شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چھوٹے پیمانے پر کی جانیوالی اصلاحات کی وجہ سے ہیلتھ کیئر کے بحران پر کافی حدتک طور پر قابو پایا جاسکتاہے/ریجنل پروگرام منیجرمعراج الدین

چھوٹے پیمانے پر کی جانیوالی اصلاحات کی وجہ سے ہیلتھ کیئر کے بحران پر کافی حدتک طور پر قابو پایا جاسکتاہے/ریجنل پروگرام منیجرمعراج الدین

چترال ( چترال )صحت مند اور تندرست رہنا انسان کا پیدائشی حق ہے اور صحت و تندرستی بیماریوں سے نجات کی صورت میں ہی ممکن ہے،چھوٹے پیمانے پر کی جانیوالی اصلاحات کی وجہ سے ہیلتھ کیئر کے بحران پر کافی حدتک طور پر قابو پایا جاسکتا ہے تمام اسٹاف ہوشاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہارآغاخان ہیلتھ سروس چترال ریجنل منیجرمعراج الدین نے اکیسس (AQCESS)پرجیکٹ کے زیراہتمام علاج معالجے کے مراکزکے انتظامیہ سے متعلق افرادکوہسپتالوں میں ماحولیاتی معیارکے بارے میں استعداد کارکوبڑہانے کے موضوع پردوروزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کنسلٹنٹ ڈاکٹرعلی شاہ،ہیڈآف کمیونٹی ڈویلپمنٹ چترال نصرت جہاں،(AQCESS) پراجیکٹ کے ضلعی کواڈینٹرمیرفیاض اوردیگرنے شراکا ء ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس چترال پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے ڈاکٹروں، ایل ایچ ویز،نرسوں اور دیگراسٹاف کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف ورکشاپس،سمیناراوردیگرپروگرامات انعقاد کررہے ہیں۔جن کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناکرگھرکے دہلیزپرصحت کے بنیادی سہولیات فراہم کرناہے۔ انہوں نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی چترال شعبہ صحت کی ترقی اور عوام کو جدید طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے مختص کردہ وسائل کے ثمرات ہر صورت عام آدمی تک پہنچنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی استعداد کار بڑھانے کے لئے کی جانے والی اصلاحات اورتربیتی ورکشاپ قابل ستائش ہیں۔ انہونے کہاکہ تمام اسٹاف محنت،لگن،دیانتداری اور انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے کی ضرورت ہے۔چترال جیسے پسماندہ وادی کے دور دراز علاقوں میں بہترین سہولیات کی فراہمی ڈاکٹرز اور عملہ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، لوگوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرناہماری ذمہ داری ہے۔ورکشاپ میں اے کے ایچ ایس پی کے مختلف سنٹرز سے 18اسٹاف شرکت کئے پروگرام کے آخرمیں تمام شرکاء ورکشاپ میں سرٹیفیکٹ تقسیم کئے۔

Facebook Comments