شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / آیون کی خوبصورت وادی میں سالار ہاؤس میں رنگ برنگ پھولوں نے جنگل میں منگل کی سماں پیدا کی ہے۔ ان خوبصورت پھولوں کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے لوگ یہاں کا رح کرتے ہیں

آیون کی خوبصورت وادی میں سالار ہاؤس میں رنگ برنگ پھولوں نے جنگل میں منگل کی سماں پیدا کی ہے۔ ان خوبصورت پھولوں کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے لوگ یہاں کا رح کرتے ہیں

آیون کی خوبصورت وادی میں سالار ہاؤس میں رنگ برنگ پھولوں نے جنگل میں منگل کی سماں پیدا کی ہے۔ ان خوبصورت پھولوں کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے لوگ یہاں کا رح کرتے ہیں۔

چترال(گل حماد فاروقی)ایک طرف لوگ کرونا وائریس کی وجہ سے گھروں میں خود ساحتہ قرنطینہ میں قید ہوچکے ہیں اور عافیت بھی اسی میں سمجھا جاتا ہے جو گھر کے اندر رہا  تو دوسری طرف چترال کی  سرزمین یک ایسا حطہ بھی ہے جہاں  لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کے اندر محتلف رنگوں کے پھول لگا رہے ہیں۔

آیون میں سالار ہاؤس میں شاکر الدین سالار نے  اپنے گھر کے اندر ہی محتلف انواع و اقسام کے پھولوں کے پودے لگائے ہیں جن کی دیدہ زیب رنگ اور خوبصورتی انسان کو چند لمحوں کیلئے اپنی جادو سے مسحر کردیتا ہے۔ اس باغ میں ہزاروں قسم کے پھول لگے ہیں۔ شاکر الدین کا کہنا ہے کہ اس کا والد مرحوم بھی پھولوں کا شوق رکھتا تھا اور اسے چترال کے مہتر  شجاع الملک بھی تحفے میں پھول دیتے تھے یعنی پھولوں کی بیچ اور اس بیچ کو اپنے باغ میں لگاتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسے یہ شوق اپنے والد سے منتقل ہوا ہے اور وہ بھی پورے ملک بھر سے ان پھولوں کا تحم لاکر یہاں لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ بعض اوقات اپنی شوق کی تکمیل کیلئے بیرون ممالک سے بھی پھولوں کا بیچ منگواتا ہے۔

آیون گاؤں میں اس خوبصورت باغ کو دیکھنے کیلئے محتلف علاقوں سے سیاح آتے ہیں۔ معروف سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر کا کہنا ہے کہ ان پھولوں کی خوبصورتی کو دیکھ کر انسان ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بیوٹی فیکیشن آف چترال یعنی چترال کی خوبصورتی کیلئے جو پچاس کروڑ روپے کا اعلان ہوا تھا اور اس میں اس قسم  ذوق رکھنے والے  لوگوں کے ساتھ بھی مالی مدد کی جائے تو پورا چترال گل گلزار ہوگا۔ اور یہاں سیاحتوں کا تانتا بندھے گا جس سے اس پسماندہ علاقے کی غربت میں کمی آئے گی۔

اعجاز احمد جو ایک نجی ائیر لائن میں ہے وہ بھی اس باغ کو دیکھنے کیلئے آیا تھا ان کا کہنا ہے کہ میں نے بڑے بڑے شہروں میں اس قسم کے باغوں کو صرف حکومتی سرپرستی میں دیکھا ہے مگر چترال واحد جگہ ہے جہاں ایک شحص نے اپنی مدد آپ کے تحت اتنا خوبصورت باغ لگایا ہے جہاں ہزاروں قسم کے پھول دار پودے لگائے ہیں اور اس میں محتلف انواع و اقسام کے پھول لگے ہیں۔

ابیراحمد  جغور سے اس باغ کو دیکھنے کیلئے آیا ہوا تھا ان کا کہنا ہے کہ اگر ہر شحص شاکر الدین کی طرح شوق رکھے تو پورا ملک پھولوں کا ایک باغ کا منظر پیش کرے گا اور گندگی کی بجائے ہمیں  ہر طرف پھول ہی پھول نظر آئیں گے۔

شاکر الدین نے تو اپنی ذمہ داری پوری کرلی۔اور اپنی مدد آپ کے تحت ایک خوبصورت باغ لگایا جہاں لوگ  دور دراز سے آکر تھوڑی دیر کیلئے محظوظ ہوجاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں نے ایک نرسری بھی لگایا ہے  جہاں پھولوں کے ہزاروں  پودے لگائے ہیں اور اس باغ کو دیکھنے کیلئے پھولوں کی شوقین کو یہ پودے تحفے میں دئے جائیں گے۔

سیاسی او سماجی طبقہ فکر حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے مفید شہریوں کا حوصلہ افزائی ہونا چاہئے اور کم از کم ان کو ایوارڈ وغیرہ سے نوازا  جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور دوسرے لوگوں کو بھی یہ شوق پیدا ہوا اگر حکومتی ادارے اس قسم کے مثبت اور مفید ذوق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ تیکنیکی اور مالی طور پر مدد کرے تو ہمارے ملک میں ہر طرف گندگی کی بجائے پھولوں کے باغ نظر آئیں گے جو نہ صرف زمین کی خوبصورتی ہیں بلکہ حضرت انسان کیلئے   ذہنی تناؤ اور دباؤ سے نجات کا سبب بھی ہے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!