقل کی گئی۔مریضہ کو سانس کی تکلیف تھی اور اسے آکسیجن کنسنٹریٹر مشین کے ذریعے آکسیجن فراہم کیا جاتا تھا۔جب مریضہ ہسپتال میں داحل ہوئی تو اس وقت  وہ اپنے  رشتہ داروں کے ساتھ بات چیت بھی کرتی تھی۔مغرب سے پہلے مریضہ کو پہلے Hyzonate کا انجکشن لگایا اور  اس کے فوراً Xtracefکا انجکشن لگایا گیا۔

جونہی  مریضہ کو دو انجکشن لگائے گئے تو اس کے ہاتھ پاؤں کے ہتھیلی  میں جلن محسوس ہوئی اور بیڈ پر گر گئی۔ گرتے ہی مریضہ کی جان نکل گئی۔ اس کے شوہر نے ڈاکٹر کو بلایا مگر ڈاکٹر کے آنے سے پہلے وہ جاں بحق ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر نے لواحقین کو بتایا کہ اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔ ہسپتال کے میڈیکل ڈائیریکٹر  ڈاکٹر سلیمان کے نوٹس میں بھی یہ واقعہ لایا گیا مگر انہوں نے اپنے ڈاکٹر کی دفاع کی۔ جب مرحومہ کے لواحقین نے بیرون ملک میں مقیم ایک دوست ڈاکٹر سے رابطہ کرکے ان کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا تو ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اسے Anaphylactic shock ہوگیا کیونکہ جو انجکشن اسے لگایا گیا اسے پہلے ٹیسٹ نہیں کیا گیا اور بیک وقت دو انجکشن لگنے سے Over Dose ہونے کی وجہ سے اسے ری ایکشن ہوا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔

مرحومہ سینئر صحافی گل حماد فاروقی کی سگی بہن تھی جو کہ خود اس کے ساتھ ہسپتال میں موجود تھا۔ مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عصر کے وقت جب میں ہسپتال پہنچا تو میری بہن  بیڈ میں بیٹھ کر مجھ سے بات  چیت کررہی تھی اور وہ بالکل صحت مند لگ رہی تھی جونہی  میں نماز مغرب پڑھنے چلا گیا اس دوران نرس نے اسے دو انجکشن لگائے اور میری بہن چند سیکنڈ کے اندر اللہ کو پیاری ہوئی۔

مرحومہ  کے لواحقین نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ، وزیر صحت، سیکرٹری  صحت اور محکمہ صحت کے ارباب احتیار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں جوڈیشل انکوائیری کا حکم دے تاکہ جس کی غلفت کی وجہ سے جواں سال مریضہ کی جان چلی گئی ان کے حلاف تادیبی کاروائی کی جاسکے تاکہ آئندہ ہسپتال کا عملہ دیگر مریضوں کی زندگیوں سے نہ کھیلے۔

Facebook Comments