شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال اور گلگت بلتستان کے صحافیوں کا آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کا دورہ۔۔۔۔تحریر۔محکم الدین ایونی

چترال اور گلگت بلتستان کے صحافیوں کا آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کا دورہ۔۔۔۔تحریر۔محکم الدین ایونی

حکومت کے شانہ بشانہ جو غیر سرکاری ادارے پورے ملک میں ،بالخصوص چترال اور گلگت بلتستان میں نظر انداز شدہ اور نچلے طبقے کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف سیکٹر میں کام کر رہے ہیں ۔ اُن میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک ( اے کے ڈی این ) کا کردار نمایاں ہے ۔ گذشتہ تین دھائیوں سے یہ ادارہ گلگت بلتستان اور چترال میں لوگوں کی طرز زندگی میں بہتری لانے کیلئے معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ان گنت چھوٹے منصوبوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیداکرکے مسائل کے حل کے سلسلے میں شب و روز سرگرم عمل ہے ۔ جن سے لاکھوں افراد بالواسطہ اور بلا واسطہ فائد اُٹھارہے ہیں ۔ آغا خان کونسل پاکستان نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے زیر اہتمام گلگت بلتستان و چترال میں تعلیم و صحت و دیگر شعبوں میں کئے گئے اقدامات کے بارے میں آگہی دینے کے سلسلے میں چترال اور جی بی کے صحافیوں کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی ، آغاخان ایجوکیشن ایگزامنیشن بورڈ اور آغا خان یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ کے دورے کی دعوت دی ۔ چترال سے چھ اور گلگت بلتستان سے دس صحافیوں نے آغا خان یونیورسٹی کراچی کا دورہ کیا ۔ تعارفی نشست میں آغاخان نیشنل کونسل پاکستان کے صدر حافظ شیر علی نے صحافیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ۔ کہ ہز ہائی نس پرنس کریم آغا خان کے وژن اور ہدایات کے مطابق کمیونٹی کے ساتھ اشتراک سے کام کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ جس کام میں بھی کمیونٹی کی شراکت داری نہیں ہو تی ۔ اُس کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں ۔ اسی فلسفے کے تحت آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے کمیونٹی کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان اور چترال میں کام کا آغاز کیا ۔ جسے بعد آزان این آر ایس پی ، ایس آر ایس پی جیسے بڑے غیر سرکاری اداروں نے اسے رول ماڈل کے طور پر اپنایا ۔ آج پوری دُنیا میں اسی طریقہ کار کو ریپلیکیٹ کیا جا رہا ہے ۔ آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک تین بڑے شعبوں پر مشتمل ہے ۔ جس میں آغاخان فاونڈیشن ، آغا خان ٹرسٹ فار کلچر اور سوشل ڈویلپمنٹ سیکٹر شامل ہیں ۔ اے کے ڈی این کے زیر انتظام یونیورسٹی آف سنٹرل ایشیاء تاجکستان اور آغاخان یونیورسٹی اعلی تعلیم کی فراہمی میں کردار ادا کرتی ہیں ۔ اور بین الاقوامی سطح پر اعلی جامعات میں شمار ہوتی ہیں ۔ جن کے کیمپس تاجکستان اور کرغیزستان میں بھی موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ آغاخان یونیورسٹی کراچی کو سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے آئین میں ترمیم کرکے پہلی پرائیویٹ یونیورسٹی کے طور پر تعمیر کرنے کی منظوری دی ۔ اور اسے پہلی پرائیویٹ یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اسی طرح آغا خان دویلپمنٹ نیٹ ورک سے 80ہزار ملازمین کا روزگار وابستہ ہے ۔ جبکہ تیس ممالک میں اس کے ملازمین خدمات انجام دیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اے کے ڈی این اور حکومت کا باہم ایک مضبوط رشتہ ہے ۔ اس مضبوط رشتے کی بدولت تعلیم ، صحت ، زراعت ، ماحول ، سیاحت سمیت کئی شعبوں میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں ۔ معیاری تعلیم پہلی ترجیح ہے ۔ اب تک 30ہزار گریجویٹ فارغ ہو چکے ہیں ، 6400ڈاکٹرز ، 4300نر سز 790000افراد کو صحت کی سہولیات اور 60ہزار گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی ہے ۔ اسی طرح پانچ ہزار دیہات کی خواتین کو تنظیمات کے ذریعے جوڑ کر مختلف ہنرز کی تربیت فراہم کئے گئے ہیں ۔ حافظ شیر علی نے کہا ۔ کہ پاکستان کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ۔ تو اس کیلئے اے کے ای ایس کے معیار کے گر یجویٹس چاہیں ۔ ای سی ڈی ہز ہائنس کا وژن ہے ۔ اور آپ ای سی ڈی کو تعلیم کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ جس میں نہ صرف بچوں کو بلکہ والدین کو بھی تربیت دینے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ افتتاحی نشست کے دوسرے سیشن میں کو آرڈنیٹر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک شیر زاد علی حیدر نے اپنے مختصر پریزنٹیشن میں کہا ۔ کہ جی بی اور چترال میں سالانہ چار ہزار گریجویٹس فارغ ہورہے ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں فارغ ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت دینا بہت مشکل ہے ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ نوجوانوں کو خود روزگاری کی طرف راغب کیا جائے ۔ تاکہ وہ کاروبار اور دیگر سکلز کے ذریعے اپنے پاءوں کھڑا ہو سکیں ۔ نوجوانوں کو کاروباری تیکنیک اور تربیت فراہم کرنا اس کا حصہ ہے ۔ خصوصا گلگت بلتستان اور چترال جو اپنی قدرتی حسن ،امن مہمان نوازی اور قدیم تہذیب کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔ میں سیاحت کو فروغ دینے اور سی پیک کی بدولت ممکنہ روزگار کیلئے وقت کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو تیار کرنا بھی پروگرام میں شامل ہے ۔ اسی طرح ان علاقوں میں قدرتی آفات کے نقصانات میں کمی لانے ، آفت زدہ علاقوں کی نشاندہی اور اقدامات اور صاف پانی کی فراہمی کے سلسلے میں آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ مصروف عمل ہے ۔ علاج معالجے میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ای ہیلتھ کے تحت گلگت میڈیکل سنٹر اور بونی میڈیکل سنٹر کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی سے منسلک کر دیا گیا ہے ۔ دوسرے سیشن سے پہلے تمام صحافیوں کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے مختلف شعبوں کی وزٹ کرائی گئی ۔ سپورٹ اینڈ ری ہیبلٹیشن سنٹر اے کے یو ہسپتال کا وہ حصہ ہے ۔ جہاں ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور مریضوں کا کھیلوں اور مشینوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے ۔ اس شعبے کے نوجوان منیجر حسیب نے پارک ، پلے گراءونڈز ، سویمنگ پول اور جمنازیم کی وزٹ کرائی ۔ جس میں کئی مریض کھیل رہے تھے ۔ اور بعض مریض ورزش کی جدید مشینوں کے ذریعے ہاتھ پاءوں اور بدن کے مختلف حصوں کو حرکت دے کر اپنے روزانہ کا طبی نسخہ پورا کر رہے تھے ۔ حسیب نے جمنازیم کے مین ہال کے بارے بتا یا ۔ کہ یہ ہال کثیر المقاصد کاموں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ورزش ، انڈور کھیلوں ، سمینارز اور امتحانی ہال کا کام بھی اس سے لیاجاتا ہے ۔ ہال تمام جدید آلات اور نشستوں سے آراستہ ہے ۔ اور بیک وقت کئی تماشائیوں کے بیٹھنے کی سہولت موجود ہے ۔ یونیورسٹی ہسپتال کی وزٹ کے دوران دیکھا گیا ۔ کہ مختلف بلڈنگ پر مختلف شخصیات کے نام جعلی حروف میں کندہ ہیں ۔ مثلا سپاری والا بلڈنگ ، عزیز ولی بلڈنگ ، نظر علی والجی بلڈنگ ، جینا بائی حسین علی شریف بلڈنگ ، ڈاکٹر رچرڈ بلڈنگ ، رفہیدہ الاسلیمہ بلڈنگ ، ابن سینا بلڈنگ ، عامر علی کانجی باغات وغیرہ شخصیات کے نام سے منسوب ہیں ۔ ہ میں بتایا گیا ۔ کہ یہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی تعمیر میں تعاون کرنے والے ڈونرز اور ممتاز طبی سائنسدانوں کے نام ہیں ۔ اس سے یہ معلوم ہوا ۔ کہ آغا خان یونیورسٹی کی تعمیر میں بڑی تعداد میں اعلی شخصیات کا مالی تعاون شامل ہے ۔ یونیورسٹی کی عمارات قدیم اور جدید طرز تعمیر کا مرقع ہیں ۔ ہر شعبے کا صدر دروازہ اپنے اندر وسیع علم و تحقیق کا پتہ دیتی ہے ۔ یونیورسٹی کے اندر صاف و شفاف پانی کے حوض جدید تعمیر میں مغلیہ دور کے قلعوں کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو ذہنی سکون اور فرحت بخشنے کا ذریعہ ہے ۔ بعض مریض اس حوض کا نظارہ کرتے ہوئے گُم سُم ہو جاتے ہیں ۔ تیسرے سیشن میں سابق ڈین فرہاد عباس اور موجودہ ڈین یونیورسٹی ہسپتال ڈاکٹر عادل نے پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا ۔ کہ آغا خان یونیورسٹی دُنیا کی ایک سو ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل ہے ۔ اور طب میں اپنی تحقیق و ریسرچ ونمایاں خدمات کی بدولت کئی اعزازات حاصل کر چکا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یونیورسٹی کی بنیاد ایجوکیشن اور ریسرچ پر ہے ۔ سالانہ بائیس لاکھ مریض یونیورسٹی ہسپتال آتے ہیں ۔ اور ایک سو ملین ڈالر کے فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ نادار مریضوں کیلئے ویلفیئر کا شعبہ موجود ہے ۔ اور ہر سال تیس ملین ڈالر نادار مریضوں پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ آغاخان یونیورسٹی میں داخلے کیلئے کسی بھی علاقے کیلئے مخصوص کوٹہ نہیں ہے ۔ تمام امیدواروں کو اوپن میرٹ پر داخلہ دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس بات کو بالکل غلط قرار دیا ۔ کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں کسی خاص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے علاج کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ ہسپتال میں مریض کے مالی معاملات سے ڈاکٹر کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ اور نہ علاج کسی خاص طبقہ اور کمیونٹی کیلئے مخصوص ہے ۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!